ذیشان حیدر جوادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علامہ
سید ذیشان حیدر
جوادی
ذیشان حیدر جوادی

معلومات شخصیت
پیدائش 22/ رجب سنہ 1357ھ مطابق 17/ ستمبر سنہ 1938ء ، بروز شنبہ
کراری،  والہ آباد،  وبرطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10/ محرم (عصر عاشور) سنہ 1421ھ مطابق 15/ اپریل سنہ 2000ء ، بروز شنبہ
ابوظہبی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن بارہ بنکی ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش الہ آباد ، ابوظبی اور ممبئی
قومیت بھارتی
مذہب اسلام (شیعہ اثناعشری )
عملی زندگی
تعليم اجتہاد
مادر علمی لکھنؤ اور نجف اشرف
پیشہ خطابت اور تصنیف و تالیف

علامہ سید ذیشان حیدر جوادی (پیدائش: 17 ستمبر 1938ء— وفات: 15 اپریل 2000ء) برصغیر کے مشہور شیعہ عالم دین اور مذہبی مصنف تھے۔ ہندوستان کے شہر الہ آباد کے رہنے والے تھے ـ

ولادت اور آغاز تعلیم[ترمیم]

علامہ سید ذیشان حیدر جوادی 17/ستمبر 1938ء مطابق 22/ رجب المرجب 1357ھ بروز شنبہ، قصبہ کراری ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے ـ

آپ کے والد مولانا سید محمد جواد علم و فضل میں نمایاں شخصیت کے مالک تھے اور قصبہ جلالی ضلع علی گڑھ میں ایک مدت تک پیش نماز تھے ـ

آپ نے ابتدائی تعلیم خود کراری کے مدرسہ امجدیہ میں حاصل کی ـ

سنہ 1949ء میں مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخل ہوئے ـ

اعلیٰ تعلیم اور اساتذہ[ترمیم]

علامہ جوادی اپنے مہربان استاد آقائے محمد باقر الصدر کے ساتھ نجف اشرف (عراق) میں

مدرسہ ناظمیہ کی تعلیم کے اختتام کے بعد درجہ اجتہاد کے حصول کے لیے سنہ 1955ء میں آپ نجف اشرف (عراق) چلے گئے ـ [1]

نجف اشرف میں تقریبًاً دس سال تحصیل علم میں صرف کیے اور شہید خامس آیت اللہ سید محمد باقر الصدر، آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی، آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم، شہید محراب آیت اللہ سید اسداللہ مدنی تبریزی، آیت اللہ شیخ محمد تقی آل راضی، آیت اللہ حسین راستی کاشانی نیز آیت اللہ محمد علی مدرس افغانی سے کسب فیض کیا، خصوصا آیت اللہ سید محمد باقر الصدر آپ پر بہت مہربان تھے ـ[2]

نجف اشرف میں آپ کے اساتذہ[ترمیم]

اساتذہ عراق
1 آیت اللہ سید محمد باقر الصدر
2 آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی
3 آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم
4 شہید محراب آیت اللہ سید اسداللہ مدنی تبریزی
5 آیت اللہ محمد علی مدرس افغانی
6 آیت اللہ شیخ محمد تقی آل راضی
7 آیت اللہ حسین راستی کاشانی

سنہ 1965ء میں آپ ہندوستان واپس آئے اور تقریبًا 1978ء تک الہ آباد کی مسجد قاضی صٓاحب میں پیش نمازی کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا کام انجام دیا ـ

تصنیف و تالیف[ترمیم]

آپ کا شمار کثیر التصانیف علما میں ہوتا ہے ـ آپ کی سرعت قلم کو خود آپ کے استاد آیت اللہ سید محمد باقر الصدر حیرت و استعجاب کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے ـ

تحریری کام آپ نے علم دین حاصل کرنے کے دوران ہی شروع کر دیا تھا ـ ظاہرا سب سے پہلے آپ نے کتاب سلیم بن قیس ہلالی (اسرار آل محمد) کا اردو میں ترجمہ کیا ـ

نجف اشرف میں ہی ابوطالب مومن قریش، علامہ عبداللہ خنیزی کی تصنیف کا ترجمہ پندرہ دن میں مکمل کر دیا ـ

