مندرجات کا رخ کریں

دی ٹائمز آف اسرائیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دی ٹائمز آف اسرائیل
یروشلم میں موجود صدر دفتر (2012ء)
قسمآن لائن اخبار
بانی
  • ڈیوڈ ہورویٹز
  • سیٹھ کلارمن
مدیر
  • سُہیٰ خلیفہ (عربی)
  • اسٹیفنی بیٹن (فرانسیسی)
  • آوی داویدی (فارسی)
مدیرِ اعلیٰڈیوڈ ہورویٹز
رائے ایڈیٹرمیریم ہرشلاگ
سیاسی صف بندیمرکزیت[1][2][3][4][5][6][7]
زبانانگریزی، عبرانی، عربی، فرانسیسی، فارسی
صدر دفتریروشلم
آئی ایس ایس این0040-7909
او سی ایل سی نمبر1076401854
ویب گاہtimesofisrael.com

دی ٹائمز آف اسرائیل ایک کثیر اللسانی اسرائیلی آن لائن اخبار ہے جو سنہ 2012ء میں لانچ کیا گیا اور تب سے یہ ناظرین کی تعداد کے لحاظ سے انگریزی زبان میں سب سے بڑا یہودی و اسرائیلی خبروں کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کی بنیاد معروف اسرائیلی صحافی ڈیوڈ ہورویٹز اور امریکی ارب پتی سرمایہ کار سیٹھ کلارمن نے رکھی جن میں پہلا بانی مدیر بھی ہے۔ یہ اخبار یروشلم میں قائم ہے اور اس کا نصب العین ہے: ”اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور یہودی دنیا میں ہونے والی پیش رفت کا دستاویزی ریکارڈ“۔

اپنے اصل انگریزی ایڈیشن کے ساتھ ساتھ ٹائمز آف اسرائیل نے دیگر زبانوں میں بھی اشاعت کا آغاز کیا، جن میں عبرانی (اپنے ذاتی ایڈیشن ”زمان یسرائیل“ کے ذریعے)، عربی، فرانسیسی اور فارسی شامل ہیں۔ یہ ویب گاہ خبری رپورٹوں اور تجزیوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ متعدد مصنفین پر مشتمل بلاگ پلیٹ فارم بھی چلاتی ہے۔

فروری 2014ء میں آغاز کے دو برس بعد ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس کے قارئین کی تعداد دو ملین تک پہنچ چکی ہے۔ 2017ء میں یہ تعداد بڑھ کر 35 لاکھ منفرد ماہانہ صارفین تک جا پہنچی جبکہ 2021ء تک اس کی اوسط ماہانہ منفرد قارئین کی تعداد 90 لاکھ ہو چکی تھی اور اس کی ویب گاہ پر ماہانہ 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد صفحہ جات دیکھے جا رہے تھے۔ اخبار کے بلاگ پلیٹ فارم پر 9،000 فعال بلاگر موجود تھے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "The U.S. Reassessment of Netanyahu's Government Has Begun"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 11 جولائی 2023۔ David Horovitz, the founding editor of the centrist Times of Israel
  2. "Is American media coverage of the Israel-Hamas war biased?"۔ Religion News Service۔ 21 نومبر 2023۔ the centrist Times of Israel
  3. "Israeli media laud Obama 'bear hug'"۔ پولیٹیکو۔ 22 مارچ 2013۔ the politically centrist Times of Israel
  4. "U.N. rewrites history; Jews look on bright side"۔ The Japan Times۔ 19 اکتوبر 2016۔ The centrist Times of Israel
  5. "Israel just crossed a line it has never crossed before"۔ The World from PRX۔ 8 فروری 2017۔ The centrist Times of Israel
  6. "Shul Axes Pamela Geller, and 2 Others Invite Her"۔ The Forward۔ 14 اپریل 2013۔ the centrist Times of Israel
  7. "Migrant workers and refugees affected in the MENA region"۔ BBC Monitoring۔ 28 مئی 2020۔ the centrist Times of Israel news website