ذو الکفل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ذو الکفل علیہ السلام سے رجوع مکرر)
ذو الکفل

معلومات شخصیت
پیدائش 1 ہزاریہ ق م  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ نبی،  اسلامی نبی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزارِ ذو الکفل

حضرت ذوالکفل علیہ اسلام اللّٰہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ ان کا اصل نام ثعلبی کے مطابق بشر بن ایوب علیہ اسلام[1] اور بروایت جرائری،'عوید' یا 'بن اوریم' [2] تھا۔ ناسخ التواریخ نے 'عوید یاھو' لکھا ہے۔ یہ عبرانی لفظ ہے۔ اس کے معنی "عبد اللہ کے ہیں۔ آپ کا لقب ذوالکفل تھا۔ آپ شام اور روم پر مبعوث ھوئے تھے۔ آپ کو غصہ کبھی نہیں آیا تھا۔ اور آپ بے مثل مہمان نواز تھے۔ آپ مقدمات کے فیصلے بھی کیا کرتے تھے۔


پیغمبر۔ قرآن کی دو سورتوں میں آپ کا نام آیا ہے سورت النبیاء میں آیت نمبر 85 اور اس سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ آپ خدا کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ کب کہاں اور کس قوم کے لیے معبوث ہوئے؟ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں احادیث سے بھی آپ کے حالات پر روشنی نہیں پڑتی۔ بائبل میں کتابِ ذوالکفل میں آپ کا ذکر موجود ہے ۔ بعض علما کا خیال ہے کہ ذوالکفل۔ حزقیل کا لقب ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ گوتم بدھ کا لقب ہے اور کفل دراصل کپل وستو کا معرب ہے جو بدھ کا دار الحکومت تھا۔ ذوالکفل کے معنی کپل وستو کا مالک ۔

قرآن عزیز اور ذوالکفل[ترمیم]

قرآن عزیز میں ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر دو سورتوں ” انبیاء “ اور ” ص “ میں کیا گیا ہے اور دونوں میں صرف نام مذکور ہے اور مجمل و مفصل کسی قسم کے حالات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ { وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْل ك

لٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَاط اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ } [3] ” اور اسماعیل ؑ اور ادریس ؑ اور ذوالکفلؑ سب (راہ حق میں) صبر کرنے والے تھے۔ ہم نے انھیں اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیا۔ یقیناً وہ نیک بندوں میں سے تھے۔ “ { وَاذْکُرْ اِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ } [4] ” اور یاد کرو اسماعیلالیسع اور ذوالکفل (کے واقعات) کو اور یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے۔ “

نسب[ترمیم]

ابھی کہا جا چکا ہے کہ ذوالکفل (علیہ السلام) کے متعلق قرآن عزیز نے نام کے سوا کچھ نہیں بیان کیا۔ اسی طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کچھ منقول نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ذوالکفل (علیہ السلام) خدا کے برگزیدہ نبی اور پیغمبر تھے اور کسی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ اس سے زائد سے سکوت ہے۔ اس کے بعد دوسرا درجہ سیر و تواریخ کا ہے لیکن کافی تفتیش و جستجو کے بعد بھی ہم کو اس سلسلہ میں ایسی معلومات بہم نہیں پہنچ سکیں کہ جن کے ذریعہ سے ذوالکفل (علیہ السلام) کے حالات و واقعات پر مزید روشنی پڑ سکے۔ چنانچہ توراۃ بھی خاموش ہے اور اسلامی تاریخ بھی۔

آثار و روایات[ترمیم]