آپ نے آیت اللہ سید محمد باقر الصدر کی کتابوں اقتصادنا، الفدک فی التاریخ، البنک اللاربوی فی الاسلام اور التشیع والاسلام کے ترجمے کیے جن کے نام یہ ہیں :

یہ آپ کے عربی زبان سے چند اہم اردو ترجمے ہیں جو سب کے سب شائع ہوچکے ہیں ۔

آپ کے ترجمہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اہل علم کو ترجمہ اور اصل کتاب میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا ـ

آپ کی تالیفات و تصانیف میں تفسیر انوار القرآن، شرح نہج البلاغہ، شرح صحیفہ سجادیہ، ترجمہ مفاتیح الجنان، نقوش عصمت، مطالعہ قرآن، اصول و فروع، ذکر و فکر، قمربنی ہاشم، اصول علم الحدیث، علم رجال، کربلا، فتنہ صحابیت، نماز (قرآن و سنت کی روشنی میں)، پردہ (قرآن و سنت کی روشنی میں)، اجتہاد و تقلید (اجتہاد اور مجتہدین کے خلاف پیدا ہونے والے فتنہ اخباریت کا سد باب)، خاندان وانسان اور فروع دین نمایاں حیثیت رکھتی ہیں ـ

کتب مجالس میں بعض کتابیں آپ نے تصنیف کی ہیں :

  • محافل و مجالس (دو جلد)
  • عرفان رسالت
  • اسلام دین عقیدہ و عمل
  • بضعۃ الرسول

تقاریر کے مجموعے[ترمیم]

  • عقیدہ و جہاد
  • کربلا شناسی
  • رسالت الٰہیہ
  • حسین منی
  • انا من حسین
  • خلق عظیم
  • توحید (زندگی کا آخری عشرہ مجالس) ـ

اس کے علاوہ آپ کی بے شمار علمی تقاریر کتابی شکل میں نہ آسکیں بلکہ بے توجہی کا شکار بن کر کیسٹوں میں ضائع ہو رہی ہیں ـ

علامہ جوادی متعدد علوم و فنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ اعلی درجہ کے شاعر بھی تھے ـ کلیم آپ کا تخلص تھا ـ

کلام کلیم، سلام کلیم، بیاض کلیم اورپیام کلیم فن شاعری میں آپ کے یادگار مجموعے ہیں ـ [3]

قارئین کی سہولت کے لیے علامہ جوادی کی کتب کی فہرست کو یہاں پر جدول کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے :

