دیوداس گاندھی
| دیوداس گاندھی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 22 مئی 1900ء [1][2][3] ڈربن [1][2] |
| وفات | 3 اگست 1957ء (57 سال)[4][3] ممبئی [1][2] |
| شہریت | |
| اولاد | راج موہن گاندھی ، گوپال کرشن گاندھی |
| والد | موہن داس گاندھی |
| والدہ | کستوربا گاندھی |
| بہن/بھائی | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | صحافی |
| درستی - ترمیم | |
دیوداس موہن داس گاندھی (22 مئی 1900-3 اگست 1957ء) مہاتما گاندھی اور کستوربا گاندھی کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ وہ نٹال کی کالونی میں پیدا ہوئے اور پھر وہ بڑے ہوکر اپنے والدین کے ساتھ ہندوستان آ گئے۔ وہ اپنے والد کی تحریک میں سرگرم تھے اور اسی بنا پر کئی سال جیل میں گزارنے پڑے۔ بلاشبہ وہ ایک ممتاز صحافی تھے اور انہون نے ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1918ء میں تمل ناڈو میں موہن داس گاندھی کے ذریعہ قائم کردہ دکشنہ بھارت ہندی پرچر سبھا (ڈی بی ایچ پی ایس) کے پہلے پراچارک بھی تھے۔ اس سبھا کا مقصد جنوبی ہندوستان میں ہندی کی تشہیر کرنا تھا۔ .[5]
خاندان
[ترمیم]دیوداس کو ہندوستانی جدوجہد آزادی میں دیوداس کے والد کے ساتھی سی۔ راجگوپالاچاری کی بیٹی لکشمی سے محبت ہو گئی۔ اس وقت لکشمی کی عمر کی وجہ سے-وہ صرف 15 سال کی تھیں اور دیوداس 28 سال کے تھے-دیوداس کے والد اور راجاجی دونوں نے جوڑے کو ایک دوسرے کو دیکھے بغیر پانچ سال انتظار کرنے کو کہا۔ پانچ سال گذر جانے کے بعد، 1933ء میں اپنے باپ کی اجازت سے ان کی شادی ہوئی۔ [6]
دیوداس اور لکشمی کے چار بچے تھے جن میں راج موہن گاندھی گوپال کرشن گاندھی، رام چندر گاندھی، تارا گاندھی بھٹاچارجی شامل ہیں۔ [7] جبکہ ان کے پوتے/ پوتیوں میں لیلا گاندھی، امرتا گاندھی، دیودتا گاندھی، سپریا گاندھی، سوکنیا بھرترم، ونائک بھٹاچارجی شامل تھے
میراث
[ترمیم]جب مہاتما گاندھی نے جامع ملیہ اسلامیہ کے قیام کے لیے مدد مانگنا شروع کی تو گاندھی کی اپیل پر دیوداس بھی آگے آئے۔ انھوں نے وہاں ہندی اور کپاس کی کتائی بھی سکھانا شروع کی۔ [8]
وفات
[ترمیم]ان کی وفات 3 اگست 1957 کو 57 سال کی عمر میں ممبئی، انڈیا میں ہوئی[9]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ عنوان : The Hindu
- ^ ا ب پ http://www.thehindu.com/todays-paper/tp-miscellaneous/article1885383.ece
- ^ ا ب Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000003082 — بنام: Devadas Gandhi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/1033992984 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2014 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ "When Gandhi turned half-naked fakir in Tamil Nadu"۔ Outlook India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-11
- ↑ Alex Von Tunzelmann (2008)۔ Indian Summer: The Secret History of the End of an Empire۔ London, United Kingdom: Simon & Schuster۔ ص 78۔ ISBN:9781416522256
- ↑ Ramachandra Guha (15 اگست 2009)۔ "The Rise and Fall of the Bilingual Intellectual" (PDF)۔ Economic and Political Weekly۔ Economic and Political Weekly۔ ج XLIV شمارہ 33
- ↑ "Jamia Millia and Mahatma Gandhi: A Walk into History Lanes". inclusiveindia.net (بزبان امریکی انگریزی). 23 Oct 2020. Archived from the original on 2021-09-12. Retrieved 2021-09-12.
Devdas is teaching cotton spinning etc at Jamia Millia
- ↑ https://artsandculture.google.com/entity/devdas-gandhi/m04bqy9?hl=en