البتہ ابن جریر نے مشہور مفسر تابعی مجاہد ؓ سے ان کے متعلق ایک قصہ نقل کیا ہے اور اسی کے قریب قریب ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوموسیٰ اشعری (رضی اللہ عنہ) سے بھی بعض آثار نقل کیے ہیں جن کی سند منقطع ہے۔ ١ ؎ مجاہد ؓ کی روایت یہ ہے۔ مجاہد ؓ کی روایت یہ ہے : یعنی ان دونوں بزرگوں کے اور ان سے روایت کرنے والے راوی کے درمیان ایک یا چند نام مذکور نہیں کہ جن سے سلسلہ روایت متصل اور مسلسل ہوجاتا۔ ایسی سند کو اصطلاح میں منقطع کہا جاتا ہے۔ جب اسرائیلی نبی حضرت الیسع (علیہ السلام) بہت بوڑھے ہو گئے تو ایک دن ارشاد فرمایا کاش میری زندگی ہی میں کوئی شخص ایسا ہوتا جو میرا قائم مقام ہو سکتا اور مجھ کو یہ اطمینان ہوجاتا کہ وہ میری صحیح نیابت کرنے کا اہل ہے اس کے بعد انھوں نے بنی اسرائیل کا اجتماع کیا اور فرمایا : میں تم میں سے ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں بشرطیکہ وہ مجھ سے تین باتوں کا عہد کرے : دن بھر روزہ رکھے۔ شب کو یاد خدا میں مشغول رہے۔ اور کبھی غصہ نہ لائے۔ یہ سن کر ایک ایسا شخص کھڑا ہوا جو لوگوں کی نگاہ میں بے وقعت نظر آتا تھا اور کہنے لگا ” اس خدمت کے لیے میں حاضر ہوں۔ “ حضرت الیسع علیہ السلام نے اپنی تینوں شرطیں دوبارہ بیان کیں اور دریافت کیا کہ ان کی پابندی کروگے ؟ اس شخص نے جواب دیا ” بیشک “ دوسرا دن ہوا تو حضرت الیسع علیہ السلام نے پھر اجتماع کیا اور کل کی بات کو دہرایا۔ سب خاموش رہے اور وہی شخص پھر آگے بڑھا اور اس نے خود کو اس خدمت کے لیے پیش کرتے ہوئے تینوں شرطیں پوری کرنے کا عہد کیا۔ تب الیسع (علیہ السلام) نے اس کو اپنا خلیفہ بنادیا۔ ابلیس نے دیکھا تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے اپنی ذریت کو جمع کر کے کہا کہ ایسی صورتیں اختیار کرو کہ جن سے یہ شخص بہک جائے اور اپنی شرطوں پر قائم نہ رہ سکے۔ شیاطین نے بہت کوشش کی مگر سب ناکام رہے۔ تب ابلیس نے کہا کہ میں ہی اس کام کو انجام دے سکوں گا تم عہدہ بر آ نہیں ہو سکتے۔ الیسع (علیہ السلام) کے خلیفہ کا یہ دستور تھا کہ وہ دن رات میں صرف دوپہر کو تھوڑی دیر قیلولہ کیا کرتا اور کچھ سو کر تکان رفع کرلیتا۔ چنانچہ ایک دن ابلیس پراگندہ حال بوڑھے کی شکل میں اسی وقت اس کے دروازے پر پہنچا اور دروازہ پر ہاتھ مارا وہ شخص آرام چھوٹ کر آیا اور دریافت کیا کون ہے ؟ ابلیس نے جواب دیا : ایک مظلوم و ناتواں بوڑھا ہے۔ اس نے دروازہ کھول دیا اور حال دریافت کیا۔ ابلیس نے کہا کہ میرے اور میری قوم کے درمیان خصومت ہے انھوں نے مجھ پر ظلم کر رکھا ہے اور داستان ظلم کو اتنا طول دیا کہ قیلولہ کا وقت ختم ہو گیا۔ بنی اسرائیل کے اس ” امیر “ نے فرمایا اب تم جاؤ شام کو جو مجلس منعقد ہوگی تب تم آنا ‘ میں تمھاری داد رسی کروں گا۔ وہ چلا گیا۔ شام کو جب مجلس منعقد ہوئی تو خلیفہ نے دیکھا کہ وہ شخص موجود نہیں ہے اور مجلس برخاست بھی ہو گئی مگر وہ نہیں آیا۔ صبح کو جب پھر مجلس میں بیٹھا تو چہار جانب غور سے دیکھا کہ شاید اب آیا ہو مگر اس کو نہ پایا۔ مجلس برخاست ہونے پر جب اس نے قیلولہ کے لیے تنہائی اختیار کی تو پھر کسی نے دروازہ پر دستک دی۔ اس نے دروازہ کھولا تو اسی بوڑھے کو موجود پایا اور اس نے کل کی طرح پھر گفت و شنید کی۔ تب خلیفہ نے کہا میں نے تم سے کہا تھا کہ شام کو مجلس میں آنا ‘ مگر تم نہ آئے ؟ ابلیس نے جواب دیا میری قوم بہت ہی خبیث ہے جب آپ کو مجلس میں پاتی ہے تو آہستہ سے مجھ سے اقرار کرلیتی ہے کہ مرافعہ نہ کرو ہم تمھارا حق ضرور دیں گے۔ لیکن آپ کی مجلس برخاست کردینے کے بعد پھر منکر ہوجاتی ہے۔ خلیفہ نے کہا : آج شام کو ضرور آجانا میں اپنی موجودگی میں حق رسی کروں گا۔ اس گفت و شنید میں قیلولہ کا وقت پھرجاتا رہا اور خلیفہ کو نیند کی تکلیف نے بہت ستایا ‘ مگر شام کی مجلس حسب وعدہ منعقد کی اور داد رسی کے لیے بیٹھا۔ چاروں طرف نگاہ پھرائی مگر اس بوڑھے کو نہ پایا اور نہ صبح کی مجلس میں وہ حاضر ہوا۔ تب تیسرے دن جب نیند کے غلبہ نے عاجز کر دیا تو خلیفہ نے اہل خانہ کو حکم دیا کہ آج دروازہ پر خواہ کوئی شخص بھی آئے قیلولہ کے وقت دروازہ ہرگز نہ کھولیں۔ خلیفہ ابھی لیٹا ہی تھا کہ فوراً ابلیس بوڑھے کی شکل میں آموجود ہوا اور دروازہ پر دستک شروع کردی۔ اندر سے جواب ملا کہ آج خلیفہ کا یہ حکم ہے کہ کسی کے لیے دروازہ نہ کھولا جائے۔ ابلیس نے کہا : میں دو روز سے اپنے ایک اہم معاملہ میں حاضر ہو رہا ہوں اور خلیفہ نے مجھ کو اس وقت بلایا تھا ‘ اس لیے دروازہ کھول دو۔ مگر دروازہ نہ کھلا لیکن اہل خانہ نے دیکھا کہ باہر کا دروازہ بند ہونے کے باوجود وہ شخص اندر موجود ہے اور خلیفہ کے کمرہ کے دروازہ پر دستک دے رہا ہے۔ خلیفہ نے دروازہ کھولا اور گھر والوں سے کہا میں نے تم کو منع کر دیا تھا کہ آج دروازہ نہ کھولنا پھر یہ شخص کیسے داخل ہو گیا۔ ساتھ ہی دروازہ پر نظر گئی تو اس کو بند پایا اور بوڑھے کو اپنے قریب دیکھا تب خلیفہ حقیقت حال کو سمجھا اور اس نے ابلیس کو مخاطب کر کے کہا خدا کے دشمن کیا تو ابلیس ہے ؟ ابلیس نے کہا : ہاں میں ابلیس ہوں تو نے مجھ کو جب ہر طرح تھکادیا اور میری ذریت کسی طرح تجھ پر قابو نہ پاسکی تب میں نے آخری صورت یہ اختیار کی تھی تاکہ تجھ کو غضبناک کروں اور ایفائے شروط میں ناکام بنادوں ‘ مگر افسوس کہ میں خود ہی ناکام رہا۔ چنانچہ اس واقعہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ذوالکفل کے نام سے مشہور کر دیا اس لیے کہ اس نے جن شرائط کا حضرت الیسع (علیہ السلام) سے تکفل کیا تھا اس کو پورا کر دکھایا۔ [5]

