ذکر قلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ذکرِ قلب کا مطلب ہے اللہ کو دل کی دھڑکنوں کے ساتھ یاد کرنا۔ ذکرِ قلب کے حامل کو ذاکرِ قلبی کہا جاتا ہے۔[1] ذکر قلب قرآن و حدیث میں موجود ہے
تفسیر خزائن العرفان میں سورۃ البقرہ آیت152 کے ذیل میں لکھا ہے فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ذکر تین طرح کا ہوتا ہے۔
# لسانی
# قلبی
# بالجوارح۔ ذکر لسانی تسبیح، تقدیس، ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے خطبہ توبہ استغفار دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکر قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کے دلائل قدرت میں غور کرنا علما کا استنباط مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔ ذکر بالجوارح یہ ہے کہ اعضاء طاعت الہٰی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لیے سفر کرنا یہ ذکر بالجوارح میں داخل ہے نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے تسبیح و تکبیر ثناء و قراءت تو ذکر لسانی ہے اور خشوع و خضوع اخلاص ذکر قلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بالجوارح ہے۔ ابن عباس نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم طاعت بجالا کر مجھے یاد کرو میں تمہیں اپنی امداد کے ساتھ یاد کروں گا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسے ہی یاد فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔ قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکر بالجہر کو بھی اور بالاخفاء کو بھی۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

ذکر خفی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ذکرِاللہ جلؤہ گاہ دوست سے ایک انتخاب، http://www.islahulmuslimeen.org/zikr-in-detail.asp
  2. تفسیر خزائن العرفان نعیم الدین مراد آبادی،سورۃ البقرہ،آیت 152

حوالہ جات[ترمیم]