ذکی الرحمٰن لکھوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ذکی الرحمٰن لکھوی

ذکی الرحمٰن لکھوی عسکری تنظیم لشکر طیبہ کے امیر ہیں انہیں ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کی حکومت نے گرفتار کرلیا۔ اور ان کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں قید رکھاگیا مگر کچھ سالوں بعد ہی ناکافی ثبوت کی بناء پر ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت مل گئی اور اس وقت وہ ضمانت پر ہی ہیں اور ان کے دوسرے ساتھی بدستور اڈیالہ جیل میں ہی قید کاٹ رہے ہیں ۔۔۔ ذکی الرحمٰن ایک باہمت اور کمال ذہانت کے حامل ہیں وہ جو سوچتے ہیں اور کرتے ہیں وہ بڑے بڑوں کی سمجھ سے اوپر سے نکل جاتا ہے۔۔۔ #پاکستان کے حوالے سے ان کا مائنڈ باالکل کلیئر ہے ،ناجائز قید و بند کی صعوبتیں سہنے کے باوجود انہوں نے کبھی پاکستان مخالف کوئی بات نہیں کی بلکہ وہ پاکستان میں پھیلنے والی مذہبی منافرت اور داعش کی افواہوں کی باالکل مخالفت کرتے۔۔۔۔ ان کے نزدیک کسی کلمہ گو مسلمان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔۔۔ میڈیا سے وہ کافی دور رہتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے میڈیا کا کام صرف پروپیگنڈہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔

ذکی الرحمان لکھوی کا ایک بیٹا جہاد کشمیر میں شہید ہوچکا ہے۔