تنقید[ترمیم]

مجاہد کی یہ روایت اپنی سند کے اعتبار سے بھی محل نظر ہے اور درایت کے لحاظ سے بھی ناقابل حجت ہے اور جو اثر ابن عباس اور ابو موسیٰ اشعری (رضی اللہ عنہ) سے منقول ہے وہ منقطع بھی ہے اور سند کے پیش نظر محل نظر بھی۔ اس لیے اس کی حیثیت ایک قصہ سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ درایت کے اعتبار سے ہم نے اس کو ناقابل حجت اس لیے کہا کہ قرآن عزیز نے اگرچہ ذوالکفل (علیہ السلام) کے واقعات و حالات بیان نہیں کیے لیکن ان کو انبیا ومرسلین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رضی اللہ عنہ) جیسے جلیل القدر صحابہ اور مجاہد (رضی اللہ عنہ) جیسے تابعی سے یہ مستبعد ہے کہ وہ ان کے متعلق یہ فرمائیں کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ ایک مرد نیک تھے جیسا کہ ابن کثیر نے ان تینوں بزرگوں سے اسی قصہ میں نقل کیا ہے اور شاہ عبد القادر ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ ذوالکفل (علیہ السلام) ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور انھوں نے حسبۃً للّٰہ کسی شخص کی ضمانت کرلی تھی جس کی پاداش میں ان کو کئی برس قید کی تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔ ” کہتے ہیں ذوالکفل (علیہ السلام) ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ ایک شخص کے ضامن ہو کر کئی برس قید رہے اور للہ یہ محنت سہی۔ “ [6] اور بعض معاصرین کا یہ خیال ہے کہ ذوالکفل حزقیل (علیہ السلام) کا لقب ہے اور ایک دوسرے معاصر کی عجیب رائے یہ ہے کہ ذوالکفل ” گوتم بدھ “ کا لقب ہے ‘ اس لیے کہ اس کے دار السلطنت کا نام ” کپل “ تھا جس کا معرب ” کفل “ ہے اور عربی میں ” ذو “ صاحب اور مالک کے لیے آتا ہے۔ چنانچہ صاحب مال کے لیے ” ذومالٍ “ اور مالک شہر کے لیے ” ذوبلدٍ “ کا بکثرت استعمال ہے اس لیے یہاں بھی کپل کے مالک اور بادشاہ کو ” ذوالکفل “ کہا گیا۔ معاصر موصوف نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گوتم بدھ کی اصل تعلیم توحید اور حقیقی اسلام کی ہی تعلیم تھی اور موجودہ شکل و صورت دوسرے ادیان وملل کی طرح مسخ اور محرف شدہ ہے۔ مگر یہ اقوال تخمینی آراء سے زیادہ تاریخی حیثیت سے کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ ہم اس تعصب کے قائل نہیں ہیں کہ اگر صحیح تاریخ سے یہ ثابت ہوجائے کہ قرآن نے جن انبیا کے صرف نام ذکر کیے ہیں ‘ ان کا مصداق فلاں برگزیدہ ہستی ہے تو صرف اس لیے انکار کر دیا جائے کہ اس سے قبل ایسی بات چونکہ کسی نے نہیں کی اس لیے قابل رد ہے۔ بلاشبہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تاریخی حقائق کی جستجو کا باب بند نہیں ہوا اور ہر دن نئی نئی تحقیقات سامنے آتی اور جدید اکتشافات کو مکتشف کرتی جاتی ہیں۔ بلکہ ان کے ذریعہ قرآن عزیز اور احادیث رسول کے بیان کردہ ان واقعات کی تصدیق ہوتی چلی جارہی ہے جن کا انکار ملاحدہ اس لیے کرتے رہے تھے کہ تاریخ اور فلسفہ تاریخ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ پس اگر قرآن عزیز کی بیان کردہ کسی ہستی کے متعلق مزید اکتشافات روشنی میں آئیں تو ہمارے لیے باعث انکار نہیں بلکہ مخالفین و معاندین پر مزید حجت و دلیل ہیں لیکن اس اقرار حقیقت کے باوجود اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ کسی واقعہ کے متعلق اگر ایک شخص محض اپنے مزعومہ قیاس وتخمین سے بے دلیل کوئی دعویٰ کر دے تو ضرور اس کو مان لیا جائے۔ چنانچہ ذوالکفل کو ” گوتم بدھ “ قرار دینا ابھی تک اس سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہمارے لیے دنیا کے مختلف گوشوں میں خدا کے فرستادہ نبیوں پر ایمان لانے کے لیے قرآن کی وہ تینوں دفعات کافی ہیں جو دین حق (اسلام ) کا طغرائے امتیاز ہیں یعنی : { وَ اِنْ مَّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ} [7] ” اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں خدا کی جانب سے کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ “ { مِنْہُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } [8] ” بعض نبیوں کا ہم نے تم کو (نام لے کر ) ذکر سنادیا اور بعض کے واقعات تم کو نہیں سنائے۔ “ { لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ } [9] ” (اس لیے ایک مومن کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ) ہم خدا کے نبیوں میں سے کسی نبی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے (یعنی سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں) “ اس صاف اور واضح عقیدہ کے بعد اگر ہمارے سامنے کسی ملک اور کسی خطہ کے انبیا ورسل کے واقعات نہیں بھی آئے تو اس کے وجوہ و اسباب دوسرے ہیں لیکن جہاں تک ان پر ایمان لانے کا تعلق ہے وہ اجمال کے ساتھ بھی کافی ہے اور ان کی تفصیلات ہمارے مقاصد ہدایت ورشد یعنی ایمان باللہ اور عمل صالح کے لیے موقوف علیہ نہیں ہیں۔ خصوصاً جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” خاتم النّبیین “ ہیں اور تمام سچے ادیان و ملل کی صحیح اور حقیقی تعلیم کی تصدیق کر کے ان کو ارتقائی درجات کے درجہ کمال تک پہنچانے والے ہیں۔ { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا } [10] الحاصل ہم کو یہ تسلیم ہے کہ ہندوستان میں بھی خدا کے سچے نبی اور پیغمبر مبعوث ہوئے ہیں بلکہ سیر کی روایات کے مطابق ابو البشر آدم (علیہ السلام) اسی ہندوستان جنت نشان کے کسی گوشہ میں اتارے گئے ‘ لیکن جب تک قرآن و حدیث کی صراحت اور یا پھر تاریخ کے صحیح دلائل وبراہین سے یہ ثابت نہ ہوجائے کہ ذوالکفل ” گوتم بدھ “ کا لقب ہے ‘ محض ظن وتخمین سے اس کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ جس طرح کسی نبی کو نبی نہ ماننا کفر کی راہ ہے ‘ اسی طرح کسی غیر نبی کو نبی تسلیم کرنا بھی باطل ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ[ترمیم]

امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص کفل تھا ‘ انتہا درجہ کا فاسق و فاجر ‘ ایک مرتبہ اس کے پاس ایک حسین و جمیل عورت آئی۔ کفل نے اس کو ساٹھ دینار دے کر زنا پر راضی کر لیا۔ لیکن جب اس نے عورت کے ساتھ مباشرت کا ارادہ کیا تو وہ کانپنے اور زار زار رونے لگی۔ کفل نے دریافت کیا کیوں روتی ہے کیا تو مجھ سے نفرت کرتی ہے ؟ عورت نے جواب دیا : یہ بات تو نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے ساری عمر اس بدعمل کو نہیں کیا ‘ مگر آج ضرورت اور پیٹ کی خاطر اپنی عصمت کو برباد کر رہی ہوں۔ یہ نشتر ہے جو مجھ کو آہ وزاری کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ کفل نے یہ سنا تو فوراً اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا : جو کار بد تو نے کبھی نہیں کیا ‘ آج وہ محض فقر و فاقہ کی خاطر کرے یہ کبھی نہ ہوگا۔ جا عصمت و عفت کے ساتھ اپنے گھر واپس جا اور یہ دینار بھی تیری ملک ہیں ‘ ان کو اپنے کام میں لا اور پھر کہنے لگا : قسم بخدا ! آج کی گھڑی سے کفل اب کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ حسن اتفاق کہ اسی شب میں کفل کا انتقال ہو گیا اور صبح کو لوگوں نے دیکھا کہ غیب کے ہاتھ نے اس کے دروازہ پر یہ بشارت لکھ دی ہے : ” کفل کو بلاشبہ خدا نے بخش دیا۔ “ اس روایت میں ذوالکفل نہیں بلکہ فقط کفل مذکور ہے اور یہ حضرت ذوالکفل کے سوا دوسرا کوئی شخص ہے۔ اس لیے یہ مغالطہ نہ ہونا چاہیے کہ یہ حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا واقعہ ہے۔

