دیناری عورت (صحابیہ)
| دیناری عورت | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| درستی - ترمیم |
دیناری عورت یہ ایک جلیل القدر صحابیہ تھیں جن کا ایک عظیم واقعہ کتبِ سیرت و احادیث میں مذکور ہے، جو ان کے صبر، اللہ کے فیصلے پر ایمان اور رسول اللہ ﷺ سے شدید محبت اور خلوص کا روشن نمونہ ہے۔[1][2]
دیناری عورت کا واقعہ
[ترمیم]صحابی رسول سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اُحد کے دن ایک عورت کے پاس سے گذرے جو بنو دینار کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے شوہر، بھائی اور والد تینوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ احد میں شہید ہو چکے تھے۔ جب ان کی شہادت کی خبر اس عورت کو سنائی گئی، تو اس نے صرف یہ پوچھا:
| ” | "رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا؟" | “ |
لوگوں نے کہا: "اے اُمِ فلاں! رسول اللہ ﷺ خیریت سے ہیں، جیسے تم چاہتی ہو، ویسے ہی ہیں۔" تو وہ بولیں:
| ” | "مجھے رسول اللہ کو دکھاؤ، میں خود انھیں دیکھنا چاہتی ہوں۔" | “ |
جب اسے رسول اللہ ﷺ دکھائے گئے اور اس نے آپ کو اپنی آنکھوں سے صحیح سلامت دیکھا، تو بولی:
| ” | "آپ کے بعد ہر مصیبت میرے لیے معمولی ہے!"[1] | “ |
- ایک دوسری روایت میں ہے:
ایک عورت بنی دینار کے قبیلے سے اپنے گدھے پر سوار ہو کر آئی۔ لوگ اسے تعزیت دینے لگے۔
کسی نے کہا: "تمھارے بھائی کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ کا کیا حال ہے؟"
دوسرے نے کہا: "تمھارے شوہر کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ کا کیا ہوا؟"
تیسرے نے کہا: "تمھارے والد کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟"
لوگوں نے کہا: "وہ بخیر و عافیت ہیں، زندہ ہیں اور کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔"
تو وہ کہنے لگیں: "مجھے دکھاؤ، میں انھیں دیکھنا چاہتی ہوں۔" جب آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو کہا:
| ” | "اب تو آپ کے بعد کوئی مصیبت میرے لیے بڑی نہیں رہی!"[3] | “ |
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب د علي الصلابي۔ "دروس في الصبر تقدمها صحابيات حول الرسول"۔ www.aljazeera.net (بزبان عربی)۔ 2021-06-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24
- ↑ "فصل: المرأة الدينارية|نداء الإيمان"۔ www.al-eman.com۔ 2019-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24
- ↑ "ص24 - كتاب دروس للشيخ إبراهيم الفارس - قصة المرأة الدينارية التي اهتمت بالرسول واحتسبت زوجها وأخاها وأباها - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔ 24 سبتمبر 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاريخ أرشيف=(معاونت)