رئیس احمد جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رئیس احمد جعفری
معلومات شخصیت
پیدائش 23 مارچ 1914  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھیم پور، اترپردیش  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 اکتوبر 1968 (54 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء
جامعہ ملیہ اسلامیہ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی، مترجم، مؤرخ، ناول نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ بھارت، سوانح، ترجمہ، تاریخ اسلام، ناول  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: 23 مارچ، 1914ء - وفات: 27 اکتوبر، 1968ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مورخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

رئیس احمد جعفری 23 مارچ 1914ء[1] کو لکھیم پور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ندوۃ العلما، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان کے مضامین مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگے تھے۔[2]

1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد ان کی کی سوانح عمری سیرت محمد علی کے نام سے تحریر کی۔ 1934ء میں مولانا شوکت علی نے انہیں روزنامہ خلافت بمبئی کا مدیر مقرر کیا۔ مولانا شوکت علی کی وفات کے بعد وہ روزنامہ ہندوستان اور روزنامہ انقلاب، لاہور جیسے اخبارات کے مدیر رہے۔ 1949ء میں وہ پاکستان چلے آئے، پاکستان میں بھی وہ کئی اخبارات اور جرائد کے مدیر اور نائب مدیر رہے جن میں روزنامہ خورشید، ماہنامہ ریاض، روزنامہ زمیندار اور سہ ماہی ثقافت کے نام سرفہرست ہیں۔[2]

رئیس احمد جعفری کی تصانیف، تراجم اور تالیفات کی تعداد 300 سے زائد ہے جن میں اقبال اور عشق رسولؐ، دیدو شنید، علی برادران، اوراق گم گشتہ، اقبال اور سیاست ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوّف، تاریخ دولت فاطمیہاور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد زیادہ مشہور ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • واجد علی شاہ اور ان کا عہد
  • بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد
  • علی برادران
  • اوراق گم شدہ
  • دید و شنید
  • حکایات اغانی (جزو اول)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو دوم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو سوم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو چہارم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو پنجم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو ششم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • حکایات اغانی (جزو ہفتم)، از ابوالفرح علی بن حسین (ترجمہ)
  • مفرور (ناول)،جوزف ہیز (ترجمہ)
  • زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے،روز وائلڈرلین (ترجمہ)
  • اقبال اپنے آئینے میں
  • اقبال اور سیاست ملی
  • اقبال اور عشق رسول
  • حیات محمد علی جناح
  • مسلم لیگ، قائد اعظم و مولانا مودودی
  • خطباتِ قائدِ اعظم
  • قائدِ اعظم اور ان کا عہد
  • نگارشاتِ محمد علی (جوہر شناسی)
  • سیرت محمد علی (جوہر شناسی)
  • رندِ پارسا (ریاض خیرآبادی کے حالات سوانح و کلام)
  • باغی (ناول)
  • اورنگزیب
  • غدر
  • احمد و ایاز
  • مولانا محمد علی جوہر
  • الناصر
  • خون بہتا رہا
  • دام خیال
  • ہچکولے (ناول)
  • تعلق (ناول)
  • نازلی (ناول)
  • نفرت (ناول)
  • محبت کا انتقام (ناول)
  • یورش (ناول)
  • پاگل (ناول)
  • جال (ناول)
  • بدنام (ناول)
  • دل کے آنسو (افسانہ)
  • خلیفہ ہارون الرشید اور اُس کا عہد
  • تاریخ خوارج
  • تاریخِ تصوّف
  • شہاب الدین غوری
  • خون کی ہولی (ناول)
  • کشمیر اور جونا گڑھ کی کہانی ( ترجمہ)
  • آزادی ہند
  • سیاست شرعیہ
  • امامت و سیاست
  • اسلام اور رواداری
  • اسلام اور عدل و احسان
  • سفرنامہ ابن بطوطہ حصہ اول و دوم (ترجمہ)
  • امام جعفر صادق
  • آثار امام محمد و ابو یوسف
  • آثار امام شافعی
  • امام ابوحنیفہ
  • امام ابن تیمیہ
  • امام احمد بن حنبل
  • تاریخ دولت فاطمیہ
  • آثار امام محمد ابو یوسف
  • اسوہ علی
  • حضرت امام جعفر صادق
  • سیرت ائمہ اربعہ
  • حجاج بن یوسف
  • خوارزم شاہ
  • حضرت محل
  • گل کدہ (مضامین)
  • فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
  • ٹام راج سے رام راج تک
  • علاؤ الدین خلجی
  • تاریخ اسلا م موسوم بہ کاروان اسلام
  • تغلق
  • ماہرین تعلیم
  • رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم
  • غزالی نامہ
  • چنگاری
  • اسلامی جمہوریت
  • حیدرآباد ۔۔۔۔۔ جو کبھی تھا؟
  • الناصر

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے رئیس احمد جعفری کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست، 1966ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا۔[2]

وفات[ترمیم]

رئیس احمد جعفری 27 اکتوبر، 1968ء کو پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ سوسائٹی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔[2][1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پروفیسر محمد اسلم، خفتگانِ کراچی، ادارہ تحقیقات پاکستان، دانشگاہ پنجاب لاہور، نومبر 1991، ص 253
  2. ^ ا ب پ ت ٹ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 291