دہشت گردی اور فتنہ خوارج (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دہشت گردی اور فتنہ خوارج
مصنف ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ملک پاکستان
زبان اردو، متعدد زبانوں میں ترجمہ
موضوع اسلام دین امن، مسلمانوں و غیرمسلموں کے قتل عام کی ممانعت، جہاد کا مقصد امن عالم، دہشت گردی کی ممانعت، غیرمسلموں کے جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ، مسلم ریاست میں مسلح بغاوت کی ممانعت، فتنہ خوارج، عصر حاضر کے دہشت گرد، مسلم ریاست میں اعلاءِ کلمہ حق کا پرامن منہاج، دعوت فکر و اصلاح
صنف اسلام، دہشت گردی اور امن عالم
ناشر منہاج القرآن پبلیکیشنز
تاریخ اشاعت
جنوری 2010ء
ذرائع ابلاغ لطیف اور کثیف جلد
صفحات 605
ویب سائٹ [1]، [2]

دہشت گردی اور فتنہء خوارج ڈاکٹر طاہرالقادری کا مبسوط تاریخی فتوی جس میں دہشت گردی کی مذمت کی گئى ہے اور خودکُش حملوں کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیاگیا ہے۔ یہ فتویٰ 2 مارچ 2010ء کو لندن میں ایک تقریب میں جاری کیا گیا، [1] جس کی تشہیر کا انتظام کوئیِلیم فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ یہ فاؤنڈیشن انتہا پسندی کے خلاف ریسرچ کا ایک ادارہ ہے۔ اس تقریب کی سیکڑوں ویب سائٹس [2] اور متعدد ٹی وی چینلز نے براہ راست کوریج کی۔[3]

ڈاکٹر قادری نے اپنے فتوے میں لکھا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور خودکُش حملے کرنے والے شہادت کا مرتبہ پانے کی بجائے جہنم پاتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی ناحق جان لینا یا اسے اذیت دینا فعل حرام ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ انسان مسلم ہے یا غیر مسلم۔ دہشت گردی کے موجودہ واقعات میں ملوث خودکش بمبار قتل اور خودکشی جیسے دو حرام امور کے مرتکب ہوکر صریحا کفر کر رہے ہیں۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بحائے دلیل، منطق، گفت و شنید اور پرامن جدوجہد کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بالعموم جہالت اور عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آیات قرآنی، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تصریحات ائمہ فقہ کی روشنی میں بغاوت کی حرمت و ممانعت واضح ہے۔ اس سلسلے میں احادیث کے علاوہ صحابہ کرام، تابعین، ائمہ اربعہ اور دیگر جلیل القدر ائمہ دین کے نزدیک مسلم ریاست کے خلاف بغاوت، فتنہ و فساد اور محاربت کے زمرے میں آتی ہے، جس کی حرمت قطعی پر اجماع امت ہے۔ مسلم حکومت میں نظمِ ریاست اور ہیئت اجتماعی کے خلاف ہتھیار اٹھانا ’’خوارج‘‘ کا کام ہے، جس کی شدید مذمت اور اس کے خلاف عملی اقدامات تعلیمات اسلام اور اسلامی تاریخ کا مستقل باب ہے۔ عہد حاضر کے دہشت گرد بھی درحقیقت انہی خوارج کا تسلسل ہیں، لہٰذا ان کی سرکوبی اور مکمل خاتمے کے لیے بھی اسی طرح اقدامات ضروری ہیں جس طرح قرون اُولیٰ میں اٹھائے گئے تھے۔

دہشت گردی سے عالمی انسانی برادری میں امن و سکون، باہمی برداشت و رواداری اور افہام و تفہیم کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر قادری نے ملت اسلامیہ اور پوری دنیا کو دہشت گردی کے مسئلے پر حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے اسلام کا دوٹوک مؤقف قرآن و سنت اور کتب عقائد و فقہ کی روشنی میں پیش کیا ہے تاکہ غلط فہمی اور شکوک و شبہات میں مبتلا حلقوں کو دہشت گردی کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر سمجھنے میں مدد مل سکے۔

اس کتاب کے درج ذیل ابواب ہیں:

اسلام کا معنی و مفہوم[ترمیم]

اس باب میں حوالہ جات کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کے لیے نام ہی اسلام پسند کیا ہے۔ اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔[4]

مسلمانوں کے قتل کی ممانعت[ترمیم]