لقب ذوالکفل کی وجوہات[ترمیم]

روایت نمبر1:
آپ علیہ اسلام نے ایک نبی علیہ اسلام کی ہدایات اور احکام کی کفالت کی تھی، اس نبی علیہ اسلام نے کہا تھا کہ"جو قائم الیل اور صائم النہارھو" یعنی رات بھر نمازیں پڑھتا ہو اور دن بھر روزے رکھتا ہو اور غصہ کبھی نہ کرتا ہو، میں اسے اپنا جانشین بناوں گا۔ چنانچہ آپ علیہ اسلام نے وعدہ فرمایا اور ان کے احکام کی پوری کفالت کی اور ان کی وصایت کے مالک بنے، اس لیے آپ علیہ اسلام کو ذوالکفل کہا گیا۔[11]
روایت نمبر2:
آپ علیہ اسلام درجہ نبوت پر فائز ہونے سے پہلے شام کے بادشاہ کے وزیر تھے۔ اس بادشاہ کو بنی اسرائیل سے سخت دشمنی تھی۔ بادشاہ نے اپنی فوج کا ایک عظیم دستہ بھیج کر بنی اسرائیل کو قتل کروا دیا اور سو (100) علما و فضلا اور زعماء کو گرفتار کرا لیا۔ حضرت ذوالکفل علیہ اسلام نے بادشاہ سے کہا کہ ابھی ان کے قتل کا وقت نہیں آیا ہے بہتر ھوگا کہ انھیں میرے حوالے کر دیں۔ ذوالکفل علیہ اسلام ان تمام قیدی علما و زعماء کو اپنے ہمراہ لے گئے ان کی عزت و توقیر کی،ان کی بیڑیاں کٹوائیں۔ انھیں خوش گوار کھانا کھلایا۔ اور ان کو وقتِ شب رہا کر دیا اور بادشاہ کے قلمرو سے بھاگ جانے کو کہا۔ اور صبح کو حضرت ذوالکفل علیہ اسلام نے ایسی صورت اختیار کی کہ بادشاہ ناراض بھی نہ ہوا اور اٌن کی جان بچ گئی اسی کفالت کو وجہ سے آپ علیہ اسلام کو ذوالکفل علیہ اسلام کہا گیا۔[12]
روایت نمبر3:
اللہ تعالٰیٰ نے آپ علیہ اسلام کو حکم دیا کہ آپ'عمالقہ' کے ایک بادشاہ کنعان کو دعوتِ حق دیں۔ بادشاہ نے کہا، میں بے انتہاگناہ کر چکا ھوں۔ اب میرا ایمان لانا بے سود ہے۔ حضرت ذوالکفل علیہ اسلام نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے۔ اگر تو ایمان لائے گا تو خداوند عالم تجھے بخش دے گا اور نعمات جنت سے متنعم کرے گا۔ بادشاہ نے دلیل وثبوت مانگا۔ آپ علیہ اسلام نے کہا میں اس کی ضمانت و کفالت کروں گا۔ بادشاہ کے ایمان لانے پر آپ علیہ اسلام نے ایک نوشتئہ ضمانت دے دیا۔ بادشاہ ترکِ سلطنت کر کے گوشہ نشین ھوگیا۔ لیل و نہار عبادت میں گزارتا۔ اور بوقتِ موت بادشاہ کو وصیت کے مطابق وہ نوشتہ خط اس کے کفن میں رکھ دیا گیا۔ اللہ نے اسے بخش دیا اور جنت میں بلند مقام پر فائز فرمایا۔ جولوگ بوقتِ کفن وہاں موجود تھے وہ سب کے سب بھی ایمان لے آئے۔ اسی ضمانت و کفالت کی وجہ سے آپ کا لقب ذوالکفل علیہ اسلام ھوگیا۔[13]
روایت نمبر4:
بنی اسرائیل میں تین سگے بھائی تھے۔ ایک ان میں عالم تھا ایک زاہد اور ایک عابد، ان میں سے ایک کو امیری مل گئی وہ حکومت کرنے لگا اور بھی بدراہ ھو گیا۔ اس بادشاہ کے پاس اس کا ایک بھائی گیا اور تنبیہ کی اور کہا کہ خدا کے لیے راہ راست پر آجاؤ، گناہ ترک کر دو اور مثل سابق بن جاؤ۔ اس بد راہ بادشاہ نے کہا کہ میں نے قلیل عرصے میں کثیر گناہ کر ڈالے ہیں اور اب میرے بخشے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے بھائی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے،خداوند عالم بڑے سے بڑا گناہ بخشتا ہے تم توبہ کرو، خدا تمھیں معاف کر دے گا۔
بد راہ بادشاہ کے لیے اس کا نیک بھائی حضرت ذوالکفل علیہ اسلام کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنایا۔ حضرت ذوالکفل علیہ اسلام نے جواباً کہا کہ اگر وہ توبہ کرلے تو میں اس کے جنت میں لے جانے کا ضامن ھوں۔ اس بھائی نے اپنے بھائی کو بتایا کہ وہ جنت کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ بدراہ بادشاہ نے کہا کہ ان سے لکھوا دے، چنانچہ حضرت ذوالکفل علیہ اسلام ضمانت نامہ لکھ کر، اس کے جنت میں لے جانے کے کفیں بن گئے۔ بنا بریں آپ علیہ اسلام ذوالکفل علیہ اسلام کہا گیا۔[14]
روایت نمبر5:
آپ علیہ اسلام سے کہا گیا کہ اس کا وعدہ کرو کہ قوم پر عذاب نازل نہ ھوگا تو آپ علیہ اسلام نے کہا کہ اگر قوم راہ راست پر رہے گی۔ گناہ نہ کرے گی تو اس پر عذاب نازل نہ ھوگا لہذا آپ علیہ اسلام کا لقب ذوالکفل علیہ اسلام قرار پاگیا۔[15]
روایت نمبر6:
آپ علیہ اسلام ہر شخص کی کفالت کرتے تھے اور اپنے ذمہ اس کا کام لے لیتے تھے۔ اس ذمہ داری کی وجہ سے آپ علیہ اسلام کا لقب ذوالکفل علیہ اسلام ہو گیا۔ یعنی ذمّہ داری لینے والا۔[16]
روایت نمبر7:
حضرت ذوالکفل علیہ اسلام کو جہاد کا حکم ملا۔ آپ علیہ اسلام نے اپنی قوم سے جہاد کے لیے کہا۔ قوم نے اس شرط پر آمادگی کا اظہار کیا کہ موت نہ آنے پائے آپ علیہ اسلام نے خدا کی بارگاہ میں قوم کی عرضداشت پیش کی۔ خدا نے منظور کیا اور حکم دیا کہ تم ان سے اس کی کفالت میری طرف سے کرلو، میں ان کی موتوں کو ان کی خواہش پر موقوف کردوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جب وہ سب ہر طرف محفوظ ہوتے رہے تو بے انتہا کثرت ہو گئی۔ پھر انھوں نے موت مانگی تب وہ مرنے لگے۔[17]

