دیریلش: ارطغرل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈراما دیریلس Diriliş
نوعیتتاریخ
ہدایات(اردو ڈبنگ) سلیمان شیراز
پیش کردہچینل ہم ستارے
زباناردو
تعدادِ دور5
اقساط400
پروڈکشن ادارہVisual World
نشریات
چینلہم ستارے
تصویری قسمDV Pal
نشر اوّلپیر تا بدھ ۔ شب 9 بجے
24 اگست 2015ء (2015ء-08-24)
بیرونی روابط
ویب سائٹ
پروڈکشن ویب سائٹ

ڈراما سیریل دیریلس ( ترکی: Diriliş ) جو ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی 'آنے والا' یا ' قیامت ' کے ہیں۔ جمہوریہ ترکی میں سرکاری ٹی وی چینل TRT 1 پر پیش کیے گئے ڈرامے Diriliş Ertuğrul کا اردو ترجمہ ہے۔ جو پاکستان میں ہم ٹی وی نیٹ ورک کے چینل ہم ستارے پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ ترکی کی تاریخ میں ڈرامے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے ترکی کے بنائے ہوئے کئی ڈرامے پاکستان میں اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیے گئے جن میں سے تاریخی موضوعات پر بنائے ہوئے ڈراموں نے زیادہ مقبولیت حاصل کی ۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

زیر نظر ڈراما سلطنت عثمانیہ (موجودہ ترکی) کی اس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے جو سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ان کا نام ارطغرل تھا اور انہيں غازی ارطغرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ 1230ء-1281ء کا تھا۔ اور یہ ایک خانہ بدوش قبیلہ قائی کے سردار تھے۔ ان کے والد سلیمان شاہ تھے ۔

ڈراما[ترمیم]

ترکی[ترمیم]

ترکی میں پیش کیے جانے والے اس ڈراما کے خالق محمد بزدک(ترکی: Mehmet Bozdağ) اور کمال تکدن (ترکی: Kemal Tekden) ہیں۔

پاکستان[ترمیم]

اس ڈرامے کے دنیا کے کئی ممالک میں تراجم ہو رہے ہیں۔ جن میں سے پاکستان میں اس ڈرامے کا اردو ترجمہ ویژول ورلڈ کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔ ڈبنگ ڈائریکٹر سلیمان شیخ ہیں جو اس سے پہلے بھی کئی ترکی ڈرامے جیسے کارادئی اور میرا سلطان جیسے بڑے پراجیکٹ کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ اس ڈرامے کا سیزن ون سے دور تک GiveMe5 نامی ادارہ اردو سبٹائٹل میں پیش کررہا ہے اور سیزن فائیو بھی ملٹی ویوز ادارہ پیش کررہا ہے

نشر[ترمیم]

ترکی زبان[ترمیم]

ترکی میں یہ ڈراما دسمبر 2014 میں پیش کیا گیا اور پہلے سیزن میں اس کی 76 اقساط نشر ہو چکی ہیں۔ چار سیزن آ چکے ہیں اور پانچواں جاری یے۔ ڈراما اپنی مقبولیت کی انتہا پر ہے ۔

اردو زبان[ترمیم]

پاکستان میں یہ ڈراما اردو میں چینل ہم ستارے پر 24 اگست 2015 سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ہفتے میں اس کی تین اقساط پیر سے بدھ کی شب 9بجے نشر ہو رہی ہیں۔ جب کہ اگلے روز تین وقتوں میں نشر مکرر پیش کی جا رہی ہیں۔

۔پہلے سیزن کو اردو ترجمے میں پیش کرنے کے بعد ہم ستارے نے اس کو روک دیا اور اس کے بعد ڈبنگ تو نہیں مگر اردو سبٹائیٹلز کے ساتھ اس کے سیزن 2 ، 3 اور 4 کو جاری رکھنے کا بیڑا     GIVEME5  کی ٹیم نے اٹھایا۔ وہ اس وقت سیزن فور کے آخری حصے تک پہنچ چکے ہیں اور اس کے بعد سیزن فور اور فائو کو بھی جاری رکھیں گے. ۔ اس کے لیے ان کی ویب سائٹ giveme5.co پر جا کر دیکھیں

کردار[ترمیم]

