دی واکنگ ڈیڈ (ٹی وی سلسلہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دی واکنگ ڈیڈ
The Walking Dead 2010 logo.svg
نوعیت
بنیاد دی واکنگ ڈیڈ 
از روبرٹ کرکمین
تالیف فرینک ڈارابونٹ
نمایاں اداکار
نشر امریکا
زبان انگریزی
تعدادِ دور 8
اقساط 109 (اقساط کی فہرست)
تیاری
عملی پیشکش
فلم ساز
مدیر
  • جولیئس رامسے
  • ہنٹر ایم۔ وایا
  • اوی یوآبیئن
  • ڈین لیو
  • نیتھن گن
  • راشلے گڈلیٹ کاٹز
  • کیلی ڈکسن
مقام |جورجیا، امریکا
عکس نگاری
دورانیہ 42–67 منٹ
پروڈکشن ادارہ
نشریات
چینل اے۔ ایم۔ سی۔
تصویری قسم 1080i (16:9 HDTV)
صوتی قسم
31 اکتوبر 2010 (2010-10-31) – اب تک
اثرات
متعلقہ پروگرام
بیرونی روابط
ویب سائٹ

دی واکنگ ڈیڈ قیامت کے بعد پیش آنے والا ایک امریکی خوفناک ٹیلی ویژن سلسلہ ہے جس کی تخلیق فرینک ڈارابونٹ نے اے۔ ایم۔ سی۔ کے لیے کی ہے۔ یہ سلسلہ روبرٹ کرکمین، ٹونی مور اور چارلی ایڈلرڈ کی ایک کومک کتاب پر مبنی ہے۔ اینڈریو لنکن نے اس سلسلہ میں مرکزی کردار نبھایا ہے جس کا نام رک گرائیمس ہے۔ وہ پولیس اہلکار ہے[3] اور ایک اسپتال میں کوما سے اٹھتا ہے۔ اس وقت اسے پتہ لگتا ہے کہ دنیا میں کچھ ہی دنوں میں تباہی مچ گئی ہے اور لگ بھگ سارے مرے ہوئے لوگ زومبی کے روپ میں دنیا میں گھوم رہے ہیں، جن کو واکرس کہا گیا ہے۔[4] رک گرائیمس اپنے خاندان کو تلاش کر کے ان سے دوبارہ ملتا ہے اور دوسرے زندہ بچے ہوئے انسانوں کے گروہ کا سربراہ بن جاتا ہے۔ اکٹھے مل کر وہ زندہ رہنے کے لیے لڑتے ہیں اور اس خطرناک جان لیوا دنیا جو مرے ہوئے لوگوں سے بھری ہوتی ہے، اس کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ اس کام میں ان کو زندہ بچے ہوئے گروہوں سے محفوظ مقامات پر غذا کے لیے جوجھنا بھی پڑتا ہے، جو کئی بار مرے ہوئے لوگوں سے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔[5] اس سلسلہ کی زیادہ تر کہانی اٹلانٹا، جورجیا اور الیگزینڈریا، ورجینیا کے آس پاس کے علاقوں کی ہے۔[4][6]

دی واکنگ ڈیڈ کی پہلی قسط پہلی بار 31 اکتوبر، 2010ء کو اے۔ ایم۔ سی۔ پر نشر کی گئی تھی۔[7] اس سلسلہ کا دوسرا حصہ پہلی بار 16 اکتوبر، 2011ء کو نشر کی گئی تھی۔[8][9] دوسرے حصہ کی دوسری قسط کے نشر ہونے کے بعد اے۔ ایم۔ سی۔ کی جانب سے بیان دیا گیا تھا کہ اس سلسلہ کا تیسرا حصہ بھی براڈکاسٹ ہوگا۔[10] پر اس سے بھی بڑھ کے اس کے 8 حصے براڈکاسٹ کیے جا چکے ہیں۔

اس سلسلے کو نقادوں کی جانب سے بھی پسند کیا گیا ہے۔[11][12] اس کو رائیٹرز گلڈ آف امریکا ایوارڈ اور سب سے بہترین ٹیلی وژن سیریز ڈراما کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔[13][14] اس کو ایک ایمی اوارڈ مل چکا ہے۔ اس سلسلے کی نیلسل ریٹنگز بہت بڑھیا ہیں۔ ایک کیبل سلسلہ کے طور پر اس سلسلہ نے بہت سارے ریکارڈ قائم کیے ہیں، مثلاً، اس کے دوسرے حصہ کی آخری قسط کو 9 ملین لوگوں نے دیکھا تھا۔ اس سے یہ تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سلسلہ بن گیا۔[15]

سلسلہ متعلق عام معلومات[ترمیم]