ذوالکفل علیہ اسلام کو غصہ میں لانے کے لیے شیطان کے چیلے کی جدوجہد[ترمیم]

ایک مرتبہ شیطان نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ کون ہے جو ذوالکفل کو غصے میے لائے۔ یہ سن کر ایک شاگرد جس کا نام"ابیض"تھا کہنے لگا کہ یہ کام میں کروں گا۔ چنانچہ ایک روز جب کہ حضرت ذوالکفل علیہ اسلام لوگوں کے مقدمات کے فیصلوں سے فارغ ہوئے اپنے گھر پہنچے اور آرام کا ارادہ کیا تو ابیض آگیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک شخص نے ظلم کیا ہے فیصلہ کیجئے، آپ علیہ اسلام نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ ابیض نے کہا وہ میرے کہنے سے نہیں آتا، آپ علیہ اسلام نے اس کو ایک انگشتری دی اور کہا کہ میری یہ انگشتری اس کو دکھاؤ اور کہو کہ تم کو ذوالکفل نے بلایا ہے وہ انگشتری لے کر گیا اور آپ علیہ اسلام نے اس کا انتظار کیا اور آرام نہیں کیا اور شب کو بھی آرام نہیں کیا تھا اور دن بھی اسی طرح گذر گیا۔ جب دوسرادن ہوا تو ابیض آیا اور اس نے کہا کہ آپ علیہ اسلام کی انگشتری دیکھ کر بھی وہ نہیں آیا،اب آپ آرام کرنے کے لیے تیار تھے۔ اور دربان نے بھی اس کو سمجھایا کہ دوسرا روز ہے انھوں نے آرام نہیں کیا ہے مگراس نے کہا کہ میں مظلوم ھوں، میری فریاد سنو اور فیصلہ کرو چنانچہ جناب ذوالکفل علیہ اسلام نے ایک خط لکھ کر دیا اور کہا کہ میرا یہ خط لے کر جاؤ اور اس کو میرے پاس بلا کر لے آؤ۔ چنانچہ آپ علیہ اسلام تیسرے دن بھی اس کے انتظار میں رہے اور پھر شب آگئی اور تمام رات عبادت کی اب چوتھا روز آیا کہ پھر ابیض آگیا اور کہنے لگا کہ وہ آپ علیہ اسلام کا خط دیکھ کر بھی نہیں آیا، حضرت ذوالکفل علیہ اسلام یہ سن کر اٌٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ہمراہ روانہ ھو گئے۔ دھوپ سخت تیزتھی چار دن جاگتے ھوے گزرچکے تھے۔ مگر پھر بھی آپ علیہ اسلام کے چہرے پر غصے کے آثارنہ تھے۔ جب آپ راستے میں جا رہے تھے تو وہ شخص غائب ہو گیا۔ اور جاکر شیطان سے کہا کہ میں ذوالکفل علیہ اسلام کو غصہ میں لانے سے معذور ھوں، میں نے بڑی کوشش کی مگر وہ کسی طرح غصہ نہیں کرتے۔