تراجم اور شروح صاحب کتاب کا نام
1 ترجمہ و تفسیر قرآن مجید (انوار القرآن) کلام پروردگار
2 تالیف و ترجمہ احادیث قدسیہ کلام پروردگار
3 ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ امام زین العابدین علیہ السلام
4 ترجمہ و شرح نہج البلاغہ علامہ سید شریف رضی
5 ترجمہ مفاتیح الجنان محدث شیخ عباس قمی
6 اسرار آل محمد (کتاب سلیم بن قیس ہلالی) سلیم بن قیس ہلالی
7 ہمارے اقتصادیات آیت اللہ سید محمد باقر الصدر
8 اسلامی بینک آیت اللہ سید محمد باقر الصدر
9 فدک (تاریخ کی روشنی میں) آیت اللہ سید محمد باقر الصدر
10 تشیع اور اسلام آیت اللہ سید محمد باقر الصدر
11 انوار عصمت (الخصال کا خلاصہ) شیخ صدوق
12 ہماری عزاداری علامہ عبد الحسین امینی
13 شہداء الفضیلۃ علامہ عبد الحسین امینی
14 امام جعفر صادق اور مذاہب اربعہ علامہ اسد حیدر
15 نظریہ عدالت صحابہ علامہ احمد حسین یعقوب
16 ابوطالب مومن قریش علامہ عبداللہ خنیزی
17 اہل بیت (قرآن و سنت کی روشنی میں) آیت اللہ محمد محمدی ری شہری
18 نص و اجتہاد علامہ سید شرف الدین موسوی عاملی
19 فلسفہ انقلاب امام حسین علامہ شیخ یحیی نوری
20 تہذیب قلب و نظر علامہ حسین بن محمد حلوانی
21 مکاتب خلافت و امامت کے امتیازی نشانات علامہ سید مرتضی عسکری
22 خطائے اجتہادی کی کرشمہ سازیاں علامہ سید مرتضی عسکری
23 مجھے راستہ مل گیا علامہ محمد تیجانی سماوی
24 مرآۃ الرشاد علامہ شیخ عبد اللہ مامقانی
25 احکام شرعی آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم موسوی خوئی
تصانیف
1 نقوش عصمت
2 مطالعہ قرآن
3 اصول و فروع
4 ذکر و فکر
5 قمر بنی ہاشم
6 اصول علم الحدیث
7 علم رجال
8 فروع دین
9 خاندان اور انسان
10 کربلا
11 نماز (قرآن و سنت کی روشنی میں)
12 پردہ (قرآن و سنت کی روشنی میں)
13 حی علی الصلاہ
14 حی علی الفلاح
15 عورت اور شریعت
16 اسلام کا مالیاتی نظام
17 اسلام کے تقاضے
18 اعمال ماہ رمضان المبارک
19 اعمال روز عاشوراء
20 اجتہاد و تقلید
21 فتنہ صحابیت
22 پاکیزہ معاشرہ
کتب مجالس بہ شکل تصنیف
1 محافل و مجالس (حصہ اول)
2 محافل و مجالس (حصہ دوم)
3 عرفان رسالت
4 اسلام دین عقیدہ و عمل
5 بضعۃ الرسول
کتب مجالس بہ شکل مجموعہ تقاریر
1 عقیدہ و جہاد
2 کربلا شناسی
3 رسالت الٰہیہ
4 حسین منی
5 انا من حسین
6 خلق عظیم
7 توحید (زندگی کا آخری عشرہ مجالس)
اشعار کے مجموعے
1 سلام کلیم
2 کلام کلیم
3 پیام کلیم
4 بیاض کلیم

شروع میں آپ کی کتابیں الہ آباد میں مذہبی دنیا نامی ادارہ سے شائع ہوا کرتی تھیں ،ـ بعد میں ادارہ تنظیم المکاتب لکھنؤ سے شائع ہونے لگیں ـ

شہر الہ آباد میں آپ کی خدمات[ترمیم]

سنہ 1965ء میں آپ نجف اشرف سے واپس آئے اور تقریبًا 1978ء تک الہ آباد کی مسجد قاضی صٓاحب میں پیش نمازی کے ساتھ ساتھ بہت سی دینی خدمات انجام دیں ـ

الہ آباد میں مذہبی معاشرہ کی تشکیل میں آپ کا نمایاں کردار ہے ـ

آپ نے کار خیر اور تنظیم خمس و زکوۃ نامی دو ادارے بھی قائم کیے جن کے ذریعہ اہل ثروت سے حقوق شرعیہ حاصل کرکے نادار لوگوں کی حاجتیں پوری کی جاتی تھیں ـ

جامعہ امامیہ انوارالعلوم[ترمیم]

جامعہ امامیہ انوار العلوم کا بیرونی منظر
علامہ جوادی جامعہ امامیہ انوار العلوم (الہ آباد) کے دفتر میں

شہر الہ آباد میں مدرسہ امامیہ انوارالعلوم آپ کی مستقل یادگار ہے جس کی ادارت کے فرائض آپ کے بڑے فرزند مولانا سید جواد الحیدر جوادی انجام دے رہے ہیں ـ

اس مدرسہ کی تاسیس سنہ 1985ء میں عمل میں آئی ـ

اب تک اس مدرسہ سے کثیر تعداد میں طلاب علوم دینیہ زیور علم سے آراستہ ہو کر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے قم اور نجف کے حوزات علمیہ میں پہونچ چکے ہیں اور بہت سے طلاب، ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونی ممالک میں تبلیغ دین میں مشغول ہیں ـ

علامہ جوادی اور ادارہ تنظیم المکاتب[ترمیم]

علامہ جوادی اور بانی تنظیم المکاتب مولانا سید غلام عسکری

خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری کی محبت آپ کو کھینچ کر ادارہ تنظیم المکاتب میں لے آئی جہاں آپ پہلے کمیٹی کے رکن رہے، پھر نائب صدر اور آخر میں صدارت کے لیے منتخب ہوئے ـ

