مندرجات کا رخ کریں

راغب حسین نعیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی پاکستان کے ممتاز عالمِ دین، مذہبی اسکالر، محقق، مصنف، مفتی اور موجودہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ہیں۔ آپ جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظمِ اعلیٰ اور پرنسپل بھی ہیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی کا شمار اعتدال پسند اور میانہ رو اہلِ سنت علما میں ہوتا ہے جو مذہبی رواداری، امن، بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خلاف دوٹوک موقف رکھنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔

خاندانی پس منظر

[ترمیم]

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد نامور عالمِ دین، محقق اور شہیدِ امن ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی تھے، جنھیں 12 جون 2009ء کو لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک خودکش انسانی بم حملے میں شہید کر دیا گیا۔[1]

ان کے دادا مفتی محمد حسین نعیمی، جامعہ نعیمیہ کے بانی تھے اور برصغیر کی علمی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ یہ خانوادہ علمی روایت، تصوف اور اعتدال پسندی میں ممتاز سمجھا جاتا ہے۔

تعلیم

[ترمیم]

ڈاکٹر راغب نعیمی نے ابتدائی تعلیم کے بعد دینی علوم میں تخصص کیا۔ انھوں نے اسلامیات، شریعت اور فقہ میں جستجو کی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے پی ایچ ڈی کی سند بھی حاصل کی اور تدریسی و تحقیقی میدان میں قدم رکھا۔

انھوں نے پاکستان کے دینی و ملکی اداروں میں متعدد علمی مقالے، تحقیقی خطابات اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے ذریعے علمی خدمات انجام دی ہیں۔

جامعہ نعیمیہ لاہور

[ترمیم]

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، شہادتِ والد کے بعد جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظمِ اعلیٰ مقرر ہوئے۔ آپ ادارے کے نصاب، تنظیم، طلبہ کی تربیت اور علمی و اصلاحی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ، پاکستان کے ممتاز دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سے ہزاروں فضلاء اسلام کی خدمت انجام دے چکے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی

[ترمیم]

21 مئی 2024ء کو ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کو سرکاری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا چیئرمین مقرر کیا گیا، جس کا باضابطہ اعلان میڈیا اور سرکاری سطح پر ہوا۔[2]

یہ تقرری ان کی علمی خدمات، اعتدال پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کے خلاف موثر آواز ہونے کے سبب عمل میں آئی۔

شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مؤقف

[ترمیم]

ڈاکٹر راغب نعیمی، اپنے والد کی طرح، مذہبی شدت پسندی اور تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گرد کارروائیوں کے کھلے ناقد ہیں۔

2009ء میں ان کے والد نے طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے نتیجے میں انھیں شہید کیا گیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر راغب نعیمی نے اسی بیانیے کو مزید مضبوط کرتے ہوئے دہشت گردی کو اسلام کے منافی قرار دیا اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی میڈیا میں فعال کردار ادا کیا۔

26 فروری 2014ء کو لاہور میں 50 سے زائد مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز اینٹی طالبان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر راغب نعیمی نے بھی بھرپور شرکت کی اور طالبان سے مذاکرات ختم کرکے فوری آپریشن کا مطالبہ کیا۔[3]

بعد ازاں 2014ء میں میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں، جن کا ذکر اخبارات میں ہوا۔[4]

علمی و سماجی خدمات

[ترمیم]

ڈاکٹر راغب نعیمی نہ صرف ایک مدرس اور محقق ہیں بلکہ میڈیا، بین المسالک ہم آہنگی فورمز، قومی بیانیہ پر مبنی اجتماعات اور مذہبی ہم آہنگی کی مہمات میں بھی فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ مختلف موضوعات پر قومی ٹی وی چینلز پر بھی گفتگو کرتے ہیں، جن میں دہشت گردی کے خلاف بیانیہ، تعلیمِ دین کی جدید ضرورتیں اور اسلامی معاشرت کے اصول شامل ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "مولانا سرفراز نعیمی بم دھماکے میں شہید"
  2. "اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا تقرر"
  3. [http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/27-Feb-2014/284792 مذاکرات ختم کر کے فوری آپریشن شروع کیا جائے][مردہ ربط]
  4. [http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/30-Mar-2014/291981 طالبان کا فتویٰ: 19 صحافیوں و علما کی جان کو خطرہ][مردہ ربط]

بیرونی حوالہ جات

[ترمیم]

٭ جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ،ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید[مردہ ربط]