رائے سین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رائے سین بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش کا ایک ضلع ہے جو  22ء47 درجہ عرض البلد 23ء33 درجہ شمال میں اور 77ء21 طول البلد اور 78 ء 49 مشرق میں واقع ہے ، جس کے تحت 8 تحصیل ہیں ،2011ء کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 1331699 ہے ۔

ابتدائیہ[ترمیم]

رائے سین صوبۂ مالوہ کا ایک پرانا تاریخی مقام ہے؛ لیکن درمیان میں اپنی عظمت کو کھو بیٹھا ، حضرت شاہ فتح اللہ کی اقامت فرمائی نے اس کو ازسرنو زندگی بخشی، عرصے بعد یہ علاقہ مرکز اسلام بن گیا، یہ قصبہ شہر بھوپال سے جانب مشرق اڑتالیس میل کوہ وندھیاچل کےدامن میں آباد چلا آ رہا ہے، قلعہ رائے سین سطح سمندر سے انیس سو ساٹھ میل کی بلندی پر واقع ہے ، اس کی تعمیر بدھوں یا گونڈ راجاؤں کی یادگار ہے جو قدیم حسن تعمیر کااعلی نمونہ ہے ،  راجا رائے سین نے ایک ہزار قبل مسیح علیہ السلام اپنے نام یا قلعہ کے نام پر آباد کیا تھا[1]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

ہندی زبان میں "رائے" کے معنی سردار اور "سین" نام کا آخری حصہ ہے، اس طرح اس کا نام "رائے سین" ہو گیا ، تاریخ قدیم میں اس کی آبادی ایک لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے ، اس دور میں جاٹوں اور راجپوتوں وغیرہ کی بستی تھی ، پھر جب مسلم حکومتوں کا دور آیا تو یہ مقام مختلف دوروں سے گزرتا رہا ، ان مسلمان اولوا العزم دس بادشاہوں نے اس ناقابل تسخیر قلعہ کو فتح کرکے اپنی شجاعت کا سکہ دلوں پر بٹھایا ، اگرچہ قلعہ رائے سین ملک کے دیگر قلعوں ، چتوڑ گڑھ ، اسیر گڑھ کی طرح ملک گیر شہرت حاصل نہ کر سکا لیکن یہ قلعہ جنوبی ہندوستان کا دروازہ رہا ہے۔

مسلم فاتحین رائے سین[ترمیم]

سب سے پہلے اس قلعہ کو سلطان التمش نے بشمول ]]آشٹہ[[ و بھیلسہ ٦٢١ھ میں فتح کرکے مالوہ پر قبضہ کیا۔

پھر شہنشاہ علاءالدین خلجی نے اپنی ولی عہدی کے دور ٦٩٢ ھ میں اس کو فتح کیا۔

پھر شہنشاہ محمد تغلق نے ٧٤٠ھ میں قلعہ رائے سین و بھیلسہ کو فتح کرکے اس کو مرکز کے ماتحت کیا۔ اس کے بعد صاحب خان نے ٩١٧ ھ میں اس کو فتح کیا اور خود حاکم بن بیٹھا ، یہ زمانہ سکندر لودھی کا زمانہ تھا۔

ہمایوں بادشاہ نے بعہد ولی عہد ٩٣١ ھ میں ایک خون ریز جنگ کے بعد فتح کر کے اس قلعہ کو قوام خاں حاکم بھیلسہ  کے سپرد کر دیا۔

چھٹی بار بہادر شاہ گجراتی 938ھ /1532 نے اس قلعہ کو اور [[آشٹہ]] اور بھیلسہ کو سخت جنگ کے بعد فتح کیا، جس کا افسوسناک سبب یہ بنا کہ راجا سلہدی پورنیہ نے یہان مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کرائی جس  کی خبر سلطان محمود خلجی کو پہنچی تو اولا اس نے لشکر کشی کی، جب راجا مذکور نے معافی چاہی تو بادشاہ نے راجا کو خلعت شاہی سے نوازا ، دوبارہ پھر سلطان بہادر شاہ گجراتی کو اس کی طرف رخ کرنا پڑا جب کہ راجا سلہدی ،اس کے بھائی اور لکھمی قلعدار اپنے لڑکے بہو پت کے ساتھ سلطان سے مقابلہ کے لیے تیار ہوا ، راجا کے سپاہیوں نے شب خوں مار کر سلطان کے سپاہیوں کو زک پہنچائی؛ چنانچہ سلطان نے بھی شب خون مار کر دشوار گزار قلعہ کی فصیلوں پر چڑھ کر فصیلوں سے کود کر بند دروازہ کو کھول دیا ، بے حد خوں ریزی کے بعد راجا سلہدی اور لکھمی مارا گیا ، بھوپت نے قلعہ چتوڑ میں بھاگ کر پناہ لی سلطان  نے چتوڑ بھی فتح کرکے زیر نگیں کر لیا ۔

