ذہین شاہ تاجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ذہین شاہ تاجی
معلومات شخصیت
پیدائش 1902
جے پور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات جوالائی 23، 1978
قومیت پاکستانی
عملی زندگی
پیشہ تصوف، شاعر، philosopher، scholar

معروف اردو صوفی شاعر، فلسفی، اسکالر ذہین شاہ تاجی کا تعلق صوفیا کے سلسلہ چشتیہ سے ہے۔ ان کا سلسلہ نسب دوسرے خلیفہ عمر فاروق سے ملتا تھا۔

نام[ترمیم]

ان کا اصل نام محمد طاسین فاروقی اور "ذھین" تخلص تھا۔ آپ کے والد پیرزادہ خواجہ دیدار بخش فاروقی ہیں۔

ولادت[ترمیم]

1902ء میں ہندوستان کے صوبے راجستھان کے قصبہ کھنڈیلہ ضلع توڑاوائی جو تاریخی گلابی شہر جے پور میں ہے پیدا ہوئے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ذیین شاہ تاجی مذہبی عالم، دانشور، غزل کے شاعرہونے کے علاوہ انہیں اردو، فارسی ،ہندی، عربی اور انگریزی پر بھی دسترس تھی۔ ان کے مرشد یوسف شاہ تاجی تھے۔ ذہین شاہ تاجی تاج الدین بابا ناگوری کے معتقد بھی تھے۔ عطر اور سرمہ لگاتے تھے۔ عام آدمیوں کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے بہت مہمان نواز تھے۔ جب بھی لنگر او دعوت ہوتی تو بچوں کو پہلے کھانا کھلانے کا کہتے تھے۔ ان کے شاعرانہ الہام میں مخصوص شعری جمالیات کی خوشبو پھیلی ہوتی تھی۔

علمی خدمات[ترمیم]

انہوں نے ابن عربی کی کتاب ۔۔"فصوص الحکم"۔۔ اور منصور بن حلاج کی مشہور تصنیف؛؛"الطوسین"۔۔ کا اردو ترجمہ کیا۔ جس میں خدا اور ابلیس (شیطان) کا مکالمہ بھی شامل ہے۔ ان کی سب سے اہم کتاب"تاج الاولیاء" بابا تاج الدین ناگوری کی سوانح عمری جو اردو اور فارسی میں لکھی گئی تھی۔ ذہین شاہ تاجی نے سولہ (16) سے زائد کتابیں لکھیں۔ عموما وہاں پر مذہبی اور علمی مباحث ہوا کرتی تھیں۔ تاجی بابا کی باتوں میں بلا کا کمال، جمال اور جلال ہوتا تھا۔ ایک دن "سجدے" پر بحث شروع ہو گئی۔ انہوں نے سجدے کی کوئی دو/2 درجن اقسام گنوائی اور اس کی عام فہم تشریح بھی کی۔ ان کے گفتگو میں بہت علمیت ہوتی تھی اور عشا کی نماز کے بعد مشاعرہ بھی ہوتا تھا۔ جس میں کراچی کے شعرا حصہ لیتے تھے۔

حلقہ احباب[ترمیم]

ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ ان کے علمی اور ادبی حلقے میں اے بی حلیم المعرف ابّا حلیم (سابق شیخ الجامعہ، جامعہ کراچی) ماہر القادری (مدیر فاران)پروفیسر غلام مصطفے، پروفیسر کرار حسین ( سابق وائس چانسلر، بلوچستان یونیورسٹی)،حسرت کشگجوی، مولانا کوثر نیازی، رشید ترابی، جوش ملیح آبادی، ابو لخیر کشفی،اطہر نفیس، الیاس عشقی، رئیس امرہوی، sڈاکٹر محمود احمد ( سابق صدر شعبہ فلسفہ، جامعہ کراچی)، ڈاکٹر علی اشرف( سابق صدر شعبہ انگریزی، جامعہ کراچی، 1971 میں بنگلہ دیش چلے گئے تھے) ڈاکٹر منظور احمد (وائس چانسلر، ہمدرد یونیورسٹی کراچی)پروفیسر مجتبیٰ حسین (صدر شعبہُ اردو بلوچستان یونیورسٹی)، سید محمد تقی اور سلیم احمد شامل تھے ( فہرست طویل ہے)۔ 60 کی دہائی میں کراچی میں شاعر اطہر نفیس کے سوتیلے بھائی کنور اصغر علی خان کے گھرواقع نشتر روڈ (سابقہ لارنس روڈ) پر ذہین شاہ تاجی آیا کرتے تھے۔ ذہین شاہ تاجی پان بہت شوق سے کھاتے تھے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • لمحات ِ جمال
  • اجمال ِجمال
  • آیات ِجمال[1]

انتقال[ترمیم]

23 جولائی 1978ء میں کراچی میں انتقال ہوا۔ کراچی کے میوہ شاہ کے قبرستان میں ان کا آستانہ تھا جہاں ہر جمعرات کو سماع اور لنگرکا اہتمام بھی ہوتا تھا۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]