دھونک مچھلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Synanceia
Synanceia verrucosa Hennig.jpg
Type species Synanceia verrucosa, 1801 illustration
صنف بندی
مملکت: Animalia
ہم نسل: Chordata
جماعت: Actinopterygii
درجہ: Scorpaeniformes
خاندان: Synanceiidae
جنس: Synanceia

یہ دنیا کی سب سے زہریلی مچھلی ہے.دھونک مچھلی کے اعضا خصوصاً جگر، جلد اور بیضہ دانیوں میںٹیٹروڈٹوکسین نامی زہر پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سائنائیڈ سے200 گنا زیادہ طاقتور زہر ہے۔جب دھونک مچھلی زہریلی نباتات کھائے تو اس میں یہ زہر جنم لیتا ہے۔ ٹیٹروڈُٹوکسین کھانا پکانے کے دوران تلف نہیں ہوتا۔ جب اس کی معمولی سی مقدار بھی جسم کے اندر پہنچے تو وہ انسان کو مکمل طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان سانس نہیں لے پاتا، چنانچہ چند ہی منٹ میں وہ عالم بالا پہنچ جاتا ہے۔ اذیت ناک بات یہ ہے کہ مفلوج حالت میں مرتے دم تک انسان ہوش و حواس میں رہتا ہے۔ 2000ء سے اب تک جاپان میں فوگو کھانے سے 23 افراد جان بحق ہو چکے۔ تاہم ان میں کوئی بھی ریستوران میں ہلاک نہیں ہوا۔ یہ سبھی ماہی گیر تھے۔ انھوں نے جب گھر میں مچھلی پکا کر کھائی تو ناتجربہ کاری کے باعث زہر بھی چڑھا گئے۔ یوں موت ان کا مقدر بن گئی۔


یہ دنیا کی سب سے زہریلی مچھلی ہے۔ لیکن اسی خطرناک حیوان کو جاپانی مزے لے لے کر کھاتے ہیں بلکہ اس سے بنی ڈش دنیا کی مہنگی ترین ڈشوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایک فوگو پلیٹ کی قیمت120ڈالر ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ قیمت تقریباً بارہ ہزار روپے بنتی ہے۔ مچھلی کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی انسان کو عالم بالا میں پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ اسی لیے دھونک ماہی تیار کرنے والے شیف یا باورچی خود کو عام باورچیوں سے بلند مرتبہ یا طبقہ ایلیٹ میں شامل سمجھتے ہیں۔ ایسا سمجھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دھونک مچھلی پکانے کا عمل بڑی محنت و دیانت سے سیکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگی ہونے کے باوجود جاپانی کونیو موراکے ریستوران باقاعدہ وقت لے کر فوگو کھانے آتے ہیں۔ دراصل دیوار پر لٹکا کونیو کا لائسنس انھیں تقویت بخشتا ہے۔ جاپان میں صرف لائسنس یافتہ باورچی ہی فوگو تیار کر سکتا ہے۔ کونیو زندہ مچھلی کاٹ کر پکائی کا آغاز کرتا ہے۔ ریستوران کے ٹینک میں ہر وقت 50،60 دھونک مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں۔ جب کوئی آرڈر آئے تو کونیو مچھلی ٹینک سے نکالتا اور اس سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔[1]


== حوالہ جات ==

  1. http://urdudigest.pk/duniya-ki-sb-se-zehreeli-machili/