ذوق نعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ذوق نعتیہ مجموعہ[1]
حسن رضا بریلوی ذوق نعت

حسن رضا بریلوی[ترمیم]

ذوق نعت (کتاب)

(اردو میں: ذوق نعت)

مصنف حسن رضا خان

اصل زبان اردو

ملک برطانوی ہند

ادبی صنف نعت ، منقبت

تاریخ اشاعت 1908

تعداد صفحات 186

[2] ویب سائٹ


ذوق نعت[ترمیم]

ذوق نعت ایک نعتیہ اشعار کا مجموعہ ہے، جو مولانا حسن رضا بریلوی نے لکھا ہے ، مولانا حسن رضا بریلوی ،مولانا الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی ہیں،

تعارف ذوقِ نعت [1326ھ]، نعتیہ دیوان ،

از: شاگرد داغ استاد زمن علامہ حسن رضابریلوی

تحریر عرفان عزیز نے لکھی ،

مولانا حسن رضا کا نعتیہ دیوان ’’ذوق نعت‘‘ معروف بہ ’’صلۂ آخرت‘‘ کے تاریخی نام سے 1326ھ میں آپ کے وصال کے بعدحکیم حسین رضا خان کی سعی و اہتمام سے طبع ہوا۔حمد، نعت، مناقب صحابہ و اولیأ،ذکر شہادت، بیان معراج، نغمۂ رُوح،کشفِ رازِ نجدیت ،رُباعیات اور چند تاریخی قطعات پر مشتمل ہے۔ تقریبًا تمام حروف تہجی کے ردیف میں مولانا نے کلام فرمایا ہے۔ اول طباعت پر اخبار ’’اہل ِفقہ‘‘ ،امرتسرکے ایڈیٹر مولانا غلام احمد صاحب نے 20جولائی، 1909ء کے شمارہ میں ’’ذوقِ نعت‘‘ کا اشتہار دیا، جس کو ہم یہاں نقل کر رہے ہیں :

’’یہ نعتیہ دیوان جناب حضرت مولانا الحاج حسن رضا خان صاحب مرحوم و مغفور بریلوی کی تصنیف ہے۔ حضرت مولانا موصوف اعلیٰ درجہ کے ادیب اور شاعر تھے اور آپ کے کلام میں ایسی تاثیر ہے کہ دل اِس کے سننے سے بے اختیار ہو جاتا ہے۔ آپ کی قادرُالکلامی کا یہ عالم ہے کہ ایک دفعہ مجھے بریلی جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نعتیہ رسالہ جاری کرنے والا ہوں، پہلی طرح ہو گی’’محوِ دیدار ِمحمد دل ہمارا ہو گیا‘‘، اس پر ایک نعتیہ غزل تحریر فرما دیجیے۔

آپ نے فورًا قلم برداشتہ غزل لکھ دی جس کے چند اشعار درج ہیں

: ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھا

غم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا

تیری طلعت سے زمیں کے زرّے مہ پارے بنے

تیری ہیبت سے فلک کا مہ دو پارا ہو گیا

نام تیرا ذکر تیرا تُو ترا پیارا خیال

ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہو گیا

آپ نے ایام رحلت سے پہلے اپنا نعتیہ دیوان مرتب کرنا شروع کیا مگر افسوس کہ چھپنے سے پہلے آپ رہ گزارِ عالم جاودانی ہوئے اور اب یہ دیوان آپ کے فرزندرشید جناب مولوی حکیم حسین رضا خان صاحب نے نہایت عمدہ کاغذ پر بکمالِ آب وتاب چھپوایا ہے۔ علاوہ نعت شریفوں کے حضراتِ بزرگان دین کی شان میں مناقب و قصائد لکھے ہیں۔ بعض مبتدعین کے ردمیں بھی چند نظمیں ہیں۔ تمام مسلمانوں کو عمومًا اور نعت خوانوں کو خصوصًااس قابل قدر کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔‘‘ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے’’ ذوق نعت‘‘ کی تاریخ میں ایک شاہکار قطعہ لکھا،[3]، قطعہ کیا ہے اعلیٰ حضرت کی شاعر ی شکوہ انداز، حسنؔ کی یادیں ، شاعری اور شخصیت کا حسین مرقع، ملی اور مذہبی خدمات ، اپنے روابط اور حسنؔ سے جذباتی لگاؤ کا واضح اظہار جو اعماقِ قلب سے زبانِ قلم پر اُترا اور صفحہ قرطاس پر بکھر گیا ۔ آخری چار شعر ہر مصرع تاریخ، مصرع نصف کی تکرار، صنائع بدائع سے مملو، حسن وجمال کی تصویر دیکھیے