ادارہ کے پندرہ روزہ اخبار میں سوالات کے جوابات کا صفحہ آپ سے مخصوص تھا ـ

ابوظبی میں قیام[ترمیم]

سنہ 1978ء میں مومنین ابوظبی کی دعوت پر تبلیغ دین کی خاطر آپ مستقل طور پر ابوظبی میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں آپ مسجد رسول اعظم کے پیش نماز تھے اور وہیں رہ کر آپ نے اہم کتابوں کی تصنیف کا کام انجام دیا ـ اسی دوران آپ نے یورپ، امریکا، افریقہ، کناڈا اور دنیا کے دیگر ممالک میں تبلیغ دین کی خاطر سفر کیے ـ

شیعہ فقہ کی روشنی میں آپ کثیرالسفر ہونے کی بنا پر نماز مکمل پڑھتے تھے ـ

سنہ 1998ء تک آپ کا قیام ابوظبی میں رہا ـ

جب بھی آپ الہ آباد آتے تھے تو ہمیشہ نماز ظہرین اپنے مدرسہ، انوارالعلوم میں ہی پڑھاتے تھے اور بعد نماز طلاب سے قرآن و حدیث سے متعلق سوالات کرتے تھے اور اکثر اوقات مختلف موضوعات پر طلاب سے مقالات لکھواکر انہیں انعامات سے نوازتے تھے،ـ اس طرح طلاب میں مزید علم دین کا شوق پیدا ہوتا تھا ـ

مجموعہ سوالات[ترمیم]

علامہ جوادی عام طور پر ابوظبی سے ہر مہینہ الہ آباد آیا کرتے تھے ـ جب بھی آپ الہ آباد آتے تھے تو آپ کے مدرسہ کے بعض طلاب تحریری طور پر آپ سے سوالات کرتے تھے اور آپ حسب فرصت سوالوں کے نیچے دی ہوئی خالی جگہ میں تمام سوالات کا اطمینان بخش جواب تحریر کر کے واپس کردیتے تھے ـ

آپ کے جوابات کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ایک ہی سوالنامہ میں آپ ہر سوال کے جواب سے پہلے جداگانہ باسمہ سبحانہ ضرور لکھتے تھے ـ

راقم الحروف نے بھی اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے آپ کے ہر سفر میں تحریری طور پر مندرجہ ذیل موضوعات پر سوالات کیے جن میں سے بعض اہم سوالات یہاں پردرج کیے جا رہے ہیں تاکہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں :

الف: قرآن مجید :

1: قرآن اور حدیث قدسی میں کیا فرق ہے، ـ جبکہ دونوں ہی کلام اللہ ہیں ـ؟

2: سورہ کہف میں حضرت موسی اور خضرکے واقعہ میں، حضرت خضر نے نابالغ لڑکے کو جرم سے پہلے ہی کیوں قتل کر دیا جبکہ نابالغ تو جرم کے بعد بھی سزا کا حقدار نہیں ہوتا ـ؟

3: قرآن مجید کی روشنی میں اللہ بھی تواب ہے اور بندہ بھی ( ان اللہ ھو التواب الرحیم ـــ ان اللہ یحب التوابین ) ـــ اللہ بھی جبار ہے( العزیزالجبار المتکبر) اور بندہ بھی ــ جب لفظ ایک ہی ہے تو معنی میں فرق کیسے پیدا ہو گیا ـ؟

4: قرآن کے انزال اور تنزیل میں کیا فرق ہے ـ؟

5: روایت ہے کہ قرآن دفعی طور پر شب قدر میں لوح محفوظ سے بیت المعمور پر نازل ہوا اور پھر بیس سال میں بیت المعمور سے تدریجی طور پر قلب پیغمبر پر نازل ہوا ــ اس روایت کا مفہوم کیا ہے ـ؟ نیز مدت نزول تو تیئیس سال ہے ــ پھر اس روایت میں بیس سال کیوں بیان کی گئی ہے ـ؟

