راجہ مان سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راجہ مان سنگھ
امیر کا راج محل

راجا مان سنگھ جلال الدین اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک رتن۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

راجا مان سنگھ راجستھان کے امبر علاقہ کا راجپوت راجا تھا۔ امبر کو موجودہ دور میں جئے پور بھی کہا جاتا ہے وہ اکبر سے صرف8برس بڑا تھا۔ اکبر نے ان کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ خصوصاً مہارانا پرتاب سنگھ کے خلاف مان سنگھ نے کئی جنگوں میں مغلوں کی قیادت کی۔

راجا مان سنگھ بطور رتن[ترمیم]

راجا مان سنگھ برہمن ہندو تھا۔ اُسکی وفاداری اور ملنساری اکبر بادشاہ کے دل پر نقش ہو گئی۔ جس کی رفاقت نے بادشاہ کو اپنائیت اور محبت سکھائی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ اُنکی وجہ سے اکبر بادشاہ کو ہندوستان میں پزیرائی حاصل ہوئی اور تیموری خاندان کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی۔ بہادری اور جوانمردی میں اپنی مثال آپ تھا لہذا سپہ سالار بھی مقرر ہوا۔ اُسکی بہن کی شادی جہانگیر سے ہوئی اور پھر جہانگیر کے بیٹے خسرو کے اتالیق بھی مقرر ہوئے۔ جبکہ ایک روایت کے مطابق اکبر نے اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لیے راجا مان سنگھ کی بہن مریم الزمانی سے شادی کی تھی یہ ملکہ ہو کر بھی ہندو دھرم پر قائم تھی۔

اکبر کے لیے خدمات[ترمیم]

1580میں اکبر کی ان سیکولر پالیسیوں کی مخالفت شروع ہو گئی تھی۔ قاضی محمد یزدی نے مسلمانوں کو کھلے عام اکبر سے بغاوت کا مشورہ دیدیا تھا۔ انہوں نے اکبر کے بھائی مرزا حکیم کو کابل کا حکمراں مان لیا تھا۔ ان کی سرکوبی کے لیے اکبر نے راجا مان سنگھ کی قیادت میں ہی فوج بھیجی تھی انہوں نے اکبر کے لیے کئی ایک فتوحات حاصل کیں۔ اکبر نے ان کو بہار‘بنگال اور اڑیسہ کا گورنر بھی مقرر کیا تھا۔ مان سنگھ کو اکبر نے ایک خاص ذمہ داری دی تھی۔

جہانگیر کی مخالفت[ترمیم]

شہزادہ جہانگیر ماں‘ کی محبت میں اتنا بگڑ گیا تھا کہ اس نے شراب نوشی شروع کردی تھی وہ اکبر کے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردیتا۔ ابو الفضل کے قتل کا الزام بھی جہانگیر کے سرلگایا جاتا ہے اکبر کے دونوں بیٹے مراد اور دانیال جوانی کی دہلیز کو پہنچنے سے قبل ہی فوت ہو گئے تھے۔ سلیم(جہانگیر) کافی منتوں اور مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ جہانگیر کی ان حرکتوں کی وجہ سے اکبر کے دربار میں دو گروپس بن گئے تھے ایک سلیم کو جانشین بنانے کے حق میں تھا دوسرا گروپ اس کے خلاف تھا اور وہ سلیم کے بڑے بیٹے خسرو مرزا کو بادشاہ بنانے چاہتے تھے۔ مان سنگھ بھی خسرو کے حق میں تھے۔ اس لیے اکبر کی موت کے بعد جہانگیر نے تخت و تاج سنبھالا تو مان سنگھ سے سپہ سالاری چھین لی اور ان کو صوبہ دار بنا کر بنگال بھیجا۔ جلد ہی ان سے عہدہ لے کر قطب الدین خان کو کا کو دیدیا گیا۔ جہانگیر نے مان سنگھ کو اکبر کے دور میں جو مراعات حاصل تھیں وہ بھی چھین لیں ۔

قلعہ روہتاس[ترمیم]

قلعہ روہتاس میں ایک حویلی مان سنگھ انہی کے نام سے مشہور ہے

وفات[ترمیم]

1614ء میں مان سنگھ کی موت ہو گئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://viqarehind.com/اکبر-کے -نو-9-رتن قسط10/