؎ قوت بازؤے من سُنّی نجدی فگن

حاجی و زائر حسن، سلمہٗ ذوالمنن

نعت چہ رنگیں نوشت، شعر خوش آئیں نوشت

شعر مگو دیں نوشت، دور ز ہر ریب و ظن

شرع ز شعرش عیاں، عرش بہ بتیش نہاں

سُنّیہ را حرزِ جاں، نجدیہ را سر شکن

قلقلِ ایں تازہ جوش، بادہ بہنگام نوش

نور فشاند بگوش، شہد چسکاں در دہن

کلک رضاؔ سالِ طبع، گفت بہ افضال طبع

زا نکہ از اقوالِ طبع، کلک بود نغمہ زن

’’اوج بہیں محمدت، جلوہ گہ مرحمت‘‘

’’عافیت عاقبت باد نوائے حسنؔ‘‘

’’بادِ نوائے حسنؔ، باب رضائے حسن‘‘ؔ ’’باب رضائے حسنؔ، باز بہ جلبِ منن‘‘

’’باز بہ جلبِ منن، بازوئے بخت قوی‘‘

’’بازوِ بخت قوی،نیک حجابِ محن‘‘

’’نیک حجابِ محن، فضل عفو و نبی‘‘

’’فضل عفو و نبی، حبل وی و حبل من‘‘

اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں :

نعتِ حسنؔ آمدہ نعتِ حسن

حُسنِ رضا باد بزیں سلام

اِنَّ مِنَ الذَّوْقِ لَسِحْرٌ ہمہ

اِنَّ مِنَ الشِعْرِ لَحِکْمَۃٌ تمام

کلک رضاؔ داد چناں سال آں

یافت قول از شد رأس الانام

پاک و ہند میں’’ذوق نعت‘‘ کے کئی ایڈیشنز چھپ کر قبولیت عامہ حاصل کرچکے، لکھنؤ سے طبع ہونے والے پانچویں ایڈیشن میں کچھ کلام کا اضافہ کیا گیا ، غالبًایہی نسخہ بعد میں مرکزی انجمن حزب الاحناف، لاہور سے شاہ ابوالبرکات (خلیفۂ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی) نے شائع کروایا۔[4] اضافی کلام کی تفصیل پیش کی جاتی ہے :1۔ اس ایڈیشن میں مولانا حسن رضا کی مثنویوں کو شامل کیا گیا، جن میں’’ وسائل بخشش ‘‘بھی شامل ہے اور کچھ میلاد شریف کے بیان پر مشتمل ہیں۔2۔قصیدہ درمدح شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ3۔نذیر احمد دہلوی نے سیداحمدخان کی مد ح میں قصیدہ لکھا تھا جس کا ردیف ’’باقی‘‘تھا ، مولانانے اس قصیدہ کا ایک ایک شعر نقل کرکے پھر اسی ردیف میں نذیر احمد کے قصیدہ کا رد کیا ہے۔ تقریبًا سو (100) سے زائد اشعار ہیں۔

امام احمد کی نعتیہ اشعار[ترمیم]

★سیدی سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا بریلوی (رحمتہ اللہ علیہ) کے کلام میں صنائع بدائع★

____________________________ فن شاعری میں علمِ بیان کی طرح صنائع بدائع کا استعمال حسنِ کلام کے لیے از حد ضروری ہےــ کیونکہ صنائع بدائع کے استعمال سے کلام کا لطف و حسن دوبالا ہو جاتا ہےـــ

بغیر اس کے کلام صوری و معنوی حسن سے محروم رہ جاتا ہے لیکن صنائع بدائع کا استعمال اعتدال کی حد تک موزوں و پسندیدہ ہے اور اعتدال کی حد سے زیادہ استعمال سے کلام میں بے رنگی و بے کیفی پیدا ہو جاتی ہےـــ ہر صنف سخن چاہے وہ عربی شاعری ہو یا فارسی شاعری ہو یا اردو شاعری ہو اس میں ہمیشہ اس میں ہمیشہ سے صنائع بدائع کا استعمال ہوتا رہا ہےــ مگر بالقصد کسی شعر میں کسی صنعت کا استعمال کلام میں بے کیفی پیدا کردیتا ہے ایسی صورت میں وہ شعر آمد کی بجائے آورد بن جاتا ہےــ آورد کی کیفیت اس سے مفقود ہو جاتی ہےـــ صنعتوں کے تعلق سے ابوالفیض سحر لکھتے ہیں "صنعتیں بذاتِ خود شاعری کا مقصد نہیں ہوتیں لیکن شاعری کا مقصد ان کے بغیر پورا بھی نہیں ہوتا کیونکہ ان کے ذریعہ شعر کے تاثر میں اضافہ ہوتا ہے" یہ تاثر اس طرح کلام کی تزئین اور شعر کی معنویت دونوں کو بڑھانے میں کارگر ہوتا ہے مگر محض صنعتوں کا استعمال ہی شاعری کا مقصود سمجھ لیا جائے تو ایسی شاعری لفظوں کے ایک دلچسپ کھیل سے زیادہ نہ ہوگی۔[5]

،،(درس بلاغت ترقی اردو بیورو دہلی،ص 39 )