6: سورہ انعام آیت نمبر 59 : ۔۔۔۔ ولا رطب و لا یابس الا فی کتاب مبین ــ آیا اس آیت میں کتاب مبین سے مراد قرآن ہے ــ؟ جبکہ قرآن میں ہر خشک و تر موجود نہیں ہے ،ـ مثلا تمام انبیا الہی کے اسماء گرامی نہیں ہیں یا نماز کی رکعات کی تعداد نہیں ہے ـ؟

7: یصلون کے معنی صلوات پڑھنے کے بھی ہیں اور نماز پڑھنے کے بھی ــ دونوں معنی کی تشخیص ہم کیسے دیں ــ قرینہ کے ذریعہ یا کوئی اور راستہ ہے ـ؟

8: سورہ مائدہ آیت نمبر 75 : ما المسیح ابن مریم الا رسول، قد خلت من قبلہ الرسل، وامہ صدیقۃ، کانا یاکلان الطعام ۔۔۔ ــــ اس آیت میں اس جملہ کا فائدہ کیا ہے کہ عیسی اور مریم دونوں کھانا کھایا کرتے تھے ــ کھانا تو سبھی کھاتے ہیں ـ؟

9: ہمارے درمیان موجودہ قرآن کس کا جمع کردہ ہے ـ؟

10: جب حضرت علی کا جمع کردہ قرآن خلافت اولی میں قبول نہیں کیا گیا تھا تو پھر آپ نے خود اپنے دور خلافت میں اس قرآن کو کیوں رائج نہیں کیا ـ؟

11: عربی زبان میں خوف، خشیت، وجل، شفق، فرق، روع ــ ان تمام الفاظ کے معانی میں کیا فرق ہے، ـ جبکہ بظاہر سب کے معنی ڈر کے ہیں ـ؟

12: سورہ فتح آیت نمبر 11 : ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ، یداللہ فوق ایدیھم، فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ، ومن اوفی بماعاھد علیہ اللہ فسیؤتیہ اجرا عظیما ــ اس آیت میں علیہ کی ضمیر مضموم کیوں ہے ـ؟

13: سورہ مائدہ آیت نمبر 101 : یا ایھا الذین آمنوا لاتسئلوا عن اشیاء ان تبد لکم تسؤکم ــ اس آیت میں لفظ اشیاء کے غیر منصرف ہونے کی وجہ کیا ہے ـ؟

14: سورہ آل عمران آیت نمبر 112 : ویقتلون الانبیاء بغیرحق ــ میں بغیرحق کی قید کا فائدہ کیا ہے، ـ کیا انبیا کو برحق بھی قتل کیا جا سکتا ہے، ـ کیا اس لفظ سے انبیا کی عصمت پر حرف نہیں آتا ـ؟

15: سورہ آل عمران آیت نمبر 169 : ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون ــ اس آیت میں بل حرف عطف ہے اور لفظ احیاء، امواتا پر عطف ہوا ہے، ـ تو عطف کے تقاضے کی بنا پر احیاء منصوب کیوں نہیں ہے ـ؟

16: جب بنص قرآنی شرک کا گناہ قابل معافی نہیں ہے ( ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ۔۔۔ ) تو پھر صدر اسلام میں ہونے والے مسلمانوں کے اسلام کا کیا حکم ہے ـ؟

17: سورہ نجم آیت نمبر8 ــ 9 : ثم دنی فتدلی، فکان قاب قوسین او ادنی ــ آیت کے مطابق پیغمبر کس چیز سے قریب ہوئے، ـ آیت کا مفہوم کیا ہے، ـ نیز اس آیت میں فاصلہ کو کمان سے کیوں ناپا گیا ہے ،ـ کیا کمان بھی کوئی فاصلہ کا پیمانہ ہے ـ؟

18: قادر و قدیر اور عالم و علیم میں کیا فرق ہے، ـ نیز لفظ منطق صرفی اعتبار سے مصدر میمی ہے یا اسم ظرف ـ؟

19: شعبان اور رمضان، علم نحو کے قواعد کے مطابق منصرف ہیں یا غیر منصرف اور کیوں ـ؟

20: جب شب و روز کا وجود نہیں تھا تو قرآن کی ان آیات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا (خلق السماوات والارض فی ستۃ ایام) ـ؟

