مندرجات کا رخ کریں

دیناری عورت (صحابیہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دیناری عورت
معلومات شخصیت

دیناری عورت یہ ایک جلیل القدر صحابیہ تھیں جن کا ایک عظیم واقعہ کتبِ سیرت و احادیث میں مذکور ہے، جو ان کے صبر، اللہ کے فیصلے پر ایمان اور رسول اللہ ﷺ سے شدید محبت اور خلوص کا روشن نمونہ ہے۔[1][2]

دیناری عورت کا واقعہ

[ترمیم]

صحابی رسول سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اُحد کے دن ایک عورت کے پاس سے گذرے جو بنو دینار کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے شوہر، بھائی اور والد تینوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ احد میں شہید ہو چکے تھے۔ جب ان کی شہادت کی خبر اس عورت کو سنائی گئی، تو اس نے صرف یہ پوچھا:

"رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا؟"

لوگوں نے کہا: "اے اُمِ فلاں! رسول اللہ ﷺ خیریت سے ہیں، جیسے تم چاہتی ہو، ویسے ہی ہیں۔" تو وہ بولیں:

"مجھے رسول اللہ کو دکھاؤ، میں خود انھیں دیکھنا چاہتی ہوں۔"

جب اسے رسول اللہ ﷺ دکھائے گئے اور اس نے آپ کو اپنی آنکھوں سے صحیح سلامت دیکھا، تو بولی:

"آپ کے بعد ہر مصیبت میرے لیے معمولی ہے!"[1]
  • ایک دوسری روایت میں ہے:

ایک عورت بنی دینار کے قبیلے سے اپنے گدھے پر سوار ہو کر آئی۔ لوگ اسے تعزیت دینے لگے۔

کسی نے کہا: "تمھارے بھائی کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ کا کیا حال ہے؟"

دوسرے نے کہا: "تمھارے شوہر کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ کا کیا ہوا؟"

تیسرے نے کہا: "تمھارے والد کی شہادت پر صبر کرو"، تو وہ بولیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون، لیکن رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟"

لوگوں نے کہا: "وہ بخیر و عافیت ہیں، زندہ ہیں اور کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔"

تو وہ کہنے لگیں: "مجھے دکھاؤ، میں انھیں دیکھنا چاہتی ہوں۔" جب آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو کہا:

"اب تو آپ کے بعد کوئی مصیبت میرے لیے بڑی نہیں رہی!"[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب د علي الصلابي۔ "دروس في الصبر تقدمها صحابيات حول الرسول"۔ www.aljazeera.net (بزبان عربی)۔ 2021-06-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24
  2. "فصل: المرأة الدينارية|نداء الإيمان"۔ www.al-eman.com۔ 2019-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24
  3. "ص24 - كتاب دروس للشيخ إبراهيم الفارس - قصة المرأة الدينارية التي اهتمت بالرسول واحتسبت زوجها وأخاها وأباها - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔ 24 سبتمبر 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-24 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاريخ أرشيف= (معاونت)