کردار (اردو نام ) ترکی اداکار اردو صداکار تفصیل
غازی ارطغرل Engin Altan Düzyatan عارف باحلیم ڈرامے کا مرکزی کردار اور ہیرو، عثمانیہ سلطنت کی بنیاد رکھنے والا قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ اور حائمہ خاتون کا چھوٹا بیٹا، تاریخ کا ابھرتا کردار
سلیمان شاہ Serdar Gökhan اطہر رضا اجنبی قائی قبیلے کا سردار، ارطغرل کا باپ، عثمان اول کا دادا
حائمہ خاتون Hülya Darcan شیریں اختر سلیمان شاہ کی بیوی، غازی ارطغرل اور گوندوگلو کی ماں اور عثمان اول کی دادی .
گوندوعدو (گل دارو) Kaan Taşaner سعود ظفر سلیمان شاہ کا بڑا بیٹا، غازی ارطغرل کا بڑا بھائی .
حلیمہ خاتون Esra Bilgiç ایمن ڈرامے کی مرکزی کردار اور ہیروئن، غازی ارطغرل کی بیوی اور عثمان اول کی ماں۔ اس کا تعلق سلجوق خاندان سے تھا اور یہ شہزادہ نعمان کی بیٹی تھی ۔
ابن عربی Osman Soykut انیل چوہدری اندلسی صوفی بزرگ، ایک روحانی شخصیت جو ارطغرل اور اس کے ساتھیوں کی قدم قدم پر رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔
تیتش Serdar Deniz ناصر محمود صلیبی جنگجوؤں کا سردار، جو غازی ارطغرل کے ہاتھوں اپنے چھوٹے بھائی کا ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔
ترگت الپ Cengiz Coşkun آصف ملک ارطغرل کے جنگ و امن کے دور کا ساتھی ۔
آئکز (شاہینہ) Hande Subaşı فائزہ حائمہ خاتون کی منہ بولی بیٹی اور ترگت کی بیوی
سلجان خاتون (شہناز) Didem Balçın انجمن گل دارو کی بیوی، سلیمان شاہ اور حلیمہ خاتون کی بہو۔
دمیر Mehmet Çevik آغا سجاد قائی قبیلے کا لوہار اور سردار سلیمان شاہ کا قریبی دوست .
کرداغلو Hakan Vanlı وحید اللہ خان سردار سلیمان شاہ کا بھائی اور قبائلی معزز۔ ایک خود غرض شخص .
کاراتوئیگر - - ایک سلجوق سردار سلطان علاؤ الدین کے لیے قائی قبیلے کے خلاف کام کرتا ہے .
بامسی(بابر) Nurettin Sönmez ارطغرل چوہدری ارطغرل کا قریبی دوست۔ ترگت اور روشان کا ساتھی .
روشان Cavit Çetin Güner نعمان خان ارطغرل کا قریبی دوست۔ بابر اور ترگت کا ساتھی .
افشین بے (عارفین) Turgut Tunçalp جمال مجیب سلجوق سلطنت کا ایک کماندار۔
گوکچے (روشنی) Burcu Kıratlı نمرہ سلجان خاتون کی چھوٹی بہن۔ ارطغرل کو پسند کرتی ہے۔ .
شہزادہ نعمان Sedat Savtak خالد ظفر سلجوق سلطنت کا جلاوطن شہزادہ۔ حلیمہ خاتون کا باپ۔ .
استاد اعظم - پیتروچو Levent Öktem شاہ رخ مرزا صلیبی جنگجوؤں کا رہنما۔ جس کی زندگی کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا کر یروشلم واپس حاصل کرنا ہے۔ .
لیعیت (شہیر) Burak Temiz ظفر جمال شہزادہ نعمان کا بیٹا اور حلیمہ خاتون کا چھوٹا بھائی .
امیر العزیز Mehmet Emin İnci اسد گجر حلب کا سلطان۔
شہاب الدین Gökhan Atalay خرم جمال سلطان العزیز کا ماموں .
اکچا کوجہ (آغا جان) Hamit Demir ۔ قائی معزز اور سردار سلیمان شاہ کا گہرا دوست .
الیاس فقیہہ Fahri Öztezcan طارق منصور ابن عربی کے مرید اور ارطغرل کے ساتھی .

پہلا دور[ترمیم]

دیریلس
ملکپاکستان
تعداد اقساط76
Release
چینلہم ستارے
اجرا24 اگست 2015ء (2015ء-08-24) – 16 فروری 2016 (2016-02-16)

کہانی[ترمیم]

پہلا سیزن:

