دی لوسٹ سمبل (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دی لوسٹ سمبل
The Lost Symbol
LostSymbol.jpg
دی لوسٹ سمبل
مصنف ڈین براؤن
ملک ریاستہائے متحدہ امریکا
برطانیہ
زبان انگریزی
سلسلہ رابرٹ لینگڈن #3
صنف جرم، Mystery، Thriller
ناشر Doubleday (US)
Transworld (UK)
تاریخ اشاعت
ستمبر 15، 2009[1]
قسم ذرائع ابلاغ طبع شدہ (مجلد اور کاغذی جلد)، برقی کتاب، سمعی کتاب
صفحات 528 سخت جلد
671 کاغذی جلد
آئی ایس بی این 978-0-385-50422-5 (یو ایس) 9780593054277 (یو کے) 9780552161237 (جورجیائی طباعت)
سابقہ ڈاونچی کوڈ
اگلی انفرنو

مشہور امریکی مصنف ڈین براؤن کا ناول، دی لوسٹ سنبل جس کا اردو ترجمہ ’گمشدہ نشان‘ ہو سکتا ہے ان کی مشہور رابرٹ لینگڈن سیریز کا تیسرا حصہ ہے۔ را برٹ لینگڈن ، ڈین براؤن کا تخلیق کردہ کردار کا نام ہے۔ یہ کردار ہاورڈ یونیورسٹی کا ایک درمیانی عمر کا پروفیسر ہے جس کی مہارت قدیم تہذیبوں کی تصویری زبانیں ہیں۔ دی لاسٹ سنبل، رابرٹ لینگڈن سیریز کا تیسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے دو ناول دی ڈاونشی کوڈ اور دی اینجلنز اینڈ ڈیمنز نے بہت مقبولیت حاصل کی اور بیسٹ سیلرز کی لسٹ میں شامل ہوئے۔ موجودہ ناول بھی بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل ہے۔

مرکزی خیال[ترمیم]

دی لاسٹ سنبل کا مرکزی خیال ایک ایسے گمشدہ نشان کی تلاش ہے جو اپنے اندر علم و ذہانت کا ایک بے پناہ خزانہ رکھتا ہے۔ تاہم یہ نشان دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ اس نشان کے متعلق چند ہی لوگ جانتے ہیں اور وہ لوگ اس راز کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ انسانیت ابھی تک اس بےپناہ علم کے ذخیرے سے مستفید ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں اگر یہ راز منظر عام پہ آ گیا تو یہ دنیا کے لیے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لائے گا۔ یہ چند لوگ جو اس راز کی حقیقت سے واقف تھے، یہ فری میسن کی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ فری میسن امریکا کی ایک خفیہ تنظیم ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے رازوں کی امین ہے۔ نیز امریکا کی بنیاد میں اس تنظیم کی بہت کاوشیں شامل ہیں۔ رابرٹ لینگڈن کا یہ ناول فری میسنز کی اندرونی تنظیم، ان کے کام کرنے کے طریقوں، اور راز داری کی خاصیت پہ تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ اس ناول میں ایک نئی ابھرتی ہوئی سائنس ’نیوٹک سائنس‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس سائنس کے مطابق قدیم دور کا انسان کئی معاملات خصوصاً انسانی ذہن کی پیچیدگیوں سے بخوبی واقف تھا۔ وہ کائنات کے بڑے رازوں سے واقف تھا لیکن لوگ ان رازوں کو جادو یا معجزے کا نام دیتے تھے۔ مصنف نے اس سائنس کے ذریعے پرانے زمانے کی باتوں کو معلومات کا اہم خزانہ قرار دیا ہے جس کو تلاش کرکے انسانیت نئے رازوں سے واقفیت حاصل کر سکتی ہے۔ مصنف نے کتاب کے آغاز میں بیان کیا ہے کہ ناول میں پیش کی گئی تمام تنظیمیں اور سائنسیں یعنی فری میسن اور نیوٹک سائنسز سب حقیقت میں موجود ہیں۔

کہانی[ترمیم]