اس باب میں کہا گیا ہے کہ سیاسی، فکری یا اعتقادی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کی اکثریت کو کافر، مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہوئے انہیں بے دریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی کیا اہمیت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ فولادی اور آتشیں اسلحہ سے لوگوں کو قتل کرنا تو بہت بڑا اقدام ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ اِسلام کو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے محض اشارہ کرنے والے کو بھی ملعون و مردود قرار دیا ہے۔

غیر مسلموں کے قتل عام اور ایذا رسانی کی ممانعت[ترمیم]

اس باب میں یہ تحقیق کی گئی ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ اُن حقوق میں سے پہلا حق جو اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ کی طرف سے انہیں حاصل ہے وہ حقِ حفاظت ہے، جو انہیں ہر قسم کے خارجی اور داخلی ظلم و زیادتی کے خلاف میسر ہوگا تاکہ وہ مکمل طور پر امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

دوران جنگ غیر مسلموں کے قتل عام اور دہشت گردی کی ممانعت[ترمیم]

اس باب میں اسلام کے جنگی قوانین پر بحث کی گئی ہے، اسلامی جنگی قوانین کے مطابق غیر جانب دار افراد یا ممالک کے ساتھ جنگ نہیں کی جائے گی، خواہ ان کے ساتھ نظریاتی اختلاف کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ اسلام نے ایسے غیر جانب دار لوگوں کے ساتھ پرامن رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اسلام خواہ مخواہ جنگ یا تصادم کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ہر انسانی جان کا احترام کرتا ہے اور انسانی خون کی حرمت کی پاسداری کا ہر سطح پر پورا پورا اہتمام کرتا ہے۔

غیر مسلموں کے جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ[ترمیم]

اس باب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ادوار میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے انتظامات بارے جائزہ لیا گیا ہے۔ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔ عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے۔

مسلم ریاست اور نظمِ اِجتماعی کے خلاف مسلح بغاوت کی ممانعت[ترمیم]

اس باب میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ مسلمان ریاست میں دہشت گردی اور بغاوت کتنا بڑا اور سنگین جرم ہے۔ قبل ازیں مسلم ریاست میں مسلمانوں کو ایذاء رسانی، غیر مسلم شہریوں کے قتل کی ممانعت اور حالت جنگ میں بھی دشمن قوم کے غیر محارب افراد حتيٰ کہ ان کی اَملاک اور زراعت کو نقصان پہنچانے سے گریز پر مبنی اسلامی تعلیمات اور احکامات کو بیان کیا گیا ہے۔

فتنہ خوارج اور عصر حاضر کے دہشت گرد[ترمیم]

اس باب میں خوارج کی علامات و خصوصیات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ موجود دور کے دہشت گرد عناصر کا فکری و عملی طور پر خوارج سے کیا تعلق ہے۔ خوارج کی یہ علامت بھی ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں نعوذ بااللہ

مسلم ریاست میں اعلاءِ کلمہ حق کا پرامن منہاج[ترمیم]

اس باب میں بحث کی گئی ہے کہ اگر مسلمان حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف مسلح جد و جہد نہیں کر سکتی تو پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ کیا حکمرانوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں اور اہل حق خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہیں؟ ان حالات میں مسلمان شہریوں پر کوئی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ اگر ایک طرف اسلام مسلم ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کی حمایت نہیں کرتا تو دوسری طرف اس کے ظلم و جبر اور غیر عادلانہ و غیر صالحانہ رویوں پر خاموش رہنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اس حوالے سے اسلامی ریاست کے شہریوں کے لیے برائی کو روکنے، ظلم کو مٹانے اور احوال کو سدھارنے کی جد و جہد میں کون سے راستے کھلے ہیں؟

دعوت فکر و اصلاح[ترمیم]

اس باب میں تمام اہل فکر و دانش کو کہا گیا ہے کہ انہیں یہ سوچنا ہے کہ قوم کو موجودہ خطرناک صورت حال تک پہنچانے میں خود ان کا اپنا کتنا کردار ہے۔ دوسروں پر الزام دھرنے کی بجائے اپنے حصے کی کوتاہیوں اور غلطیوں کے ادراک، اعتراف اور ان کی تلافی وقت کا تقاضا ہے اور اسی میں خانقاہی نظام کی بقا کا راز بھی مضمر ہے۔ انہیں خود کو اپنے اسلاف کے اَخلاق و اَوصاف سے مزین کرکے خانقاہوں کے تعلیمی، تربیتی اور فلاحی کردار کا احیاء کرنا ہوگا۔ اس کارِ خیر کے لیے ان کے پاس نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ جوہر قابل کی۔ بس احساس زیاں، عزم راسخ اور قوت عمل کی ضرورت ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]