راحیل شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راحیل شریف
Raheel Sharif.jpg 

مناصب
Flag of the Pakistani Army.svg سربراہ پاک فوج   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
29 نومبر 2013  – 29 نومبر 2016 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اشفاق پرویز کیانی 
قمر جاوید باجوہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
اسلامی فوجی اتحاد   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
6 جنوری 2017 
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جون 1956 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوئٹہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
پاکستان ملٹری اکیڈمی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فوجی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ پاک فوج  ویکی ڈیٹا پر عسکری شاخ (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ جرنیل  ویکی ڈیٹا پر عسکری رتبہ (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کمانڈر اسلامی فوجی اتحاد
سربراہ پاک فوج
XXX کارپس
الیون انفنٹری ڈویژن
فرنٹيئر فورس رجمنٹ  ویکی ڈیٹا پر کمانڈر بہ (P598) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں شمال مغرب پاکستان میں جنگ، آپریشن ضرب عضب  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے۔ 29 نومبر 2016ء پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ کر ریٹائرڈ ہوئے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

راحیل شریف 16 جون 1956ء کو کوئٹہ کے ایک ممتاز فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔[1][2] ان کے والد کا نام میجر محمد شریف بھٹی ہے۔[1] ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید 1971 کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے اور انہیں نشان حیدر ملا۔[3] وہ تین بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کے دوسرے بھائی، ممتاز شریف بھٹی، فوج میں کیپٹن تھے۔[2] وہ میجر راجہ عزیز بھٹی، جنہوں نے 1965 ء کی بھارت پاکستان جنگ میں شہید ہو کر نشان حیدر وصول کیا ،کے بھانجے ہیں۔[4] راحیل شریف شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔[1]

تعلیم اور فوجی سروس[ترمیم]

راحیل شریف نے گورنمنٹ کالج، لاہور سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے۔ اکیڈمی کے 54ویں لانگ کورس کے فارغ التحصیل ہیں۔ 1976 ء میں گریجویشن کے بعد، انہوں نے فرنٹیئر فورس رجمنٹ، کی 6th بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔ نوجوان افسر کی حیثیت سے انہوں نے انفنٹری بریگیڈ میں گلگت میں فرائض سر انجام دیے۔ ایک بریگیڈیئر کے طور پر، انہوں نے دو انفنٹری بریگیڈز کی کمانڈ کی جن میں کشمیر میں چھ فرنٹیئر فورس رجمنٹ اور سیالکوٹ بارڈر پر 26 فرنٹیئر فورس رجمنٹ شامل ہیں۔[1][5]

9 دسمبر 2013، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے سیکرٹری ڈیفنس چک ہیگل راحیل شریف سے اسلام آباد میں مصافحہ کرتے ہوے

جنرل پرویز مشرف کے دور میں میجر جنرل راحیل شریف کو گیارہویں انفنٹری بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ راحیل شریف ایک انفنٹری ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ افسر اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ رہنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ راحیل شریف نے اکتوبر 2010 سے اکتوبر 2012 تک گوجرانوالہ کور کی قیادت کی۔ انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں انسپکٹر جنرل تربیت اور تشخیص رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔[1]

چیف آف آرمی اسٹاف[ترمیم]

27 نومبر 2013 کو وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں پاکستانی فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا۔[3] ذرائع کے مطابق راحیل شریف سیاست میں عدم دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں دو سینئر جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود پر فوقیت دی گئی۔[6] ایک سینئر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے اسی وجہ سے فوج سے استعفی دیا۔[7] ایک اور سینئر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو بعد ازاں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا گیا۔[8]
20 دسمبر 2013 کو راحیل شریف کو نشان امتیاز(ملٹری) سے نوازا گیا۔[9]

عوامی مقبولیت اور پزیرائی[ترمیم]

راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی ابتر تھی۔ انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اخیتار کیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کی۔ اس سے امن و امان کی صورت حال میں بہتری ہونے لگی اور راحیل شریف ملک میں ایک مقبول آرمی چیف کی حثیت سے ابھرے۔

راحیل شریف ایک آرمی چیف کی حیثیت سے 29 نومبر 2016ء تک خدمات انجام دے کت پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کی۔

اعزازات[ترمیم]

اعزازات برائے خدمت
سانچہ:Ribbon devices/alt اعزاز برائے 10 سال خدمت[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt اعزاز برائے 20 سال خدمت[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt اعزاز برائے 30 سال خدمت[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سنچری اعزاز[10]
غیر آپریشنل اعزازات
سانچہ:Ribbon devices/alt نشان امتیاز[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt ہلال امتیاز[10]
یادگاری اعزازات
سانچہ:Ribbon devices/alt قرارداد پاکستان تمغا[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt تمغا استقلال[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt ہجری تمغا[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt تمغا جمہوریت[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt یوم آزادی جبیلی سنہرہ اعزاز[10]
سانچہ:Ribbon devices/alt تمغا بقا[10]
خارجہ اعزازات
سانچہ:Ribbon devices/alt آرڈر آف عبد العزیز آل سعود [11]
سانچہ:Ribbon devices/alt اعزاز برائے فوج میں میرٹ (ریاستہائے متحدہ امریکا)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ "Profile: Lt General Raheel Sharif"۔ Dawn۔ 27 نومبر 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2013۔
  2. ^ ا ب "Luck plays role in Gen Sharif's promotion"۔ The News۔ 28 نومبر 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2013۔
  3. ^ ا ب Reuters (23 فروری 2011)۔ "Lt Gen Raheel Sharif appointed new army chief – دی ایکسپریس ٹریبیون"۔ Tribune.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2013۔
  4. "Lt. General Raheel Sharif Appointed as Chief of Army Staff"۔ Pakistan Tribune۔ 27 نومبر 2013۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2013۔
  5. روزنامہ نواے وقت، 28 نومبر 2٠13
  6. Omar Waraich (2013-11-27)۔ "Gen. Raheel Sharif: Pakistan's New Army Chief Assumes Pivotal Job | TIME.com"۔ World.time.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-03۔
  7. "Haroon Aslam resigns following Gen Sharif's promotion to army chief"۔ Tribune۔ 28 نومبر 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 دسمبر 2013۔
  8. "Gen Raheel Sharif new COAS, Gen Rashad Mahmood CJCSC"۔ The News International۔ 28 نومبر 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2013۔
  9. "President honours army chief, JCSC head with Nishan-e-Imtiaz"۔ Tribune۔ 20 دسمبر 2013۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 دسمبر 2013۔
  10. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ "Raheel Sharif meets Chuck Hagel"۔ 9 دسمبر 2013۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جولائی 2015۔
  11. "Gen Raheel meets with Saudi political, military leadership"۔ Dawn۔ 5 فروری 2014۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2014۔
فوجی دفاتر
ماقبل 
اشفاق پرویز کیانی
چیف آف آرمی سٹاف
2013 –29 نومبر 2016ء
مابعد 
قمر جاوید باجوہ