ناول کی کہانی کا آغاز ایک صبح اس وقت ہوتا ہے جب رابرٹ لینگڈن کو امریکا سے اپنے دوست پیٹر سولومن کے سیکریٹری کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ اس کا سیکریٹری اپنے مالک کی طرف سے اسے امریکا آنے کی دعوت دیتا ہے جہاں اسے ایک تقریب میں ایک لیکچر دینا ہے۔ وہ تقریب اسی شام کو تھی اور رابرٹ کا لیکچر شام سات بجے تھا۔ یعنی اسے اس سہ پہر کو نکلنا تھا۔ رابرٹ اپنے دوست کی مدد کو تیار ہو جاتا ہے اور واشنگٹن پہنچ جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کے اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک دھوکا ہے۔ اسے اس کے دوست نے لیکچر دینے کے لیے نہیں بلایا، بلکہ اس کے دوست کو کسی نے اغوا کر لیا ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے۔ مزید یہ کہ ناصرف اس کے دوست کی جان خطرے میں ہے بلکہ اس کا اغوا کنندہ رابرٹ سے ایک ایسے راز کو ڈی کوڈ کروانا چاہتا ہے جس کی فری میسن عرصے سے حفاظت کرتےآئے ہیں۔ رابرٹ کا یہ دوست نہ صرف فری میسن تھا اور بلکہ ا تاہم اسے اس تنظیم میں ایک انتہائی اہم عہدے کا حامل تھا۔ رابرٹ اس را ز کو ڈی کوڈ کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن اسے اپنے دوست کی زندگی کی فکر ہو جاتی ہے۔ اس موقع پہ ناول میں کچھ اور کردار بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں سی آئی اے کی ڈائریکٹر ساٹو بھی شامل ہیں۔ ساٹو رابرٹ کو بتاتی ہے کہ یہ معاملہ نیشنل سیکیوریٹی کا ہے اور رابرٹ کو تعاون کرنا چاہیے۔ رابرٹ کسی طرح ساٹو سے بچ نکلتا ہے۔ وہ پیٹر سولومن کی بہن کبھی اس خطرے سےآگاہ کرتا ہے جو اس کے بھائی کو لاحق ہے۔ کہانی مزید کس طرح آگے بڑھتی ہے اس کے لیے ناول کا مطالعہ بہتر رہے گا۔

دی لاسٹ سنبل، ایک سسپنس تھرلر ہے۔ ناول کی تمام کہانی بارہ گھنٹے کے عرصے پہ محیط ہے۔ ناول بہت تفصیلی انداز میں لکھا گیا ہے جگہ جگہ مصصنف نے فری میسنز کے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں، جو اس سوسائٹی کو جاننے میں مدد گار ہیں۔ امریکن آرکیٹیکچر کس طرح بنایا گیا ہے اس بارے میں بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ناول کی ایک اہم خاصیت نیوٹک سائنس کے متعلق معلومات ہیں۔ کہانی میں یہ باتیں پیٹر سولومن کی بہن، کیتھرین سولومن کے ذریعے کہلائی گئی ہیں۔ مصنف نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انسانی کانشئس نس، اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہتا ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کا بیرونی دنیا سے تعلق قائم کرتی ہے۔ کانشئیس نیس کا ایک وزن ہے، اور جب کئی دماغ مل کے ایک ہی سمت میں سوچیں، تو گریویٹی کے اصول کے تحت یہ سوچیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ پھر سوچ اگر اچھی ہوئی تو اچھا نتیجہ ملے گا اور اگر بری ہوئی تو برا نتیجہ۔ اس بات کی سائنسی حقیقت کیا ہے، اس بارے میں ہمارا کچھ کہنا تو مشکل ہے تاہم دیکھا گیا ہے کہ بہت سے خیالات پہلے ناولوں میں قصے کہانیوں کی شکل میں پیش کئے گئے اور پھر بعد میں آنے والی سائنسوں نے انہیں سچ ثابت کر دکھایا۔

ڈان براؤن کے لکھنے کا انداز بہت مخصوص ہے، ان کے کئی کرداروں میں یکسانیت موجود ہوتی ہے۔ بہت سے نقاد وں کے مطابق وہ اپنی کہانیوں کے پلاٹ کانسپیریسی تھیوریز سے لیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود ان کے تمام ناول بیسٹ سیلرز میں شامل ہیں۔ ان کی کتابیں ایسی ہیں کہ ایک دفعہ ہاتھ میں لینے کے بعد مکمل پڑھے بغیر چھوڑنا مشکل ہے۔ ناول کا سسپنس، تھرل اور تیز رفتاری بہت متاثر کن ہے۔ سمبالوجی کے موضوع پہ دی گئی معلومات بھی قاری کی توجہ جکڑے رہتی ہیں۔ تاہم ناول کا انجام ڈین براؤن کے دیگر ناولوں کی طرح مایوس کن ہے۔ فری میسن، سمبالوجی، سیکرٹ نالج، نیوٹک سائنسز کی بنیادوں پہ ناول کی جو عمارت کھڑی کی گئی تھی ، انجام سامنے آنے پہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتی ہے۔ گرچہ ناول کے آغاز میں مصنف ناول میں بیان کی گئی سوسائیٹیوں اور سائنسز کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں لیکن ناول کے اختتام پہ فکشن کی حد تک بھی ان کا کردار متعین نہیں کر پاتے۔ جس گمشدہ علم کے خزانے کی تلاش سارے ناول میں جاری رہی، جب وہ سامنے آیا کسی قسم کا تاثر قائم نہیں کر سکا۔ تاہم اگر انجام کی فکر نہ کی جائے تو یہ ایک ریکمنڈڈ ناول ہے۔ سپپنس اور تھرلر کے شائقین کے لیے یہ ایک ریکمنڈڈ ناول ہے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]