کہانی کی شروعات ''' اوغوز''' ترک نسل کے ''' قائی''' قبیلے کے ہجرت کے منظر سے ہوتی ہے جب یہ قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے دوران میں ہجرت پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ 400 خیموں سے آباد یہ بستی اپنی نئی منزل کی تلاش میں تھی۔ یہ تیرہویں صدی کا زمانہ تھا۔ قحط کے مشکل وقت سے گزرنے کے بعد وہ ایک بہتر جگہ کی طرف ہجرت کرنے کا عزم کرتے ہیں جہاں وہ نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ سلیمان شاہ قائی قبیلے کا سردار ہے۔ سلیمان شاہ کے چار بیٹے ہیں جن میں، گندوگدو (گلدارو)، سنگورتیکن (صارم)، ارتغل اور سب سے چھوٹا دوندار (ذوالجان) ہے۔ صارم کو منگولوں نے پکڑ لیا تھا اور وہ لاپتہ ہے، اسے مردہ سمجھا جاتا ہے، جس پر حائمہ خاتون (سلیمان شاہ کی بیوی) کو یقین نہیں ہے۔ اس کے دو بیٹے گلدارو اور ارتغل اس کے وفادار ہیں اور قبائلی امور میں حصہ لیتے ہیں۔ قبائلی امور میں بھر پور شرکت کے لیے ذوالجان کی ابھی عمر نہیں ہے۔ سلیمان شاہ کا ایک بیٹا ارتغل اکثر تین قریبی دوستوں بامسی (بابر)، دوہان (روشان) اور تورگت (نورگل) کے ساتھ شکار پر جاتا ہے۔ شکار کے دوران میں ان کا سامنا ٹیمپلرز سے ہوتا ہے جو تین قیدیوں کو لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ ارتغل اور اس کے دوست ٹیمپلرز کو مار دیتے ہیں اور ان تینوں قیدیوں ایک نوجوان لڑکی جس کا نام حلیمہ سلطان (Esra Bilgiç) ہے، اس کے باپ شہزادہ نعمان اور اس کے بھائی لیعیت (شہیر) کی جانیں بچا لیتے ہیں جن کو پھانسی دی جانی تھی۔ ارتغل اور اس کے دوست ان بازیاب شدہ قیدیوں کی اصل شناخت (کہ ان کا تعلق سلجوق سلطنت کے ایک عظیم گھرانے سے ہے) جانے بغیر انکو اپنے قبیلے لے آتے ہیں۔ ایک بار پھر پکڑے جانے کے خوف نے حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کو ان کی اصل شناخت ظاہر نہ کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ قبیلے میں حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کی آمد سے قائی قبیلے کو نئی مشکلات آجاتی ہیں۔ سلجوق سلطنت حلیمہ اور اسکی فیملی کو واپس نہ کرنے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دیتی ہے اور ٹیمپلرز نے قیدیوں کو بچانے کا بدلہ لیا اور نورگل کو قید کر لیا جو بعد ازاں آزاد کروا لیا جاتا ہے۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے کچھ خانہ بدوش افراد سلیمان شاہ کو ان مسائل سے بچنے میں ناقص قیادت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس گروہ کی بدامنی سلیمان شاہ کے منہ بولے بھائی کردوغلو کی خواہش کے باعث ہے۔ کردوغلو کی خواہش سلیمان شاہ کو ہٹانے اور قائی قبیلے کے سردار کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھالنا ہے۔ سلجان ہاتون (شہناز خاتون گلدارو کی بیوی) حلیمہ اور اسکی فیملی کے خلاف ہے لہٰذا وہ گوکچے ہاتون (روشنی خاتون)اور آئیکز (شاہینہ) سے سرگوشی کرتی ہے۔ بدامنی کو حل کرنے کی کوشش میں سلیمان شاہ ارتغل کو اپنے قبیلے کے لئے ایک نیا مقام تلاش کرنے کے مشن پر بھیجتا ہے۔ خاص طور پر وہ ارتغل اور اسکے تین ساتھیوں کو امیر حلب العزیز سے معاہدہ کرنے کے لیے حلب بھیجتا ہے جہاں اتغل کو پتہ چلتا ہے کہ امیر حلب کے محل میں صلیبی مسلمانوں کا روپ دھارے ہوئے کام کر رہے ہیں کو کہ اپنی چالوں سے ارتغل کو قید کروا دیتے ہیں لیکن وہ کچھ شیر دلوں کی مدد سے آزاد ہو جاتا ہے۔ شہزادہ نعمان اور اس کی بیٹی حلیمہ سلطان بھی حلب میں جاتے ہیں جہاں پر امیر حلب حلیمہ سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن حلیمہ سلطان عین نکاح کے وقت انکار کر دیتی ہے۔ بعد ازاں امیر حلب کو سچائی کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ ارتغل سے معذرت کرتا ہے۔ کردوغلو کی غداری سامنے آ جاتی ہے اسکی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے۔ جبکہ شہناز خاتون بھی توبہ تائب ہو جاتی ہے۔

دوسراسیزن:

