رافضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلام کی تاریخ میں رافضہ یا رافضی ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خلافت حضرت علی علیہ السلام کے سپرد کرنے کی قطعی اور صریح وصیت کی تھی۔ اس لیے پہلے تین خلفاء اور ان کی حمایت کرنے والے صحابہ و تابعین غلطی پر تھے اور نفاق کا شکار تھے اور اس وصیت کو چھپانے والے مسلمان بھی گمراہ تھے۔ اس عقیدہ کو رافضیت کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کا یہ عقیدہ بقیہ امامیہ فرقوں میں سے شیعہ عقائد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی بناء پر بعض لوگ نادانستگی میں اہل تشیع کو بھی رافضہ کہہ دیتے ہیں۔حوالہ درکار؟
الاعشری کے قول کے مطابق سب سے پہلے وہ لوگ جو رافضی کہلائے جنہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک عبداللہ بن سبا کے ساتھ سب سے پہلے رافضی کہلائے لیکن بعد ازاں مخالفین شیعوں کو رافضی کے ناخوشگوار لقب سے پکارنے لگے۔حوالہ درکار؟
الاعشری نے روافض ، زیدیہ اور غلات کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔
طبری نے لکھا ہے کہ یہ لقب کوفہ کے زیدیوں کو ملا کیونکہ انہوں نے زید بن علی کو چھوڑ دیا تھا اس لیے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر و عمر کی مذمت نہیں کی تھی ۔ رافضی کے لغوی معنی چھوڑنے والا ، ترک کرنے والا ۔
پاکستان کے گلگت بلتستان، سکردو، غذر اور چترال میں رافضی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔حوالہ درکار؟


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]