دی واکنگ ڈیڈ اس کا نام ایک کومک کتاب پر مشتمل ہے۔ یہ لوگوں کے چھوٹے سے گروہ کی کہانی ہے جو مرے ہوئے لوگوں یا زومبیوں کی جانب سے ڈھائی گئی قیامت اور تباہی کے بعد کی دنیا میں رہتے ہیں۔[16] اس سلسلہ کی زیادہ تر کہانی اٹلانٹا کے نزدیک کی جگہوں کی ہے۔ یہ گروہ محفوظ جگہوں کی کھوج کرتا ہے جس کے نزدیک کوئی اور بڑا گروہ نہ رہتا ہو اور گروہ لاکھوں کی تعداد میں موجود خطرناک زومبیوں کے حملے سے بھی بچا رہ سکے۔ زومبیوں کو اس ڈرامے میں واکرس (walkers) کہا گیا ہے۔ واکرس جیسے ہی کوئی زندہ چیز دیکھتے ہیں، وہ اس کو کھا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جس زندہ چیز کو چک لگا لیتے ہیں، وہ اس چیز میں اپنے جراثیم بھی چھوڑ دیتے ہیں، جس سے وہ انسان یا اور کوئی زندہ چیز بھی ان ہی کی طرح زومبی بن جاتی ہے۔ اس سلسلے کے پہلے حصہ میں گروہ کے لوگ اپنے اندر کا اتحاد قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اس طرح ان کو بہت ہی خطرناک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Seibert, Perry۔ "The Walking Dead [TV Series]"۔ آل مووی۔ وثق شدہ اصل جمع شدہاپریل 29, 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ مارچ 4, 2014۔ 
  2. Stelter، Brian (نومبر 14, 2010)۔ "At AMC, Two Character Dramas Just One Hit"۔ دی نیویارک ٹائمز۔ وثق شدہ اصل جمع شدہاپریل 10, 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 28, 2013۔ 
  3. "Rick Grimes"۔ AMC۔ وثق شدہ اصل جمع شدہمارچ 25, 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ مارچ 29, 2012۔ "a small-town sheriff's deputy" 
  4. ^ 4.0 4.1 "The Walking Dead"۔ AMC۔ وثق شدہ اصل جمع شدہاگست 9, 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 7, 2015۔ 
  5. Miska, Brad (جولائی 5, 2010)۔ "Breaking Bad Director Michelle MacLaren Talks The Walking Dead"۔ Dread Central۔ وثق شدہ اصل جمع شدہجولائی 28, 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 15, 2010۔ 
  6. Ross، Dalton (اگست 11, 2015)۔ "Will we ever see winter on The Walking Dead?"۔ Entertainment Weekly۔ وثق شدہ اصل جمع شدہاگست 13, 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 11, 2015۔ 
  7. "The Walking Dead Premieres Halloween; Comic-Con Trailer Now Online"۔ AMCtv.com۔ اگست 24, 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 24, 2010۔ 
  8. AMC (نومبر 8, 2010). AMC Resurrects "The Walking Dead" for a Second Season. Press release. http://www.thefutoncritic.com/news/2010/11/08/amc-resurrects-the-walking-dead-for-a-second-season-639014/20101108amc01/۔ اخذ کردہ بتاریخ نومبر 8, 2010. 
  9. Webb Mitovich، Matt (جولائی 22, 2011)۔ "The Walking Dead Reveals Season 2 Premiere Date, Creepy-Good New Trailer"۔ TVLine۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 22, 2011۔ 
  10. TV by the Numbers (اکتوبر 25, 2011). 'The Walking Dead' Renewed For A Third Season By AMC. Press release. http://tvbythenumbers.zap2it.com/2011/10/25/the-walking-dead-renewed-for-a-third-season-by-amc/108444/۔ اخذ کردہ بتاریخ اکتوبر 25, 2011. 
  11. "The Walking Dead: Season 1"۔ Metacritic۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 9, 2010۔ 
  12. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Metacritic-S2 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  13. Reiher، Andrea (دسمبر 14, 2010)۔ "2011 Golden Globes nominations: 'Glee,' '30 Rock' lead TV nominations"۔ Zap2it۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 14, 2010۔ 
  14. AMC (دسمبر 8, 2010). AMC Garners Six WGA Award Nominations for Acclaimed Original Dramas "Mad Men," "Breaking Bad" and "The Walking Dead". Press release. http://www.thefutoncritic.com/news/2010/12/08/amc-garners-six-wga-award-nominations-for-acclaimed-original-dramas-mad-men-breaking-bad-and-the-walking-dead-712414/20101208amc01/۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 9, 2010. 
  15. Hibberd، James (مارچ 19, 2012)۔ "'Walking Dead' finale draws record ratings"۔ Entertainment Weekly۔ اخذ کردہ بتاریخ مارچ 19, 2012۔ 
  16. Brad Miska (جولائی 5, 2010)۔ "Breaking Bad Director Michelle MacLaren Talks The Walking Dead"۔ Dread Central۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 15, 2010۔