دوسرے سیزن میں ارتغل کو بائیو نویان کی سربراہی میں منگولوں کے سپاہی اپنے سربراہ تنکوت سے مل کر قید کرلیتے ہیں۔ دریں اثناء حائمہ خاتون کی سربراہی میں قائی قبیلہ نے دودورگا قبیلہ سے پناہ مانگی ہے، جس کی سربراہی حائمہ خاتون کا بھائی کورکوت بے (سردار خوشنود) کر رہا ہوتا ہے۔ ارتغل کا منگولوں سے فرار اور اس کے نتیجے میں اس کے قبیلے میں واپسی اس کے اور اس کے کزن توتیکین (تیمور خوشنود کا بیٹا جو دودورگا کے سپاہیوں کا سربراہ ہے) کے درمیان میں اندرونی تنازعہ پیدا کرتی ہے۔ خوشنود کی دوسری بیوی ایتولن (عالیہ خاتون) اس کی پیٹھ کے پیچھے پلان بناتی ہے تاکہ اس کا بھائی گومیشتکین (مہر دین) امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے سردار بن سکے۔ بعدازاں جب وہ حلیمہ خاتون اور شہناز خاتون پر حملہ کر رہی ہوتی ہے تو قائی سپاہی عبدالرحمن اسے قتل کر دیتا ہے۔ ارتغل کے طویل گمشدہ بھائی صارم کی آمد سے تناؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سردار خوشنود کے قتل میں سہولت کار بننے کے جرم میں مہردین کی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے ۔ نویان تیمور اور روشنی خاتون کو شہید کر دیتا ہے۔ شہزادہ شہیر اور ذوالجان نویان کی قید میں آ جاتے ہیں لیکن بعد میں آزاد کروا لیے جاتے ہیں۔ نویان کو شکست دینے کے بعد قائی قبیلہ اناطولیہ کی مغربی سرحد پر ارتغل کے ساتھ شامل ہونے یا گلدارو اور صارم کے ساتھ رہنے کے درمیان میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ آخر میں ارتغل اس کے بھائی ذوالجان، حلیمہ سلطان اور حائمہ خاتون کے ساتھ 400 دیگر افراد نے بھی اناطولیہ کے مغربی کنارے کا سفر کیا اور باقی قائی قبیلے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ راستے میں شہزادہ شہیر شہید ہو جاتا ہے۔

تیسرا سیزن:

تیسرے سیزن میں ارتغل اناطولیہ کے مغربی خطے کے سب سے طاقتور چاوادر قبیلے کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتا ہے۔ کیندار بے (سردار جاندار چاودار قبیلے کا سردار) اور اس کے بچے اورال، اصلیہان اور آلیار کی سربراہی میں چاودار تجارت میں بہت ہنر مند ہیں۔ تاہم اورال شیطانی ذہن کا لالچی انسان ہے اور اپنے والد کی جگہ سرداری کی تلاش میں ہے اور اس کے حصول کے لئے کچھ بھی کرتا ہے۔ ہانلی بازار پر ارتغل کی فتح کے بعد اورال کو ارتغل کی قالینوں کو جلانے، اس کے سپاہیوں کو شہید کرنے اور کاراچائیسار ( عیسائیوں کا قلعہ) کے گورنر کے قتل کے جرم میں اس کے کردار پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے اورال کو رہا کیا گیا ہے اور وہ ترکوں کے ساتھ خونی جنگ کے خواہاں کاراچائیسار کے نئے کمانڈر وسیلوس سے مدد مانگ رہا ہے۔ ارتغل نے آلیار کے ساتھ مل کر اورال اور وسیلوس کو شکست دینے کا عزم کیا لیکن آلیار شہید ہو جاتا ہے۔ ارتغل کا بیٹا گوندوز پیدا ہوتا ہے اور بابر نے حیلینہ (مقتول گورنر کی بیٹی) سے شادی کی ہے جو بعد میں مسلمان ہوگئی اور اس کا نام حیلینہ سے تبدیل کر کے حفصہ خاتون رکھا جاتا ہے۔ چاودار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے ارتغل نے نورگل سے درخواست کی کہ وہ اصلیہان سے شادی کرے جو وہ قبول کرتا ہے۔ ارتغل کو سلطان علاؤالدین نے سردارِ اعلیٰ کا خطاب دیا ہے جو سعدتین کوپیک کو غصے میں پاگل کر دیتا ہے اور وہ ارتغل کو تباہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔ کاراچائیسار کے نئے کمانڈر آرس کے ساتھ مل کر کوپیک نے ارتغل کے لئے ایک جال بچھایا اور بظاہر سیزن کے اختتام پر اسے شہید کردیا۔