رافضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعہ کو عام طور پر رافضی کہا جاتا ہے اور بروایت امام جعفر صادق ان کا یہ نام اللہ نے رکھا
جب اہل عراق نے زین العابدین کے صاحبزادےامام زیدشہید سے ابوبکر و عمر کی تعریف سنی تو کہنے لگے آپ ہمارے امام نہیں ہیں امام بھی ہمارے ہاتھ سے گیا جس پر امام زیدشہید نے کہارفضونا الیوم ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا(آج سے یہ رافضی بن گئے) اس دن سے اس جماعت کو رافضی کہا جاتا ہے۔[1] قاضی سلیمان منصورپوری لکھتے ہیں جب زید الشہید کے مقابلے میں یوسف ثقفی لشکر لایا تو یہ سب لوگ امام کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو زید شہید نے فرمایا رفضونا الیوم تو اس دن سے شیعہ کا نام رافضی پڑا[2] اسلام کی تاریخ میں رافضہ یا رافضی ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خلافت حضرت علی کے سپرد کرنے کی قطعی اور صریح وصیت کی تھی۔ اس لیے پہلے تین خلفاء اور ان کی حمایت کرنے والے صحابہ و تابعین غلطی پر تھے اور نفاق کا شکار تھے اور اس وصیت کو چھپانے والے مسلمان بھی گمراہ تھے۔ اس عقیدہ کو رافضیت کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کا یہ عقیدہ بقیہ امامیہ فرقوں میں سے شیعہ عقائد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی بناء پر بعض لوگ نادانستگی میں اہل تشیع کو بھی رافضہ کہہ دیتے ہیں۔حوالہ درکار؟
الاعشری کے قول کے مطابق سب سے پہلے وہ لوگ جو رافضی کہلائے جنہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک عبداللہ بن سبا کے ساتھ سب سے پہلے رافضی کہلائے لیکن بعد ازاں مخالفین شیعوں کو رافضی کے ناخوشگوار لقب سے پکارنے لگے۔حوالہ درکار؟
الاعشری نے روافض ، زیدیہ اور غلات کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔
طبری نے لکھا ہے کہ یہ لقب کوفہ کے زیدیوں کو ملا کیونکہ انہوں نے زید بن علی کو چھوڑ دیا تھا اس لیے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر و عمر کی مذمت نہیں کی تھی ۔ رافضی کے لغوی معنی چھوڑنے والا ، ترک کرنے والا ۔ ایک اور روایت کے مطابق رافضی ان کم بختوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے بعد از نبوت خلفائے راشدین شہید کرنے کا منصوبہ بنائے تھے۔ اور ان میں سے بعض اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ مثلا حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ کو شہید کیا گیا۔ یہ شہید کرنے والے رافضی کہلاتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ناسخ التواريخ ۔مرزه تقی خان ،ج 2 ،ص 590.
  2. رحمۃ للعالمین جلد دوم قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحہ 375مرکز الحرمین الاسلامی فیصل آباد