پھرجب سلطان بہادر شاہ کو ہمایوں بادشاہ سے شکست ہوئی تو راجا سلہدی کے لڑکے پورن مل نے پھر ظلم پر کمر باندھی اور دوہزار مسلمان عورتوں کو سر بازار نکال کر رقص کے لیے مجبور کیا اور ظالم اس پر قہقہہ زن تھا ، اس بیہودہ واقعہ کی اطلاع جب شیر شاہ سوری کو ملی تو اس نے رائے سین پہنچ کر چند ماہ میں قلعہ کو فتح کیا ، 951 ھ میں راجا پورن مل مارا گیا ، بادشاہ نے اپنے حسن سلوک سے رعایا کو رام کیا اور ان عورتوں کو ان کے گھر روانہ کیا ۔

سلطان باز بہادر 962ھ/1554 نے آٹھویں بار قلعہ رائے سین و بھیلسہ  کو فتح کرکے مصطفی خان کو حاکم بنایا۔

پھر نویں بار اکبر بادشاہ نے968ھ میں قلعہ کو فتح کرکے صدر مقام بنایا اور سرکار رائے سین کاخطاب دیا۔

کہا جاتا ہے کہ گیارہویں صدی میں یہ قلعہ حضرت عالمگیر نے بعد جنگ فتح کیا ، مورچہ بندی کے نشانات سیتاتلائی پر اب تک نمودار  ہیں ، جو قلعہ سے بجانب شمال نشیبی علاقہ میں دو میل کے فاصلہ پر واقع ہے ، اگرچہ تاریخ اس بارے میں خاموش ہے، لیکن یہ امر عوام میں مشہور چلا آرہا ہے ۔

قدیم رائے سین کی آبادی[ترمیم]

پرانے قصبہ رائے سین کی آبادی نصف قوس آسمانی یا نیم دائرے کی طرح قدر مستطیل پہاڑ کے دامن میں مشرق و شمال رویہ واقع ہے ، جس کا طول ڈیڑھ میل اورعرض بہت کم ہے ، مغربی رویہ پرانی عمارات کے کھنڈر اس کی سابقہ عظمت کا اعلان کر رہے ہیں[2] ۔

قلعہ رائے سین[ترمیم]

قلعہ رائسین وندھیاچل کی پہاڑی پر 1960 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ، چار سو اسی بیگہ ڈھائی تین میل کے دور میں بنا ہوا ہے ، یہ قلعہ قدیم گونڈوں پھر بدھ مت کے پیرووں نے ابتدا٫ ڈھائی تین ہزار برس پہلے تعمیر کیا تھا ، پھر آہستہ آہستہ  "ہر کہ آمد عمارت نوساخت"  کا مصداق بن گیا ، اس قلعہ کے مشرقی راستہ  پر آمدورفت کے تین دروازے ہیں ، دروازے گاڑی بان کے نام سے ہیں ، کل آٹھ  بلند دروازے تھے، نوا دروازہ چور دروازہ ہے ،جو مسجد شاہی کے صحن میں سےسرنگ  کے ذریعہ غار میں سے ہوتا ہوا سیتاتلائی پر ختم ہوتا ہے ،  یہ پرانے زمانے کی سرنگ پیچ درپیچ بل کھاتی ہوئی دو میل تک چلی گئی ہے اور اس قدر وسیع ہے کہ تین چار آدمی صف بستہ  جا سکتے ہیں ، یہ نو دروازے چار راستوں میں بٹے ہوئے ہیں ، قلعہ  کے سنگین اور پختہ وسیع 13 برج ہیں  اور ہر برج میں توپوں کے رکھنے کی جگہ ہے، قلعہ رائسین بیضوی شکل کا مستطیل ڈھائی تین میل کے دائرہ میں ہے ، ریاست کے نوابوں کے دور میں  دو ہزار سوار وگولہ انداز مع میگزین کے رہتے تھے ،عہد سکندری 1285 ہجری میں ان کی تعداد ڈھائی تین سو سواروں کی کردی گئی ،شاہجہانی دور میں پچاس ساٹھ رہ گئے، آخری سردار محمد زماں خاں ہوئے،اس قلعہ کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر بیس پچیس ہزار فوج مع سامان رسد کے  رہ سکتی تھی[3]۔

