دیوان کوڑا مل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دیوان کوڑا مل مہاراجا بہادر (متوفی 1752) اٹھارویں صدی کے پنجاب میں مغلوں کا ایک وفادار افسر تھا۔

پیدائش اور ابتدائی حیات[ترمیم]

چگھ خاندان کے ایک اروڑا دلو رام کا بیٹا تھا۔ دلو رام موجودہ پاکستان کے ضلع جھنگ کے شہر شور کوٹ کے ایک قریبی گاؤں کا رہائشی تھا۔ کوڑا مل کی ابتدائی حیات کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ عبرت نامہ کے مصنف مفتی علی الدین نے اس کا ذکر کوڑا مل اروڑا قانون گو ملتان کے نام سے کیا ہے۔ ایسا لگتا تو کہ ہے بھی اپنے باپ اور دادا کی رح ملتان کے محکمہ مسلط کا اہلکار عنیزہ قانون گو تھا۔

ترقی[ترمیم]

بعد یوں یہ لاہور آگیا اورسینئر ملٹری جنرل اور درباری کے عہدے پر پہنچا۔

کوڑا مل کے بارے میں سب سے پہلا ذکر اس کے ہم عصر شاہ نواز خان (1699–1757) ماسرال عمرہ میں کیا۔ شاہ نواز خان کے مطابق کوڑا مل نے اس وقت کے لاہور اور ملتان کے گورنر زکریا خان کے حکم پر 1738 میں پناہ بھٹی کے خلاف ایک مہم کی قیادت کی تھی۔ پناہ بھٹی دھاوڑیاں کے ایک گروہ کا سردار تھا۔ راوی کے کناروں سے شمال تک اور مغرب میں حسن ابدال تک کا سارا مغربی پنجاب اس کے رحم و کرم پر تھا۔ اسے مقابلے کے بعد بالآخر گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں سولی پر لٹکا دیا گیا۔

ملتان کا دیوان[ترمیم]

زکریا خان نے کوڑا مل کو ملتان کا دیوان تعینات کر دیا۔ 1746 کے اوائل میں لاہور کے گورنر یحی خان کے عہد میں جب لاہور کے دیوان لکھپت رائے نے سکھوں سے مقابلے میں مارے گئے اپنے بھائی جسپت رائے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے سکھ قوم کو ختم کرنے کی قسم کھائی اور اس سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر لاہور کے سکھوں جن میں زیادہ تر گھریلو ملازم اور چھوٹے دکان دار تھے کو گرفتار کر کے قتل کرنے کا حکم دیا تو کوڑا مل نے لاہور کے بااثر ہندووں کو ساتھ لیکر لکھپت رائے سے ان بے گناہ سکھوں کی جان بخشی کی درخواست کی جو بے سود ثابت ہوئی اور ان تمام گرفتار شدہ سکھوں کو 10 مارچ 1746 کو قتل کر دیا گیا۔ لکھپت رائے خود ایک بڑی فوج لیکر سکھوں سے مقابلے کو نکلا جو جنگلوں اور پہاڑوں میں روپوش تھے۔ لکھپت رائے کی سکھوں کے خلاف یہ مہم یکم مئی 1746 میں ختم ہوئی جس میں لگ بھگ سات ہزار سکھ مقتول ہوئے اور تین ہزار کو گرفتار کر لیا گیا جنہیں بعد میں لاہور لے جاکر قتل کر دیا گیا۔ اس حادثے سے دل برداشتہ ہوکر کوڑا مل ملتان چلا گیا جہاں اس وقت یحی خان کو چھوٹا بھائی شاہ نواز خان گورنر تھا۔ نومبر 1746 میں دونوں بھائیوں میں ایک خانگی لڑائی شروع ہو گئی نتیجتا یحی خان کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ شاہ نواز خان 21 مارچ 1747 کو لاہور کا گورنر بنا اور اس نے کوڑا مل کو لاہور کا دیوان مقرر کر دیا۔ لیکن 11 جنوری 1748 کو احمد شاہ درانی نے لاہور پر قبضہ کر لیا اور ایک افغان سردار جملہ خان کو اپنا گورنر اور لکھپت رائے کو دیوان لاہور تعینات کر دیا۔ لاہور پر احمد شاہ کے قبضے کی وجہ سے شاہ نواز کو دلی فرار ہونا پڑا۔ مگر 12 مارچ 1748 کو سرہند کے قریب مانو پور کی جنگ میں شکست کھانے کے بعد احمد شاہ کو واپس اپنے ملک جانا پڑا۔ معین الملک جسے سکھوں نے میر منوں کا نام دیا مغل سرکار کی طرف سے لاہور کا گورنر مقرر ہوا۔ کوڑا مل کو نہ صرف دیوان بحال کیا گیا بلکہ صوبہ ملتان کا ڈپٹی گورنر بھی بنا دیا گیا۔ لکھپت رائے کو گرفتار کر کیا گیا اور اس پر تیس لاکھ جرمانہ کیا گیا جس کا وہ صرف ایک ہی حصہ ادا کر پایا۔ کوڑا مل نے بقیہ رقم ادا کر کےاسے سکھوں کے حوالے کر دیا جنہوں بے اسے ایک کوٹھڑی میں بند کر دیا جہاں وہ چھ ماہ تک بھوک پیاس اور ذلت برداشت کرتا مر گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • کوڑا ملّ، دیوان، مہاراجا بہادر سروت : سکھ دھرم وشوکوش، پبلیکیشن بیورو، پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