دی لنچ باکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دی لنچ باکس
The Lunchbox poster.jpg
Theatrical release poster
ہدایت کار Ritesh Batra
پروڈیوسر
تحریر Ritesh Batra
ستارے
موسیقی Max Richter
سنیماگرافی Michael Simmonds
ایڈیٹر John F. Lyons
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار
تاریخ اشاعت
  • 19 مئی 2013ء (2013ء-05-19) (Cannes Film Festival)
  • 20 ستمبر 2013ء (2013ء-09-20) (India)
دورانیہ
105 minutes[1]
ملک بھارت
زبان
Hindi
بجٹ 22 کروڑ (امریکی $3.5 ملین)[2]
باکس آفس 100.85 crore[2] (US$17.24 million)[3]

دی لنچ باکس (انگریزی: The Lunchbox) ہندی فلم ہے جسے 2013 میں لانچ کیا گیا تھا۔

کہانی[ترمیم]

ساجن فرنانڈس (عرفان خان) ادھیڑ عمر رنڈوا، ایک سرکاری محکمے میں کلرک ہے ـ وہ ہر صبح انسانوں کے جنگل ممبئی کا حصہ بنتا ہے اور شام کو جب تھکا ہارا گھر پہنچتا ہے تو تنہائی اور افسردگی کے دلدل میں ڈوب جاتا ہے ـ گھر کی کھڑکی سے خوش باش فیملیوں کا نظارہ یا گلی میں کھیلتے بچے اس کی تنہائی کم کرنے کی بجائے اسے بڑھانے کا سبب بنتے ہیں ـ ذات کی تنہائی کا پھیلتا زہر حلاوت و مٹھاس کو ختم کر چکا ہے ـ

شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ایلا (نمرت کور) مڈل کلاس شوہر کی بے التفاتی کا دکھ سہتی ہے ـ مڈل کلاس زندگی معاشی گراوٹ کے خوف اور بالائی طبقے میں شمولیت کی آرزو میں مشین بن چکی ہے ـ مشین کا ایک پرزہ ایلا ہے ـ ایلا خود کو پڑوسن سے بانٹتی ہے، بچی میں مجسم کرتی ہے مگر یہ محض بہلاوے ہیں، حل نہیں ـ ممبئی کی معروف انڈسٹری، لنچ باکس کو دفتروں تک پہنچانے والی انڈسٹری ایک غلط ٹرین بن جاتی ہے ـ ایلا کے مشینی شوہر کا ڈبہ تنہائیوں کے شکار ساجن کو پہنچتا ہے ـ یہ ڈبہ ایک تعلق بن جاتا ہے ـ حسین تعلق جسے گرم جذبات اور مادی وجود کے ذریعے سمجھنا شاید ممکن نہ ہو ـ یہ احساسات سے بنا وہ رشتہ ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے ـ ساجن محبت کے رشتے میں بندھ جانے کے بعد اردگرد دیکھتا ہے ـ زندگی اور انسان زندہ لگنے لگتے ہیں ـ شیخ (نواز الدین صدیقی) اور مہرالنسا ( شروتی باپنا) کی گرم جوش محبت اسے احساس دلاتی ہے کہ تنہائی اور ناخوشی کا علاج محبت ہی ہے ـ انسان سے، اس کے دکھوں سے، خوشیوں سے اور اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے وابستگی ہی مڈل کلاس زندگی کو ناکام حسرتوں سے نکال سکتے ہیں ـ

"لنچ باکس” محبت کو کسی انجام تک، کسی خواہشاتی موڑ تک لانے سے گریز کر کے اسے فلم بین کے لیے سوال بنا کر چھوڑ دیتی ہے ـ وہ صرف یہ بتاتی ہے "کبھی کبھی غلط ٹرین بھی صحیح جگہ پہنچا دیتی ہے” ـ گویا صحیح ٹرین، جیسے ایلا کا شوہر، غلط جگہ بھی پہنچا سکتی ہے ـ فلم کا ایک سین کولمبین ناول نگار گارسیا مارکیز کے شہرہِ آفاق ناول "وبا کے دنوں میں محبت” کی یاد دلاتا ہے جب فرمینا دازا اپنے ڈاکٹر شوہر کے میلے کپڑے سونگھ کر پتہ چلا لیتی ہے کہ اس کا بیزار شوہر کسی اور کی زلفوں کا اسیر ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "The Lunchbox (PG)"۔ British Board of Film Classification۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2014۔
  2. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ boibudgetwwg نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ exchange نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