قلعہ میں موجود محلات[ترمیم]

اس کے اندر کئی عالیشان محل ، ہوا محل  ، بادل محل ، راج محل وغیرہ اپنے بانیوں کی عجیب و غریب دستکاری کی نشان دہی کر رہے ہیں  ۔

•  عطردان : مختصر مکان ، طویل چھت ، مضبوط مرغی کے نصف انڈے کی طرح ہے ، جس کے اندر صدہا طاقچے بنے ہوئے ہیں ۔

•  بادل محل : دو تین منزلہ عمارت کئی قطعات میں چونے اور پتھر سے وسیع رقبہ میں بنی ہوئی ہے ، چھت بلند و خوشنما راجا روہنی کے عہد کی ہے۔

•  ہوا محل : دالان در دالان دو منزلہ سہ منزلہ تھا ، سنگ خارا کے ستر اسی ستون ترشے ہوئے بغیر چھت کے ہیں ، غالبا چھت تعمیر ہونے سے رہ گئی ہے جو دس بارہ میل سے نظر آتا ہے ۔

تالاب[ترمیم]

اس قلعہ میں48 ٹانکا پانی کے تھے، چار تالاب پختہ ،ایک عجیب وغریب تالاب "مداگنج" کے نام سے حیات محمد خان کے دور میں 1120 ہجری  میں اور ڈورہ ڈوری نظر محمد خان 1223 ہجری میں تعمیر  کیے ، ان دونوں میں عجیب و غریب صنعت یہ ہے  کہ ایک تالاب کا پانی دوسرے تالاب میں خود بخود چکر لگاتا ہوا آتا رہتا ہے [4]۔

مدرسہ غانم الملک[ترمیم]

•  مدرسہ غانم الملک : جو 890 ھ کا تعمیر کردہ حسین و خوبصورت ، خوش قطع اور دلکش گچ کا بنا ہوا ہے ، چھت بہت لانبی جس کے اندر چار سو طلبہ کا دارالاقامہ {ہوسٹل}ہزار آدمی اس چھت پر بیٹھ سکتے ہیں ، اس کے دالان میں سات محرابی دروازے ہیں، دونوں بازووں پر  دوپختہ زینے سنگین وسیع ہیں اور جنوبی سمت میں بھی ایک وسیع دالان مشرق و مغرب میں متعدد قطعات ہیں ، یہ مدرسہ صحیح وسالم قائم اپنے بانی کی اولوالعزمی اور پختہ ہمتی پر شاہدہے ، اب یہ مدرسہ عالمگیری بارہ دری کے نام سے مشہور ہے۔

مساجد[ترمیم]

اسی مدرسہ سے متصل ایک خوبصورت مختصر و  مستحکم دالان در دالان کی مسجد سنگین دو گنبد کی ہے ، جس کے اندر سوا سو آدمی صف بستہ ہو سکتے ہیں ۔

ایک اور مسجد جہانگیر بادشاہ متوفیٰ 1081 ہجری نے تعمیر کی تھی جو نہ رہی۔ ،قلعہ کے اندر ایک اور مسجد شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ 951 ہجری  ہے جس کے اندر پانچ دالان در دالان تھے ہر درجہ کے سات سات در ہیں ، اس کے ستون سنگین اور عرش و فرش بھی سنگین ہیں ، اصل چاردیواری جو قلعہ کی طرح مضبوط اور بلند تھی  اس کے علاوہ اور بھی مساجد تھیں جو مٹ مٹا کر شہید ہوگئیں[5]۔

یہ بھی دیکھیں[ترمیم]

قلعہ رائے سین مرکزی سرکار کا تخت رہا پھر نواب فیض بہادر شاہ کو عالمگیر ثانی کے دور میں قلعہ داری دی گئی[6]۔

حوالہ جات[ترمیم]


  1. تاریخ ہندوئم
  2. تاریخ رائے سین
  3. قطب مالوہ
  4. تاریخ رائے سین
  5. قطب مالوہ
  6. مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی