رابرٹ فسک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رابرٹ فسک
رابرٹ فسک 2008 میں نیوزی لینڈ میں ایک کتابوں کے ملے میں
رابرٹ فسک 2008 میں نیوزی لینڈ میں ایک کتابوں کے ملے میں

معلومات شخصیت
پیدائش 12 جولا‎ئی 1946 (71 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میڈسٹون[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ لارا مارلوو (1994 - 2006)
عملی زندگی
تعليم لینسسٹر یونیورسٹی (بی اے، 1968 میں)


ٹرینٹی کالج، ڈبلن (پی ایچ ڈی، 1985 میں)

مادر علمی University of Lancaster  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مڈل ایسٹ میں د انڈیپنڈنٹ کے رپورٹر
تصنیفی زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
جامعہ گینٹ سے پی ایچ ڈی کی اعزازی سند (2006)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDB IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

رابرٹ فسک (انگریزی میں: Robert Fisk) (١٢ جولائی 1946 میڈسٹون، برطانیہ میں) ایک برطانوی رپورٹر ہیں جو مڈل ایسٹ میں انگریزی اخبار « د انڈیپنڈنٹ » کے لئے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ او پچھلے 30 برس سے زیادہ سے اس علاقے میں کام کر رہیں ہیں۔ 1976 میں مڈل ایسٹ میں گئے، فسک ان چنندہ رپورٹروں میں سے ایک ہیں جو اسامہ بن لادن سے کئی بار ملے ہیں۔ اسامہ سے ان کی پہلی ملاقات سوڈان میں ہویی تھی اور آخیری بار افغانستان میں انہوں نے اس سعودی کا انٹرویو لیا تھا۔

جنگیں[ترمیم]

اپنے لمبے کریر کے دوران فسک نے کئی جنگوں پر رپورٹنگ کی ہے۔ ان میں اسرائیل کے لبنان پر 1978 اور 1982 کے حملے ، 1979 کا ایرانی انقلاب، ایران عراق جنگ (1980 سے 1988)، سوویت یونین کا افغانستان میں آنا (1980)، پہلی کھاڑی جنگ (1991)، بوسنیا کی جنگ (1992 سے 1996) اور الجزائر کی 1992 میں شروع ہوئی خانہ جنگی شمار ہیں۔[4]

1992 میں او فسک ہی تھے جنہوں نے لبنان کے قانا‎ میں اقوام متحدہ (UN) پر اسرائیلی بمباری کی خبر لیک کی تھی۔[4]

انعام[ترمیم]

فسک اپنی بہادر رپورٹنگ کے لئے مشہور ہیں۔ انھیں اپنی دلیر رپورٹنگ کے لئے کئی انعام ملیں ہیں۔ ان میں سے کچھ انعام ہیں[4]:

  • اقوام متحدہ کا پریس اوارڈ، 1986
  • د برٹش جرنلسٹ اوف د یئر، سات بار
  • جوہنس ہوپکنس کا انٹرنیشنل جرنلزم کے لئے SIAS-CIBA اوارڈ، 1996
  • امنستی انٹرنیشنل کا آور آل میڈیا اوارڈ، 1998

کتابیات[ترمیم]

فسک نے آج تک کئی کتابیں لیکھی ہیں۔ کتابیں انگریزی میں ہیں اور ان کا ابھی تک اردو میں ترجمہ ہونا باقی ہے۔ نیچے ان کے نام ہیں:

  • فسک، رابرٹ (1975)۔ The Point of No Return: The Strike Which Broke the British in Ulster
  • فسک، رابرٹ (1983)۔ In Time of War: Ireland, Ulster and the Price of Neutrality 1939-45
  • فسک، رابرٹ (2001)۔ Pity the Nation: Lebanon at War
  • فسک، رابرٹ (2005)۔ The Great War for Civilisation: The Conquest of the Middle East

ان میں سے چوتھی کتاب کا عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ عربی ترجمے کا نام « الحرب الكبرى تحت ذريعة الحضارة - الحرب الخاطفة » ہے۔ یہ کتاب بیروت میں 2008 میں شركة المطبوعات للتوزيع والنشر نامی ناشر نے شائع کی تھی۔

حوالے[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm1745178 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015
  2. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 13 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. http://www.ugent.be/nl/univgent/collecties/archief/geschiedenis/overzichten/eredoctoren.htm#2000%20-%202009 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 فروری 2017
  4. ^ 4.0 4.1 4.2 رابرٹ فسک کی زندگی کے بارے میں ایک چھوٹا سا مضمون

زیادہ معلومات کے لئے[ترمیم]