مندرجات کا رخ کریں

رؤف پاریکھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
رؤف پاریکھ
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اگست 1958ء (68 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فرہنگ نویس ،  ماہرِ لسانیات ،  صحافی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

رؤف پاریکھ ایک اردو فرہنگ نویس، ماہر لسانیات، [2] مزاح نگار اور کالم نگار ہیں۔ وہ 26 اگست، 1958ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، پاریکھ صاحب نے کراچی میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انھوں نے 2003ء سے 2007ء تک اردو ڈکشنری بورڈ کراچی کے لیے بطور مدیرِ اعلٰی [3] کام کیا۔ روزنامہ ڈان میں ہفتہ وار ادبی کالم لکھتے ہیں۔[4] 16 دسمبر 2020ء کو ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد کے صدر نشین مقرر ہوئے۔

تصانیف

[ترمیم]

رؤف پاریکھ اردو لغت نویسی، لسانیات، تنقید اور مزاح نگاری کے ایک ایسے ہمہ جہت مصنف ہیں جنھوں نے تحقیق، تنقید، لغت، سماجی مطالعے اور زبان کے ارتقائی پہلوؤں پر یکساں گرفت کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کی علمی کاوشوں کا دائرہ صرف تحقیقی و تنقیدی تحریروں تک محدود نہیں بلکہ وہ بیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں اردو زبان کی تہذیبی، لسانی اور ادبی تاریخ کے اہم گوشے منظم انداز میں سامنے آتے ہیں۔ ’’اردو لغت‘‘ کے جلد 19، 20 اور 21 کی تدوین میں ان کی شمولیت ان کے لغت نویسی کے دقیق اور محققانہ رویے کی بہترین مثال ہے؛ ان جلدوں کی تیاری میں صرف الفاظ کے معانی نہیں بلکہ ان کے تاریخی اور سماجی استعمال کی چھان بین بھی ان کے علمی وقار کو نمایاں کرتی ہے۔ ’’اردو لغت نویسی: تاریخ، مسائل اور مباحث‘‘ میں انھوں نے اردو لغات کا ارتقائی پس منظر، ہندوستانی و اسلامی لغت نویسی کی روایت، تدوینی تکنیکیں، لغوی مواد کے انتخاب اور معنوی تواریخ کی تفصیلات شاندار ترتیب سے بیان کی ہیں اور یہ کتاب جدید اردو لغت نویسی کا بنیادی ماخذ مانی جاتی ہے۔ ’’دی اوکسفرڈ اردو–انگریزی ڈکشنری‘‘ پر ان کا کام عالمی معیار کی لسانی تحقیق میں اردو زبان کے مقام کو مضبوط کرتا ہے، کیونکہ اس میں انھوں نے اردو الفاظ کے انگریزی مترادفات، استعمالات اور معنوی جہات کو عصری تقاضوں کے مطابق مرتب کیا۔ اسی طرح ’’عصری ادب اور سماجی رجحانات‘‘ میں انھوں نے سماجیات اور ادب کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ادبی متن معاشرتی رویوں کا مظہر بنتا ہے۔ پہلی بار مرتب ہونے والی ’’اولین اردو سلینگ لغت‘‘ ان کے تحقیقی تنوع کی بہترین مثال ہے، جس میں انھوں نے عام بول چال اور مقامی ٹکسالی محاورات کو لغوی تسلسل کے ساتھ جمع کیا، جو پہلے کبھی باقاعدہ علمی مرتبے میں محفوظ نہ ہو سکے تھے۔ ’’اردو نثر میں مزاح نگاری اور سماجی پس منظر‘‘ میں انھوں نے اردو مزاح کی روایت، فن پاروں کی ساخت، اسلوب، سماجی طنز اور طبقاتی مزاح کے پہلوؤں کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ’’علمِ لغت، اصولِ لغت اور لغات‘‘، ’’علمِ لغات (اصول اور تنقید)‘‘، ’’لغات (تحقیق و تنقید)‘‘ اور ’’لسانیاتی مباحث‘‘ جیسی کتابوں میں انھوں نے لفظیات، صوتیات، معنیاتی تبدیلی، لغات کی درجہ بندی، تدوین کے اصول اور لسانیات کے نظری مباحث کو مدلل اور تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی ’’لغت نویسی اور لغات‘‘ میں لغت سازی کے تاریخی رجحانات، تدوینی عملیاتی مشکلات، جدید لغت نویسی کے معیارات اور اردو زبان کے لغوی سرمائے کی تشکیلِ نو پر بھرپور گفت و شنید شامل ہے۔ مجموعی طور پر رؤف پاریکھ کا کام اردو لغت اور لسانیات کے علمی ذخیرے میں ایک عہد ساز اضافہ ہے جو آگے آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی حوالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

رؤف پاریکھ کی لسانیاتی خدمات: اکیسویں صدی کے تناظر میں

[ترمیم]

”رؤف پاریکھ کی لسانیاتی خدمات: اکیسویں صدی کے تناظر میں“[5]کے عنوان سے محمد عثمان بٹ کا تحقیقی مقالہ 2022ء میں سامنے آیا۔ اِس میں اُنھوں نے رؤف پاریکھ کے 2001ء کے بعدمنظرِ عام پر آنے والے لسانیاتی کاموں کا احاطہ کیا ہے۔ یہ مضمون اکیسویں صدی کے تناظر میں ایک ماہر لسانیات اور لغت نگار ہونے کے ناطے اُردو لسانیات کے شعبے میں رؤف پاریکھ کے کام کی دو اہم جہتوں سے متعلق ہے۔ اُن کی اہم لسانی شراکتیں اُردو لغت کے خصوصی حوالے سے تاریخ، اُصولوں، طریقوں اور مباحث کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اُردو سلینگ لغت کے میدان کے بنیاد گزار ہیں کیوں کہ اُنھوں نے 2006ء میں پہلی اُردو سلینگ ڈکشنری تیار کی تھی۔ اُردو لُغت (تاریخی اصول پر) جلد 19، 20 اور 21 اُن کی ادارت میں اُردو لُغت بورڈ کراچی سے جاری کی گئی ہے۔

محمد عثمان بٹ لکھتے ہیں:

” میں انھیں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کا حقیقی جانشین کہتا ہوں، جو بیسویں صدی کے ایک عظیم ماہر لسانیات اور لغت نگار تھے۔“[5]

صدارتی ایوارڈ

[ترمیم]

حکومت پاکستان نے 2018ء میں تقسیم اعزازات کے موقع پر شعبۂ اردو، جامعہ کراچی کے استاد ڈاکٹر رؤف پاریکھ کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. https://www.rekhta.org/authors/rauf-parekh
  2. "WORD For word: Arabic words in English"۔ Daily Times (Pakistan)۔ 2 نومبر 2003۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-11-10
  3. "New volume of Urdu dictionary"۔ http://dawn.com/2005/07/06/local12.htm Gulf Times۔ 7 جولائی 2005۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-11-10 {{حوالہ خبر}}: |کاوش= میں بیرونی روابط (معاونت)
  4. News stories for Rauf Parekh - DAWN.COM
  5. ^ ا ب محمد عثمان بٹ (30 جون 2022ء)۔ "رؤف پاریکھ کی لسانیاتی خدمات: اکیسویں صدی کے تناظر میں"۔ IMTEZAAJ, URDU RESEARCH JOURNAL۔ UOK - KARACHI۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-08-28