21: سورہ صافات آیت نمبر 130: سلام علی ال یاسین ـ اس آیت میں ال کے معنی کیا ہیں جبکہ لفظ تو آل ہونا چاہیے (آل یاسین)، نہ کہ ال یاسین ـ؟

22: سورہ قلم آیت نمبر 1 ـ 2: ن والقلم وما یسطرون ـ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ـ ان آیات میں یسطرون کا فاعل کون لوگ ہیں اور قلم سے مراد کون سا قلم ہے نیز پیغمبر کے مجنون نہ ہونے کا، قلم اور تحریر سے کیا تعلق ہے ـ؟

23: سورہ غافر آیت نمبر 60: وقال ربکم ادعونی استجب لکم ـ اس آیت میں لکم کا لام کس معنی میں ہے ـ؟

24: سورہ انسان آیت نمبر 8: و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا ـ اس آیت میں حبہ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے ـ؟

25: آیہ مودت کی روشنی میں مودت اور محبت میں کیا فرق ہے ـ؟

ب: حدیث :

1: نہر فرات کے پانی کا حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے مہر سے کیا تعلق ہے، ـ جیسا کہ آپ نے متعدد بار مجالس میں پڑھا ہے ـ؟

2: شیخ صدوق کی کتاب عیون اخبارالرضا میں روایت ہے کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کہ پاکیزہ ترین مقام کونسا ہے جہاں نماز نہیں ہو سکتی ـ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خانہ کعبہ کی چھت ہے ــ اس روایت کے ہوتے ہوئے کیا وجہ ہے کہ فقہا نے کتابوں میں خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنے کی صورت مفصل طور پر بیان کی ہے ـ؟

3: حدیث کساء میں لفظ یتلالؤ علم صرف کے لحاظ سے باب تفعلل سے ہے یا باب تفعل سے ـ؟

4: حدیث، روایت، اثر اور خبر میں کیا فرق ہے ـ؟

5: جب قاتلان امام حسین سے حضرت مختار نے دنیا میں انتقام لے لیا اور خود حضرت امام مہدی بھی ظہور کے بعد ان لوگوں سے خون امام حسین کا بدلہ لیں گے تو کیا پھر آخرت میں بھی ان ظالموں کا مؤاخذہ ہوگا اور کیوں ـ؟

6: جب حضرت امام مہدی ظہور کے بعد زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دیں گے اور دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا تو پھر روایت کے مطابق ایک بڑھیا پتھر مارکر خود امام مہدی کو کیونکر شہید کرے گی ــ کیا امام کو شہید کرنے سے بڑا بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہے ـ؟

7: آپ نے اپنی کتاب ذکروفکر میں حضرت عیسی کے شکم مادر میں رہنے کی مدت، چھ ماہ تحریر فرمائی ہے، ـ جبکہ تفسیر علی ابن ابراہیم قمی میں روایت کے مطابق نو ساعت بیان کی گئی ہے ـ؟

8: لفظ مہدی کی میم پر زبر ہے یا زیر نیز یہ لفظ صرفی اعتبار سے کیا ہے ـ؟

ج: تاریخ اسلام :

1: اسلام کا سب سے پہلا شہید کون ہے،۔ حضرت حارث ابن ابی ہالہ یا حضرت عمار کے والد حضرت یاسر ــ آپ نے اپنی کتاب نقوش عصمت میں الگ الگ مقام پر دونوں کا نام تحریر فرمایا ہے ـ؟

2: واقعہ ذوالعشیرہ میں مجمع کو بھڑکانے والا ابولہب تھا یا ابوجہل ــ آپ نے اپنی کتاب نقوش عصمت میں الگ الگ مقام پر دونوں کا نام تحریر فرمایا ہے ـ؟

3: رسول خدا (ص) نے ماں کے ہوتے ہوئے دائی کا دودھ کیوں پیا،۔ جبکہ حضرت موسی نے دائیوں کا دودھ نہیں پیا تھا اور پہلے ہی سے ان پر اللہ نے دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا : وحرمنا علیہ المراضع من قبل ـ؟

4: شیر قالین کا واقعہ کس امام سے منسوب ہے ــ امام جعفرصادق(ع)، امام علی رضا(ع) یا امام علی نقی(ع) ـ؟

