دیویندر ناتھ ٹیگور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیویندر ناتھ ٹیگور
(بنگالی میں: দেবেন্দ্রনাথ ঠাকুর خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Debendranath Tagore.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 مئی 1817[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جنوری 1905 (88 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد ستیندر ناتھ ٹیگور،  ورابندر ناتھ ٹیگور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
تحریک برہمو سماج،  وبنگالی نشاۃ ثانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر

دیویندر ناتھ ٹیگور (بنگالی: দেবেন্দ্রনাথ ঠাকুর، دیویندر ناتھ ٹھاکر) ‏ (15 مئی 1817ء – 19 جنوری 1905ء) ایک ہندو فلسفی، سماجی مصلح اور برہمو سماج کے متحرک رکن تھے، برہمو سماج کا مقصد ہندو مذہب اور طرز زندگی کی اصلاح تھا۔ سنہ 1848ء میں انہوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر برہمو مذہب کی بنیاد رکھی جو اب برہمویت کا مترادف ہے۔

دیویندر ناتھ شیلائی دہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد دوارکاناتھ ٹیگور ایک صنعت کار تھے۔ دیویندر ناتھ انتہائی مذہبی شخص تھے۔ راجا رام موہن رائے کی وفات کے دس برس بعد سنہ 1843ء میں تتو بودھنی سبھا اور برہمو سبھا کے انضمام سے ان کی تحریک برہمو سماج وجود میں آئی۔ ان کے دور میں برہمو سماج اپنے اصلی مقاصد سے جو برہمو سبھا کے ٹرسٹ ڈیڈ میں درج تھے دور ہو گیا تھا تاہم دیویندر ناتھ کی کوشش تھی کہ وہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کی اہمیت دوبارہ پیدا کریں۔

گرچہ دیویندر ناتھ روحانیت پسند تھے لیکن اپنے دنیوی امور بھی بخوبی انجام دیتے۔ انہوں نے بنگال کے متعدد شہروں میں موجود اپنی وسیع و عریض جائدادوں کو ترک نہیں کیا بلکہ ان سے یک گونہ علاحدہ رہ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔ دیویندر ناتھ اپنشدوں کے عالم تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سب کو اعلی تعلیم سے آراستہ کیا۔

سنہ 1843ء میں دیویندر ناتھ برہمو سبھا کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے اور انہوں نے اس کا نام بدل کر برہمو سماج کر دیا۔ وہ برہمویت کا مقصد تبدیل کرکے اسے الہیاتی اور سماجی تجدید کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ برہمو تحریک کے اصل بانی راجا رام موہن رائے اتحادیت اور عالمیت کے داعی تھے، اس کے برعکس دیویندر ناتھ ویدانتی ہندو مت کی الہیاتی و ثقافتی برتری کے حامی تھے۔ اس تبدیلی کی وجہ مسیحی تبلیغ بھی تھی جو اس دور میں زور و شور سے جاری تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب InPhO ID: https://www.inphoproject.org/3979 — بنام: Debendranath Tagore — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Тагор Дебендранатх — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. Hanes III، W. Travis (1993). "On the Origins of the Indian National Congress: A Case Study of Cross-Cultural Synthesis". Journal of World History 4: 78.