رابطہ (رموز اوقاف)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رابطہ: (:) اس کا استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں جملے کی کسی سابق بات یا خیال کی تشریح یا تصدیق کی ضرورت ہو۔

  • بقول شاعر: ع آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے
  • کسی مختصر مقولے یا کہاوت کو بیان کرنا ہو یا تمہیدی جملے کے بعد یہ علامت آتی ہے۔
  • جواد ثاقب صاحب نے کیا خوب کہا ہے: تندرستی ہزار نعمت ہے۔
  • دو ایسے جملوں کے درمیان جو ایک دوسرے کی ضد ہوں لیکن دونوں مل کر جملہ پورا کریں۔ مثلاََ:ـ
  • انسان چل سکتا ہے: اُڑ نہیں
سکتا۔