رامچندر گوہا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رامچندر گوہا
(ہندی میں: रामचंद्र गुहा ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Ramachandra guha.jpg
2017ء کی ایک تصویر

معلومات شخصیت
پیدائش 29 اپریل 1958ء (عمر 62 سال)
دہرا دون، اتر پردیش، بھارت
(now in اتراکھنڈ، بھارت)
رہائش بنگلور، کرناٹک
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سوجاتا
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی
انڈین انسٹیوٹ آف مینیجمینٹ کلکتہ
پیشہ مصنف،  مؤرخ،  معلم،  صحافی،  مصنف،  ماہر ماحولیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت لندن اسکول آف اکنامکس  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں انڈیا آفٹر گاندھی
اعزازات
فوکوکا ایشیائی ثقافت انعام  (2015)
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:India after Gandhi) (2011)[2]
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Ramchandra Guha Signature.jpg
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رامچندر گوہا (انگریزی: Ramachandra Guha) (ولادت: 29 اپریل 1958ء) بھارت کے مصنف ہیں جو عموما ماحولیاتی، سماجی، معاشیات، سیاسی، عبوری اور کرکٹ تاریخ جیسے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں۔[3] وہ دی ٹیلیگراف اور ہندوستان ٹائمز میں کالم نگار بھی ہیں۔[4][5][6] کئی مجلوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ آؤٹ لک میں بھی لکھتے ہیں۔ سال 2011ء-12ء کے لیے انہیں انڈین اسکول آف اکنامکس میں تاریخ اور بین الاقوامی معاملات میں فلپ رومن چیئر بنایا گیا تھا۔[7] ان کی جلدوں میں کتاب گادھی: دی ایئرس ڈیٹ چینجڈ دی ورلڈ (2018ء) موہن داس گاندھی کی سوانح حیات کا دوسرا حصہ ہے۔ اس سے قبل گاندھی بیفور انڈیا (2013ء) میں شائع ہو چکی ہے۔

انہیں بھارتی عدالت عظمیٰ نے 30 جنوری 2017ء کو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے انتظامی پینل میں شامل کیا تھا مگر انہوں نے اسی سال جولائی میں استعفی دے دیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ولادت 29 اپریل 1958ء کو دہرہ دون، اتر پردیش (اب اتراکھنڈ) میں ہوئی۔ وہ تمل براہمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔[8] ان کی نشو و نما دہرہ دون میں ہی ہوئی۔ ان کے والد فوریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتے تھے۔[9][10] اور والدہ اسکول میں معلمہ تھیں۔[حوالہ درکار] ان کا پیدائشی نام سبرامنیم رانچندر گوہا رکھا گیا تاکہ تمل کا اثر باقی رہے مگر اسکول میں رامچدر گوہا ہی لکھا گیا اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے۔[9][11][12]

کیرئر[ترمیم]

1985ء تا 2000ء انہوں نے بھارت، یورپ اور شمالی امریکا کے کئی تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں بشمول جامعہ کیلیفورنیا، برکلی, ییل یونیورسٹی, جامعہ سٹنفورڈ اور اوسلو یونیورسٹی اور جامعہ سٹنفورڈ وغیرہ۔ بعد میں انہوں نے انڈیا اسنٹی ٹیوٹ آف سائنس میں پڑھایا۔

گوہا بنگلور چلے گئے اور لکھنا شروع کر دیا۔ وہ انڈیا اسنٹی ٹیوٹ آف سائنس میں ہیومنٹیز کے وزیٹنگ پروفیسر بن گئے۔ وہ ایک غیر منافع بخش ادارہ، نیو انڈیا فاونڈیشن کے منیجینگ ٹرسٹی ہیں۔ یہ تنظیم جدید ہندوستانی تاریخ پر ریسرچ کرنے والوں کو اسکالرشپ دیتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12451003f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#ENGLISH — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2019
  3. "آرکائیو کاپی". 26 جنوری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2019. 
  4. Ramachandra Guha (9 فروری 2017). "Why there's no need to be nostalgic for an undivided India". Hindustan Times. 
  5. "Not the Emergency by any stretch of the imagination". Hindustantimes.com. 
  6. "India Together: A managed mediaRamachandra Guha – 20 مئی 2006". Indiatogether.org. اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2019. 
  7. "Dr. Ramachandra Guha". London School of Economics and Political Science. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 6 اکتوبر 2012. 
  8. Tejas Harad (14 جون 2017). "Does Ramachandra Guha have a caste?". News Laundry. 
  9. ^ ا ب Bhandari، Bhupesh (8 مئی 2007). "Lunch with BS: Ramachandra Guha". Business Standard India. اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2018. 
  10. Gadgil، Madhav (9 اپریل 2018). "Ram Guha: A Radical Progressive". آؤٹ لک. اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2018. 
  11. Guha، Ramachandra (19 November 2012). "Who Milks This Cow?". Outlook India. اخذ شدہ بتاریخ 19 جولا‎ئی 2018. 
  12. Guha، Ramachandra (27 October 2007). "A Unique Trail - Twist in the tale of the search for an elusive book". The Telegraph. اخذ شدہ بتاریخ 19 جولا‎ئی 2018.