دین محمد وفائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دین محمد وفائی
معلومات شخصیت
پیدائش 4 اپریل 1894  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحصیل گڑھی یاسین، ضلع شکارپور، بمبئی پریزیڈنسی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 اپریل 1950 (56 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سکھر، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سوانح نگار، صحافی، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک خلافت  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کرکٹ  ویکی ڈیٹا پر کھیل (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

مولانا دین محمد وفائی (پیدائش: 4 اپریل، 1894ء - وفات: 10 اپریل، 1950ء) سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز سیاستدان، عالم دین، سوانح نگار، صحافی، تذکرہ نویس، ادیب اور تحریک خلافت کے سرگرم کارکن تھے۔ انہوں نے صحافت کے ذریعے انگریز سامراج سے آزادی کے لیے مسلمانان ہندو پاکستان کی ذہن سازی کا کردار ادا کیا اور مسلم تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے پر زور دیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

دین محمد وفائی 4 اپریل، 1894ء کو سندھ میں ضلع سکھر (موجودہ شکارپور) تعلقہ گڑھی یاسین کے گاؤں نبی آباد، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے[1][2]۔ ان کے والد کا نام خلیفہ گل محمد بھٹی تھا[3]۔ فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی سے بطور معلم وابستہ ہوئے۔ کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے صحافت کی طرف بھرپور توجہ دی اور الوحید اور الحزب سے وابستہ رہے۔ 1936ء میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے وقت انہوں نے الوحید کا سندھ آزاد نمبر شائع کیا جو صوبہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔[1]

سیاست[ترمیم]

دین محمد وفائی تحریک خلافت سے وابستہ رہے[4]۔ وہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک اور تحریک پاکستان کے بھی سرگرم کارکن تھے۔

تصانیف[ترمیم]

دین محمد وفائی نے 22 کتابیں تحریر کیں جن میں تین جلدوں میں شائع ہونے والا تذکرہ مشاہر سندھ بڑی علمی شان رکھتا ہے[1]۔ اس کے علاوہ ان دیگر تصانیف یہ ہیں:

  • تاریخ محمد مصطفیٰ
  • فاروق اعظم
  • صدیق اکبر
  • سیرت عثمان
  • حیدرِ کرار
  • خاتونِ جنت
  • قرآنی صداقت
  • ہندو دھرم اور قربانی
  • اظہار الکرامت
  • لطفِ لطیف
  • شاہ جی رسالے جو مطالعو
  • مقصد زندگی
  • راحت الروح تذکرہ مخدوم نوح ہالائی

وفات[ترمیم]

10 اپریل، 1950ء کو پاکستان کے نامور عالم دین، صحافی اور تحریک خلافت کے کارکن مولانا دین محمد وفائی سکھر، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][2][4]

حوالہ جات[ترمیم]