عراق میں ذوالکفل علیہ السلام کا مزار مبارک

حضرت ذوالکفل علیہ اسلام کی حیات اور وفات[ترمیم]

حضرت ذوالکفل علیہ اسلام بعثت کے بعد مسلسل تبلیغ دین کر رہے تھے کہ داعی اجل آپہنیچا اور آپ نے لبیک کہہ کر ملکِ بقا کی راہ لی۔ مورخ طبری نے آپ علیہ اسلام کی عمر 75 سال تحریر کی ہے۔ 95 سال بھی کئی علمائے تاریخ نے لکھی ہے۔

موعظت[ترمیم]

اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنی ” دعوت حق “ کی بنیاد اس اصل پر قائم کی ہے کہ ملک و قوم اور نسل و خاندان کے تفرقوں سے بالاتر ہو کر یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ پیغام حق اپنی اساس و بنیاد میں کسی حد بندی اور گروہ بندی کا محتاج نہیں ہے اور نہ وہ کسی فرقہ کی اجارہ داری قبول کرتا ہے۔ اس لیے کہ ذات حق (جل مجدہ) جبکہ یکتا اور بے ہمتا ہے تو بلاشبہ اس کا پیغام حق بھی ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ ایک ہی ہے اور اس کی صدائے حق نیوش ازل سے ابد تک کالے اور گورے ‘ عجمی اور عربی ‘ ایشیائی اور یورپی ‘ امریکی اور افریقی سب بندھنوں سے بے قید یکساں طور پر تغیر و تبدل سے آزاد سب ہی پر حاوی اور سب ہی میں جاری وساری ہے۔
البتہ ہر ایک زمانہ کے حالات و کیفیات اور وقتی تقاضوں نیز اقوام و امم کے نشو و ارتقا اور ان کی فکری و عملی صلاحیتوں کے پیش نظر اس میں یہ لچک ضرور ہے اور رہنی چاہیے تھی کہ اساس و بنیاد متاثر ہوئے بغیر اس پیغام حق کی تفصیلات و احکامات جدا جدا ہوں یہاں تک کہ روحانی نشو و ارتقا اپنے حد کمال کو پہنچ جائے اور انسانی فکر و نظر کا شعور کمال عروج حاصل کرلے۔ پس دینی اور روحانی اصطلاح میں پیغام حق کی اس نہ بدلنے والی حقیقت کو ” دین “ کہتے ہیں اور حق تعالیٰ نے اسی کو ” اسلام “ کے ساتھ معنون کیا ہے :
{ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ } [18]
” بلاشبہ دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ “
{ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ } [19]
” اور جو شخص بھی اسلام کے سوا دین کے نام سے کسی شے کا متلاشی ہے اس کی یہ خواہش خدا کے حضور میں ناقابل قبول ہے۔ “
{ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ٥ لا مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا } [20] ” اسی (خدا) نے تمھارا (انسانوں کا) نام قرآن کے نزول سے پہلے بھی مسلمان رکھا اور اس قرآن میں بھی یہی نام دیا۔ “
اور اس حقیقت کی بدلتی ہوئی کیفیات اور وقتی حوادث کے زیر اثر احکامات و تفصیلات کا نام ” منہاج و شریعت “ رکھا ہے :

لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا } [21] ” تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے جدا جدا راستے (شریعتیں) اور طریقے مقرر کر دیے ہیں۔ “
اور روحانی و دینی نشو و نما اور عروج و ارتقا کے حد کمال کو ” اکمال دین “ اور ” اتمام نعمت “ فرمایا ہے :
{ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا } [22]
” مسلمانوں ! آج ہم نے تمھارے دین کو کامل و اکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے اعتبار سے پسند کر لیا۔ “
تو اب حاصل یہ نکلا کہ آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور تک تمام نبیوں اور رسولوں کا دین اور خدا کا دیا ہوا پیغام حق ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ‘جس کا نام اسلام ہے البتہ انبیا ومرسلین کے اپنے اپنے زمانوں میں بلاشبہ حق تعالیٰ کی جانب سے احکامات و تفصیلات جدا جدا رہی ہیں جس کو ” شریعت “ اور ” منہاج “ کہا جاتا ہے۔
جب روحانی ارتقا اور دینی فکرو شعور بلوغ و کمال کی حد پر پہنچ گیا تو رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت ان تمام شریعتوں کو آخری شریعت محمدی میں جذب کر دیا گیا اور ہمیشہ کے لیے اس کا دائرہ جغرافیائی حدود سے بالاتر تمام عالم و کائنات پر حاوی کر دیا گیا :
{ وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا } [23]
” اور ہم نے آپ کو تمام کائنات انسانی کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ “
اور اسی لیے اس کی تعلیم کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ دنیا کے ہر گوشے اور ہر قوم کے اندر خدا کے سچے بشیر ونذیر یہی پیغام صداقت لے کر آئے ہیں اور اس لیے ایک مسلم و مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اس عقیدہ کا اعلان کرے کہ ہم خدا کے کسی بھی نبی کے درمیان فرق کر ناجائز نہیں رکھتے اور جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہیں اسی طرح خدا کے ہر نبی پر ایمان لاتے ہیں خواہ ہم اس کے نام و مقام اور اس کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوں یا نہ ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالکفل (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کے ان حالات و واقعات کے سوا جن کی تفصیلات قرآن عزیز میں مختلف انبیائے بنی اسرائیل کے ذکر میں آتی رہی ہیں ‘ ان کے زمانہ میں کوئی خاص واقعہ ایسا پیش نہیں آیا جو عام تبلیغ و ہدایت سے زائد اپنے اندر عبرت و بصیرت اور موعظت کا پہلو رکھتا ہو ‘ اس لیے قرآن عزیز نے ان کے نام ہی پر اکتفا کیا اور حالات و واقعات سے تعرض نہیں کیا۔ کیونکہ قصص القرآن میں یہ بحث چند جگہ روشنی میں آچکی ہے کہ امم و اقوام ماضیہ کے وقائع اور اخبار بیان کرنے سے قرآن عزیز کا مقصد صرف رشد و ہدایت کے سلسلہ میں بصیرت و موعظت کی جانب توجہ دلانا ہے ‘ ورنہ ” تاریخ “ نہ اس کا موضوع ہے اور نہ اس کا مقصد ‘ چنانچہ قرآن عزیز میں ارشاد ہے :
{ کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ مَا قَدْ سَبَقَج وَ قَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا } [24]
” (اے پیغمبر) اسی طرح ہم گذری ہوئی سرگزشتوں میں سے (خاص واقعات کی) خبریں تجھے سناتے ہیں اور بلاشبہ ہم نے اپنے پاس سے تجھے ایک سرمایہ نصیحت عطا فرما دیا ہے (یعنی قرآن) “
{ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ } [25]
” بلاشبہ ان (نبیوں) کے واقعات میں اہل عقل و دانش کے لیے سامان عبرت ہے۔ “
{ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْط وَ لَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } [26]
” کیا انھوں نے زمین میں چل پھر کر سیر نہیں کی تاکہ وہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیا ہوا اور بلاشبہ مقام آخرت ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو پرہیزگار ہیں۔ پس کیا وہ سمجھتے نہیں ؟ “
{ وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَج وَ جَآئَکَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } [27]
” اور (اے پیغمبر) رسولوں کی سرگزشتوں میں سے جو قصے ہم تجھ کو سناتے ہیں تو ان سب میں یہی بات ہے کہ تیرے دل کو تسکین دے دیں اور پھر ان کے اندر تجھے امر حق مل گیا اور نصیحت مل گئی اور یاد دہانی مومنوں کے لیے۔ “

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (عرائس المجالس- ص94)
  2. قصص الانبیاء۔ ص302
  3. (الانبیاء : ٢١/٨٥‘ ٨٦)
  4. (ص : ٣٨/٤٨)
  5. (تفسیر ابن کثیر جلد ٣ ص ١٩٠۔ ١٩١)
  6. (موضح القرآن سورة انبیا)
  7. (فاطر : ٣٥/٢٤)
  8. (مومن : ٤٠/٧٨)
  9. (البقرۃ : ٢/٢٨٥)
  10. (المائدہ : ٥/٣)
  11. قصص الجزائری۔ ص 370
  12. روضتہ اصفا۔ ص 113، ناسخ التواریخ جلد۔1 ص238
  13. منتخب المعارف،صدرالدین اصفہانی
  14. تاریخ اسلام
  15. جنات الخلود، دسعدالسعود ابن طاوس
  16. تاریخ اسلام، علامہ محمد بشیر
  17. عرائس ثعلبی۔ ص 95
  18. (سورہ آل عمران : ٣/١٩)
  19. (سورہ آل عمران : ٣/٨٥)
  20. (سورہ الحج : ٢٢/٧٨)
  21. (اسورہ لمائدہ : ٥/٤٨)
  22. (سورہ المائدہ : ٥/٣)
  23. (سورہ سبا : ٣٤/٢٨)
  24. (سورہ طٰہ : ٢٠/٩٩)
  25. (سورہ یوسف : ١٢/١١١)
  26. (سورہ یوسف : ١٢/١٠٩)
  27. (سورہ ھود : ١١/١٢٠)