راحت اندوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راحت اندوری
Rahat Indori.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1950 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اندور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مؤلف،غنائی شاعر،نغمہ نگار،شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

راحت اندوری ( پیدائش : 1 جنوری 1950ء) ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار ہیں .[1] وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کئی بھارتی ٹیلی ویژن شوز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کئی گلو کاری کے رئیلیٹی شوز میں بہ طور جج حصہ لیا ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائی ہیں جو ان کے فنی سفر، تلفظ اور گلو کاری میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

راحت کی پیدائش اندور میں یکم جنوری، 1950ء کو ہوئی۔ وہ ایک ٹیکسٹائل مل کے ملازم رفعت اللہ قریشی اور مقبول النساء بیگم کے یہاں پیدا ہوئے . وہ ان کی چوتھی اولاد ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور میں ہوئی . انہوں نے اسلامیہ كريميہ کالج اندور سے 1973ء میں اپنی بیچلر کی تعلیم مکمل کی۔[2] اس کے بعد وہ 1975ء میں راحت اندوری نے بركت اللہ یونیورسٹی، بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔[3] اہنی اعلٰی ترین تعلیمی سند کے لیے 1985ء میں انہوں نے مدھیہ پردیش کے مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی . وہ ایک اچھے شاعر اور گیت کار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کئی بالی وڈ فلموں کے لیے نغمے لکھے ہیں جو مقبول اور زبان زد عام بھی ہوئے ہیں۔

نمونہ کلام[ترمیم]

دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے

دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے

ایک سچ کے لیے کس کس سے برائی لیتے

آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھی

لوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے

برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہے

ہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے

کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہا

عشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی لیتے

چاند راتوں میں ہمیں ڈستا ہے دن میں سورج

شرم آتی ہے اندھیروں سے کمائی لیتے

تم نے جو توڑ دیے خواب ہم ان کے بدلے

کوئی قیمت کبھی لیتے تو خدائی لیتے[4]

حوالہ جات[ترمیم]