اصناف ادب میں سے صنف قصیدہ میں صنائع بدائع کو خوب خوب سمویا جا سکتا ہے اسی لیے قصیدہ گو شعرا نے صنائع بدائع کے استعمال سے اپنے کلام کو سحرانگیز بنانے کی بھرپور کوششیں کی ہیں، مبالغہ، اغراق اور غلو تو قصیدے کی جان ہیں، غزل میں حسن تعلیل، صنعت تضاد اور مراعات النظیر کی بڑی گنجائش ہے چنانچہ جب کسی شاعر کے کلام کا تنقیدی جائزہ لینا ہو تو یہ بھی دیکھنا لازمی ہے کہ اس شاعر نے صنائع بدائع کا استعمال کس انداز سے کیا ہے اور اعتدال کو ملحوظ رکھا ہے یا نہیں یا یہ کہ صنائع بدائع کے استعمال نے کلام شاعر کو بے کیف تو نہیں بنا دیا ہےــ قصیدہ کی طرح غزل میں بھی صنائع بدائع کے استعمال کی بہت گنجائش ہے اور قصیدے کی طرح صنف غزل میں بھی مبالغہ اور غلو باعث لطف ہےــ صنائع لفظی بھی اکثر غزل کے اشعار کو پرکیف بنا دیتی ہیں، صنائع لفظی کے متعلق ڈاکٹر یعقوب عامر رقمطراز ہیں: "صنائع لفظی سے مراد وہ خوبیاں ہیں جو لفظوں کو خاص رعایتوں اور ہنرمندی کے ساتھ برتنے سے وجود میں آتی ہیں لفظوں کی ان خوبیوں کی وجہ سے کلام خوشگوار ہو جاتا ہے

" (درس بلاغت، ص 59)

لیکن جس طرح قصیدے اور غزل میں صنائع بدائع کا استعمال آسان ہے اتنا ہی نعت پاک کے تنگ اور بقول عرفی شیرازی "ہشیار کہ رہ ہردم تیغ است قدم را" جیسے اہم موضوع میں ان کا استعمال دشوارکن امر ہےـ اس لیے کہ یہاں مبالغہ، اغراق اور غلو کا گزر نہیں البتہ چند صنعتیں ایسی ہیں جو نعت میں استعمال ہو سکتی ہیں بالخصوص صنعت تضاد، صنعت تلمیح، صنعت لف و نشر مرتب، لف نشر غیر مرتب، تنسیق الصفات اور مراعات النظیر وغیرہ،، لیکن ان کے استعمال کے لیے شعری استعداد کے ساتھ بڑے سلیقے اور ڈھنگ کی ضرورت ہے صنعت تلمیح کا استعمال تو خاص طور سے تاریخی درایت کا متقاضی ہےــ

معروف محقق و ناقد شمس بریلوی لکھتے ہیں "صنائع بدائع کا استعمال ہر دور میں ہر شاعر کے یہاں ملے گا، مومن ہوں یا غالب، ذوق ہوں یا شیفتہ، دورِ قدیم ہو یا دورِ جدید کوئی دور ہو اس دور کا کوئی شاعر ان محاسن سے اس کا کلام آپ کو خالی نہیں ملے گا صرف بیش و کم کا فرق ضرور نظر آئے گا،[6]

(کلام رضا کا ادبی اور تحقیقی جائزہ اسلامک پبلشر دہلی، ص 167)

مولانا احمد رضا خاں کی شاعری 19ویں صدی کے ربع آخر اور 20ویں صدی کے ربع اول سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ان کے کلام میں اس دور کے تمام فنی قیود و آداب ہونا لازمی امر ہے جو ان کے دور کی شاعری کے لازمہ تھے،، ڈاکٹر سراج احمد بستوی کے مطابق "رضا بریلوی کے دور میں صنائع بدائع، عروض و بلاغت اور معانی و بیان وغیرہ کو شاعری کی جان تصور کیا جاتا تھا" (رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری ایک تحقیقی مطالعہ رضوی کتاب گھر دہلی، ص 39)

اب آئیے "رضا بریلوی" کے کلام میں صنائع بدائع کی پرکیف و دلکش جھلکیاں ملاحظہ کیجئے،

"صنعت تضاد"

صنائع معنوی میں صنعت تضاد بکثرت استعمال ہوتی ہے، جو عامتہ الورود ہے: کلام میں ایسے دو لفظ لانا جو باعتبار معنی ایک دوسرے کی ضد ہوں خواہ وہ دونوں لفظ اسم ہوں یا فعل ہوں یا حرف،،[7]

مختصرالمعانی، ص 444)

فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں

خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا ------------------------- وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

------------------------- نامہ سے رضا کے اب مٹ جاؤ برے کامو

دیکھو مرے پلّے پہ وہ اچھے میاں


حوالہ جات[ترمیم]

  1. Empty citation (معاونت)
  2. مولانا حسن رضا بریلوی ، داغ دہلوی کے شاگرد اور اعلئ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی امام اہلسنت کے بھائی ہیں، انکا نعتیہ دیوان مشہور ہے ،
  3. Empty citation (معاونت)
  4. . 
  5. Empty citation (معاونت)
  6. Empty citation (معاونت)
  7. Empty citation (معاونت)

| 1.فتاوئ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف