رابعہ خضداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رابعہ خضداری
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 10  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Tajikistan.svg تاجکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،مؤلف،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان تاجک زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

رابعہ خضداری جو رابعہ بلخی کے نام سے بھی مشہور ہیں، رابعہ پہلی بلوچ فارسی گو شاعرہ تھیں۔ جو چوتھی صدی ہجری کی فارسی شاعرہ کے طور پر مشہور ہوئیں۔[1] رابعہ کے والد کعب قزداری تھے ۔آپ بلوچی النسل تھے اور خراسان، قندھار، بست کے حاکم رہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

مرا بعشق همی متهم کنی بہ حیل چہ حجت آری پیش خدای عزوجل
بہ عشقت اندر عاصی همی نیارم شد بذنبم اندر طاغی همی شوی بمثل
نعیم بی تو نخواهم جحیم با تو رواست کہ بی تو شکّر زهر است و با تو زهر عسل
بروی نیکو تکیہ مکن کہ تا یکچند بہ سنبل اندر پنهان کنند نجم زحل
هرآینہ نہ دروغ است آنچہ گفت حکیم فمن تکبر یوماً فبعد عز ذل
دعوت من بر تو آن شد کایزدت عاشق کناد بر یکی سنگین‌دل نامهربان چون خویشتن
تا بدانی درد عشق و داغ هجر و غم کشی چون بهجر اندر بپیچی پس بدانی قدر من
ز بس گل کہ در باغ مأوی گرفت چمن رنگ ارتنگ مانی گرفت
صبا نافهٔ مشک تبت نداشت جهان بوی مشک از چہ معنی گرفت
مگر چشم مجنون بہ ابر اندر است کہ گل رنگ رخسار لیلی گرفت
بہ می‌ماند اندر عقیقین قدح سرشکی کہ در لالہ مأوی گرفت
قدح گیر چندی و دنیی مگیر کہ بدبخت شد آنکہ دنیی گرفت
سر نرگس تازہ از زرّ و سیم نشان سر تاج کسری گرفت
چو رهبان شد اندر لباس کبود بنفشہ مگر دین ترسی گرفت
عشق او باز اندر آوردم بہ بند کوشش بسیار نامد سودمند
عشق دریایی کرانہ ناپدید کی توان کردن شنا ای هوشمند
عشق را خواهی کہ تا پایان بری بس بباید ساخت با هر ناپسند
زشت باید دید و انگارید خوب زهر باید خورد و انگارید قند
توسنی کردم ندانستم همی کز کشیدن تنگ‌تر گردد کمند

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقالہ:رابعہ بلخي یا حمامهء در حمام خون ذؤیان خرد