راجہ سخی دلیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راجہ سخی دلیر خان
Major General Sakhi Daler Khan with Mashriqi.jpg
 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش ضلع کوٹلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

راجا سخی دلیر خان جنگ عظیم اول اور دوہم کے ان ریٹائرڈ پونچھ کے باغی فوجیوں میں سے تھے جہنوں نے مہاراجا کشمیر کے شخصی راج کے خلاف بغاوت کی، آپ چار سدھن بریگیڈز کی تھری اے کے پلاٹوں کے کمنی کمانڈر تھے۔

راجا سخی دلیر خان منگرآل پیدائش 4 مئی 1922ء بمقام آزاد کشمیر ضلع کوٹلی نین میں پیدا ہوئے وفات 16 ستمبر 1994ء کوٹلی آزاد کشمیر پیشہ عسکری فوج برطانوی ہندوستان بعد آزاد کشمیر ریگولر فورس عہد تھری اے کے پلاٹوں کمانڈر 4 سدھن بریگیڈ

برطانوی فوج میں بھرتی[ترمیم]

راجا سخی دلیر خان 1940ء میں برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور 1943ء میں آپ کو برطانوی فوج کی طرف سے دوسری جنگ عظیم کے جرمنی محاذ بھیج دیا آپ وہاں ایک سال مسلسل محاذ جنگ رہے اس کے بعد 1944ء کو آپ کا تبادلہ برماء کر دیا کیا گیا جہاں آپ ایک سال رہے اس کے بعد آپ امرتسر جون 1947 تک رہے جون 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر کے بگڑتے حالات اور ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی انقلابی لہرا نے آپ کو مجبور کیا تو آپ نے برطانوی فوج کی سروس کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ کر اپنے آبائی وطن آزاد کشمیر چلے آئے یہاں آپ نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ریٹائرڈ فوجیوں کی سرگرمیوں میں لینا شروع کیا۔

جاسوسی کے الزام میں اشتہاری[ترمیم]

راجا سخی دلیر خان نے یکم جون 1947ء کو ہی برطانوی فوج کو خیرباد کہہ کر ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی جہدوجہد میں حصہ لینا شروع کر دیا آپ کے بہت سے رشتے دار ریاست جموں کشمیر کی فوج کے جموں راجپوت بریگیڈز میں حاضر سروس تھے جن سے آپ نے بہت سی ڈوگرہ فوج کی اہم معلومات حاصل کی آپ نے جون اور جولائی کے مہینے میں مختلف ڈوگرہ فوج کی چھاونیوں میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے بہانے دورے کیے اور وہاں سے معلومات حاصل کی جس کے الزام میں 20 اگست 1947ء کو آپ کے چچا زاد بھائی میجر راجا سیف خان منگرآل نے آپ پر جاسوسی کا الزام لگایا جس پر مہاراجا ہری سنگھ نے آپ کے وارنٹ گرفتاری زندہ یا مردا جاری کیے مگر اس سے پہلے سخی دلیر خان نے اپنی پوری فیملی جہلم منتقل کر دی اور خود کپیٹن حسین خان کے عسکری ماسکر کیمپ مری چلے گئے۔

پونچھ بغاوت میں حصہ[ترمیم]

راجا سخی دلیر خان نے اشتہاری وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اپنی فیملی کو جہلم خفیہ ٹھکانے پہنچا کر خود باقاعدہ سے پونچھ بغاوت کا حصہ بن گئے یہ وہ وقت تھا جب ستمبر 1947ء کو ریاست جموں سے جو لوگ برطانوی فوج سے ریٹائر تھے وہ اپنی مدد آپ مری کے گھنے جنگلات میں مسلح بریگیڈز یونٹیں بٹالین بنا کر مہاراجا کشمیر کے شخصی راج کے خلاف جہدوجہد کر رہے تھے اسی دورانیے میں راجا سخی دلیر خان نے 4 سدھن بریگیڈ میں شمولیت اختیار کر کے تھری اے کے پلاٹوں کی کمان حاصل کی راجا سخی دلیر خان نے اپنی پلاٹوں کا سب سے پہلا معرکہ 27 ستمبر 1947ء ڈنہ پوٹھی میر خان ( نیریاں شریف) کے مقام سے کیا اس کے بعد یکم اکتوبر 1947ء کو لچھمن پتن (آذاد پتن ) سے مہنڈر، بانڈی پورہ، راجوری، تک محاذ جنگ رہے بعد معاہدہ جنگ بندی یکم جنوری 1949ء آزاد کشمیر ریگولر فورس سے بورڈ حاصل کرتے وقت آپ کو اس جنگی خدامات کے اعتراف میں آزاد کشمیر حکومت نے غازی کشمیر کا تغمہ اعزاز عطا کیا۔ اس کے بعد بھی آپ عوامی خدامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں آپ نے کھوئیرٹہ پہلی اسلامی سپیڈی ٹرائل کورٹ کی بنیاد رکھی آپ نے ہمشیہ عوامی خدامات کو اپنا فرض اولین سمجھا آپ نے 16 ستمبر 1994ء کو کوٹلی آزاد کشمیر میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]