رامدیو پیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رامدیو جی
رانجا کے حکمران
Ramdevra-03-20131009.jpg
رامدیورہ کے مندر میں لگی رامدیو جی پیر کی تصویر
رانجا کے حکمران
معیاد عہدہ مارواڑ
پیشرو اجمل
شریک حیات نیتلدے
خاندان تومر ونشی راجپوت
والد اجمل جی
والدہ منال دیوی
پیدائش چیتر سُدی پنچمی وکرم سموت 1409
اُنڈو-کاشمیر (باڑمیر)
وفات وکرم سموت 1442
رامدیورہ
تدفین رامدیورہ
مذہب ہندو

رامدیو پیر (ہندی: रामदेव पीर) یا بابا رامدیو (ہندی: बाबा रामदेव) (یا رامدیو جی, رام دیو پیر,[1] رام شاہ پیر[2]) (1352- 1385 عیسوی) (وکرم سمونت 1409-1442) بھارتی ریاست راجستھان کے ایک لوک دیوتا ہیں۔ وہ چودہویں صدی کے ایک حکمران تھے، کہا جاتا یے کہ ان کے پاس معجزانہ طاقتیں تھیں جن سے وہ معاشرے کے مظلوم و غریب لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ آج بھارت کے بہت سے لوگ ان کو اپنا اشٹ دیو مان کر پوجتے تھے۔[3][4]

پس منظر[ترمیم]

رامدیو کو وشنو کا اوتار سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہ اجمل نے چھاہن بارو گاؤں کے پامجی کی بیٹی ملکہ منال دیوی سے شادی کی۔ شادی کے بعد بدقسمی سے انہیں کوئی اولاد نہیں ہوئی تو بے اولاد بادشاہ نے بھگوان وشنو نے اولاد مانگی۔ جس کے نتیجے میں ان کے دو بیٹے ہوئے، بڑا ”ویرام دیو“ اور چھوٹا بیٹا ”رامدیو“۔ رامدیو کی پیدائش وکرم سمونت تقویم کے بھادرپد شُکل دوج کے دن 1409 میں ضلع باڑمیر کے رامدیریہ، اُنڈو-کاشمیر میں ہوئی۔ رامدیو جی ایک تومر تھے۔[5]

مسلمان رام دیو کو ”رام شاہ پیر“ کہہ کر پکارتے ہیں اور انہیں اللہ کا ولی مانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس معجزانہ طاقتیں تھیں اور ان کی شہرت کی چرچے بہت دور دور تک تھے۔ ان کے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ مکہ سے پانچ پیر رام دیو کی طاقتوں کا امتحان لینے آئے تھے۔ رامدیو نے پہلے ان کو خوش آمدید کہا اور پھر ان کو دوپہر کے کھانے کی دعوت دی۔ لیکن پیروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اپنے ذاتی برتنوں میں کھائیں گے جو مکہ میں پڑے ہیں۔ اس پر رام دیو مسکرائے کہا کہ دیکھو آپ لوگوں کے برتن آ رہے ہیں اور ان پیروں نے دیکھا کہ ان کے برتن ہوا میں اڑتے ہوئے مکہ سے آ رہے تھے۔ جب وہ پیر ان کی قابلیت اور طاقتوں کے قائل ہو گئے تو انھوں نے ان کا احترام کیا اور ان کو رام شاہ پیر کا نام دیا۔[2][6][7][8] جو پانچ پیر ان کی طاقتوں کا امتحان لینے آئے تھے وہ ان کی طاقتوں سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور ان پانچوں کی سمادھی بھی رامدیو کی سمادھی کے قریب ہے۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Malika Mohammada۔ The foundations of the composite culture in India۔ Aakar Books۔ صفحہ 348۔ آئی ایس بی این 978-81-89833-18-3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2013۔
  2. ^ ا ب A call to honour: in service of emergent India by Jaswant Singh۔ Rupa & Co۔ صفحہ 23۔
  3. History goes that five Pirs from Mecca came to test his miraculous powers and after being convinced, paid their homage to him. Since then he is venerated by Muslims as Ramshahpir or Ramapir. نسخہ محفوظہ 5 دسمبر 2010 در وے بیک مشین
  4. Parcha of Ramdevpir Why do Muslims call Ramdevji "Ramshahpir" or "Ramapir"? The Pirs and Fakirs intentions were to bring disgrace upon Ramdevji, instead they blessed him and Musapir announced that Ramdevji from now on will be known as Ramshahpir, Ramapir or Hindawapir in the whole world and all the Pirs and Fakirs present hailed to Ramdevji "Jai Ramapir, Jai Ramapir". نسخہ محفوظہ 5 دسمبر 2010 در وے بیک مشین
  5. Bhagvan Ramdevji Maharaj was a Tunwar regarded by Hindus as the incarnation of Lord Krishna. نسخہ محفوظہ 5 December 2010 در وے بیک مشین
  6. ^ ا ب India today, Volume 18, Issues 1-12۔ Living Media India Pvt. Ltd۔ صفحہ 61۔
  7. Hinduism: New Essays in the History of Religions By Bardwell L. Smith۔ صفحات 138–139۔
  8. Gujarat Unknown: Hindu-Muslim Syncretism and Humanistic Forays By J. J. Roy Burman۔ صفحات 114–115۔

بیرونی روابط[ترمیم]