5: تعزیہ داری کی شروعات کس نے کی ـ؟

6: میثم کے معنی کیا ہیں ـ؟

د: احکام :

1: پانی میں سر ڈبونے سے روزہ کیوں باطل ہوجاتا ہے ـ؟

2: آیا کلیجی کھانا شرعا مکروہ ہے ـ؟

3: عام حالات میں کعبہ کی طرف پیر کر کے سونے کا شرعا کیا حکم ہے ـ؟

4: کافر کو کھانا کھلانے کا شرعا کیا حکم ہے ـ؟

ایران سے رابطہ[ترمیم]

علامہ جوادی اور ایران کے نمائندے آقائے فتح اللہ پور

انقلاب اسلامی کے بعد ایران کے علمی حلقوں میں آپ کا بہت وقار تھا ـ لندن اور ایران وغیرہ میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنسوں میں آپ کو ہمیشہ دعوت دی جاتی تھی اور فصیح عربی زبان میں آپ کی تقاریر بہت پسند کی جاتی تھیں ـ

آپ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل، ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے آپ کی علمی اور تبلیغی خدمات سے متاثر ہو کر آپ کو مہاراشٹر اور جنوبی ہندوستان کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا اور اسی وجہ سے آپ سنہ 1998ء میں ابوظبی چھوڑ کر بمبئی منتقل ہو گئے تھے ـ وہاں آپ نے ادارہ اسلام شناسی قائم کیا تھا ـ

جب آپ ابوظبی سے بمبئی کے لیے روانہ ہوئے تو مومنین ابوظبی نے آپ سے وعدہ لیا تھا کہ ہرسال محرم کے پہلے عشرہ اور ماہ رمضان میں شبہای قدر کی مجالس آپ ابوظبی میں ہی خطاب کریں گے ـ

اس وعدہ پر عمل کرتے ہوئے آپ 1421ھ کے محرم میں بھی ابوظبی گئے تھے ـ [4]

وفات اور مدفن[ترمیم]

علامہ جوادی ، انتقال اور تکفین کے بعد ابو ظبی میں

1421ھ کے محرم میں عاشور کے روز حسب معمول آپ نے اعمال کرائے ـ مجلس شہادت پڑھی،ـ نماز ظہرین پڑھائی ـ جلوس عزا کی قیادت کی ـ

فاقہ شکنی کے بعد آپ استراحت کے لیے اپنی بیٹی کے گھر چلے گئے،ـ وہاں طبیعت خراب ہونے لگی تو ایمبولینس کے لیے فون کیا گیا،ـ جب تک ایمبولینس آئی آپ کا انتقال ہو چکا تھا ـ ابوظبی میں وہ عاشور کا دن تھا اور ہندوستان میں اس دن محرم کی نو تاریخ تھی ـ

جنازہ ہوائی جہاز کے ذریعہ دہلی اور وہاں سے لکھنؤ پہنچا ـ

لکھنؤ سے جیپ کے ذریعہ الہ آباد لایا گیا ـ

مجیدیہ اسلامیہ انٹرکالج کے میدان میں مولانا سید علی عابد الرضوی نے نماز جنازہ پڑھائی اور ہندوستانی اعتبار سے 12/ محرم 1421ھ مطابق 18/ اپریل سنہ 2000ء کو محلہ دریا آباد کے قبرستان میں ماں کے پہلو میں آپ کو سپرد لحد کیا گیا ـ

تاریخ وفات : 10/ محرم 1421ھ (عصرعاشور) مطابق 15/ اپریل 2000ء بروز شنبہ ـ (گویا آپ کی ولادت بھی شنبہ کو ہوئی اور وفات بھی)

تاریخ تدفین : 18/ اپریل 2000ء بروز سہ شنبہ ـ

اولاد[ترمیم]

آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ـ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جوادی، مقدمہ ترجمہ و تفسیر قرآن ( انوار القرآن )، صفحہ: 9
  2. یادنامہ علامہ جوادی (فارسی)، صفحہ: 8
  3. سایٹ موسسہ فرھنگی ترجمان وحی (فارسی)
  4. خورشید خاور، صفحہ: 151