رابعہ خضداری
رابعہ خضداری جو رابعہ بلخی کے نام سے بھی مشہور ہیں، رابعہ پہلی تاجک فارسی گو شاعرہ تھیں۔ جو چوتھی صدی ہجری کی فارسی شاعرہ کے طور پر مشہور ہوئیں۔[1] رابعہ کے والد کعب قزداری تھے۔ آپ تاجیک النسل تھے اور خراسان، قندھار، بست کے حاکم رہے۔
حالاتِ زندگی اور ادبی اہمیت
[ترمیم]رابعہ کا تعلق نویں اور دسویں صدی عیسوی کے سامانی سلطنت کے دور سے تھا۔ وہ ایک اشرافیہ کی رکن تھیں اور انھیں اعلیٰ تعلیم و تربیت دی گئی تھی۔ اس دور میں بلخ (موجودہ افغانستان) تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا جسے "قبۃ الاسلام" کہا جاتا تھا۔ رابعہ کو فارسی شاعری کی "پارسئ دری" (نئی فارسی) کی ابتدائی مشق کرنے والی خواتین میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ فارسی ادبی روایت کی تشکیل میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔[2]
عشق کی داستان اور المناک انجام
[ترمیم]رابعہ کی زندگی کا سب سے المناک اور مشہور پہلو ان کی اپنے بھائی، حارث، کے ترک غلام "بکتاش" سے محبت کا قصہ ہے۔ بکتاش شاہی خزانچی اور محافظ تھا۔ جب حارث کو اس ناجائز محبت کی خبر ہوئی تو اس نے انتقام کے طور پر بکتاش کو کنویں میں ڈال دیا اور رابعہ کو محل کے حمام (غسل خانے) میں قید کر دیا۔[2]
قید میں، رابعہ نے اپنے ہاتھ کی رگیں کاٹ کر اپنے خون سے حمام کی دیواروں پر اپنی آخری محبت کی نظمیں لکھیں۔ اس شہادت کے عمل کے بعد وہ وہیں دم توڑ گئیں۔ بعد ازاں، بکتاش کو رہا کیا گیا اور اس نے حارث کو قتل کرنے کے بعد حمام میں اپنی محبوبہ کی لاش کے پاس خودکشی کر لی۔[2]
ادبی اور ثقافتی ورثہ
[ترمیم]رابعہ بلخی کی شاعری کا کوئی مکمل دیوان موجود نہیں ہے، تاہم ان کے اشعار اور کہانی صوفی شاعر فرید الدین عطار کی مثنوی "الٰہی نامہ" اور محمد عوفی کی "لباب الالباب" جیسے تذکروں میں محفوظ ہیں۔ عطار اور بعد کے صوفی شعرا نے رابعہ کے زمینی عشق کو عشقِ حقیقی کا ایک راستہ قرار دیا ہے، جس سے ان کی داستان کو مقدس اہمیت حاصل ہوئی۔[2]
آج رابعہ بلخی کو افغان ثقافت میں ایک نسائیت پسند علامت، سچے عشق کی شہید اور پدرشاہی نظام کے خلاف آواز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا مزار بلخ میں واقع ہے اور آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔[2]
نمونہ کلام
[ترمیم]مرا بعشق همی متهم کنی بہ حیل چہ حجت آری پیش خدای عزوجل بہ عشقت اندر عاصی همی نیارم شد بذنبم اندر طاغی همی شوی بمثل نعیم بی تو نخواهم جحیم با تو رواست کہ بی تو شکّر زهر است و با تو زهر عسل بروی نیکو تکیہ مکن کہ تا یکچند بہ سنبل اندر پنهان کنند نجم زحل هرآینہ نہ دروغ است آنچہ گفت حکیم فمن تکبر یوماً فبعد عز ذل دعوت من بر تو آن شد کایزدت عاشق کناد بر یکی سنگیندل نامهربان چون خویشتن تا بدانی درد عشق و داغ هجر و غم کشی چون بهجر اندر بپیچی پس بدانی قدر من ز بس گل کہ در باغ مأوی گرفت چمن رنگ ارتنگ مانی گرفت صبا نافهٔ مشک تبت نداشت جهان بوی مشک از چہ معنی گرفت مگر چشم مجنون بہ ابر اندر است کہ گل رنگ رخسار لیلی گرفت بہ میماند اندر عقیقین قدح سرشکی کہ در لالہ مأوی گرفت قدح گیر چندی و دنیی مگیر کہ بدبخت شد آنکہ دنیی گرفت سر نرگس تازہ از زرّ و سیم نشان سر تاج کسری گرفت چو رهبان شد اندر لباس کبود بنفشہ مگر دین ترسی گرفت عشق او باز اندر آوردم بہ بند کوشش بسیار نامد سودمند عشق دریایی کرانہ ناپدید کی توان کردن شنا ای هوشمند عشق را خواهی کہ تا پایان بری بس بباید ساخت با هر ناپسند زشت باید دید و انگارید خوب زهر باید خورد و انگارید قند توسنی کردم ندانستم همی کز کشیدن تنگتر گردد کمند حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "گزارش فرهنگستان زبان و ادب فارسی۔ ص 63" (PDF)۔ 2013-04-18 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-13
- ^ ا ب پ ت ٹ "The Story of Rabia Balkhi, Afghanistan's Most Famous Female Poet"۔ Ajam Media Collective۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-25
- 856ء کی پیدائشیں
- خراسان کی شخصیات
- دسویں صدی کی مصنفات
- دسویں صدی کے فارسی شعرا
- دسویں صدی کے مصنفین
- دولت سامانیہ کے شعراء
- فارسی مصنفات
- دسویں صدی کی پیدائشیں
- فارسی زبان کے شعرا
- دسویں صدی کی ایرانی شخصیات
- 943ء کی وفیات
- 914ء کی پیدائشیں
- فارسی شعرا
- دسویں صدی کے عرب مصنفین
- عربی زبان کے مصنفین
- فارسی ادب
- فارسی شخصیات
- عربی زبان کی خواتین شاعرات