محمد ابراہیم ذوق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ذوق سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ
محمد ابراہیم ذوق

معلومات شخصیت
پیدائش 22 اگست 1790[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 نومبر 1854 (64 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عرفیت ذوق
عملی زندگی
صنف غزل، قصیدہ، مخمس
موضوعات محبت
پیشہ مصنف،  وشاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شیخ محمد ابراہیم ذوق (پیدائش: 22 اگست 1790ء – وفات: 16 نومبر 1854ء) ایک اردو شاعر تھے۔ ذوقؔ ان کا تخلص تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔

شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی

کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے

ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

وفات[ترمیم]

ذوق نے 16 نومبر 1854ء کو 65 سال کی عمر میں دہلی میں انتقال کیا اور دہلی میں تدفین کی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL5123020A — بنام: Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: GNU Affero General Public License, version 3.0
  2. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/256872 — بنام: Shaik̲h̲ Muḥammad Ibrāhīm Z̲auq — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017