راغب اصفہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو القاسم حسین بن محمد بن مفضل بن محمد
{{#if:
ابو القاسم حسین بن محمد بن مفضل بن محمد
وفات ہجری 502 (1108/1109)[1]
دور قرونی وسطوی کا
شعبۂ زندگی خلافت عباسیہ
مذہب اسلام
فرقہ سنی
مکتب فکر اشعری

علامہ راغب اصفہانی مشہور فقیہ، مفسر اور لغوی ہیں۔

نام[ترمیم]

ان کا پورا نام ابو القاسم حسین بن محمد بن مفضل بن محمد ہے اصفہان میں پیدا ہوئےجس کی نسبت سے امام راغب اصفہانی کے نام سے مشہور ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

جن کی زندگی کے مفصل حالات معلوم نہیں۔ زندگی کا بیشتر حصہ بغداد اور اصفہان میں گزارا اور قیمتی تصانیف چھوڑیں جن میں ۔ ایک رسالہ میں فوائد القرآن لکھے جو اب نایاب ہے، کہتے ہیں علامہ زمخشری صاحب تفسیر کشاف نے اس سے بہت استفادہ کیا۔ امام راغب علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے، مؤلفِ جامع علوم و فنون ہونے کے ساتھ بلند پایہ صوفی بھی تھے، اور ادب و فلسفہ ، جملہ علوم میں ان کا پایہ بہت بلند تھا اور انہوں نے قرآن پاک کی ایک بہت بڑی تفسیر بھی لکھی ہے۔

اکابرین کی نظر میں[ترمیم]

علامہ ذہبی نے ان کا تذکرہ “ طبقات المفسرین ” میں کیا ہے اور امام سیوطی ان کو لغت و نحو کے ائمہ میں شمار کرتے ہیں، مختلف تذکروں میں حکیم، ادیب ، مفسر، کی حیثیت سے ان کا تعارف کروایا ہے جس سے اندازا ہوتا ہے کہ موصوف ہمہ فنی امام تھے اور بیک تفسیر و لغت کے امام ہونے کے ساتھ بہت بڑے حکیم اور صوفی تھے۔

تالیفات[ترمیم]

امام راغب کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں :

  • 1 ۔ محاضرات الادباء
  • 2 ۔ حل متشابہات القرآن
  • 3 ۔ المفردات فی غریب القرآن
  • 4 ۔ الذریعہ الی مکارم الشریعہ
  • 5 ۔ درۃ التاویل فی غرۃ التنزیل
  • 6 ۔ تحقیق البیان فی تاویل القرآن
  • 7 ۔ افانین البلاغۃ۔
  • 8 ۔ کتاب الایمان والکفر
  • 9 ۔ تفصیل النشاتین
  • 10 ۔ کتاب احتجاج القراء۔
  • 11 ۔ کتاب المعانی الاکبر

وفات[ترمیم]

امام راغب کی وفات 502ھ1108ء بغداد میں ہوئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 الأعلام، خير الدين الزركلی، دار العلم للملايين بيروت