دھماکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دھماکا (انگریزی: Explosion) جدید بم سازی، کیمیاوی ہتھیار سازی، تیز رفتار مشینی حرکات و سکنات میں حجم میں سُرعت سے اضافے اور توانائی کا بے حد جلد اخراج کا نام ہے، جو عمومًا بہت زیادہ حرارت اور گیسوں کے اخراج کے ساتھ انجام پاتا ہے۔ سوپر سانک دھماکے بلند درجے کے دھماکوں کی وجہ سے ہوتے ہیں، جنہیں ڈیٹونیشن کہا جاتا ہے اور یہ سوپر سانک چھٹکوں کی لہروں کے سہارے آگے بڑھتے ہیں۔ سوپر سانک دھماکوں کو کم درجے کے دھماکوں کے ذریعے بنایا اور وجود میں لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے دھیمے جلانے کے طریقے کو بہ روئے کار لایا جاتا ہے جسے ڈی فلیگریشن کہا جاتا ہے۔

ایک دھماکا عام طور سے کسی مقام میں فوری آتش زدگی اور آگ کی تیز لپیٹوں کے پھیلنے پر نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ بموں کے پھٹنے سے کوئی بھی شخص، عمارت یا شے جزوی یا کلی طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔ کئی بار انسانوں کے بموں کے پھٹنے کی وجہ سے چِتھڑے آس پاس کی جگہوں پر بکھر گئے۔ کئی عمارتیں دھماکوں میں ڈھا گئی ہیں۔ سیاسی سازش کے تحت بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی، پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، لبنان کے وزیر اعظم رفیق حریری، افغانستان کے سابق صدر اور سیاسی رہنما برہان الدین ربانی اور چیچنیا کے صدر جمہوریہ احمد قديروف دھماکوں کے ذریعے مختلف وقتوں میں ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

کوہ آتش فشاں کے دھماکے[ترمیم]

دنیا کی کئی بڑی بڑی پہاڑیاں کوہ آتش فشاں کا حصہ بنتی رہی ہیں۔ کوہ آتش فشاں سیکڑوں اور ہزاروں سال سے چلی آ رہی زیر زمین سرگرمی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے تیز شعاعیں اور آگ کی لپٹیں آس پاس کے مقاموں میں پھیل چاتی ہیں۔ اس سے کافی لوگوں کے ہلاک ہونے اور آس پاس کی املاک کو زبر دست نقصان ہونے کا امکان ہوتا ہے۔[1] اس وجہ سے کسی بہاڑی سے کوہ آتش فشاں کے پھٹ پڑنے کی صورت میں اطراف و اکناف کے لوگوں کو نقل مقام کرنے کی صلاحیت دی جاتی ہے کہ وہ محفوظ مقام پر جائیں، خاص طور پر اس وقت تک کہ جب تک پہاڑ پر یہ آتشیں کار روائی رک نہ جائے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]