رامی محمد پاشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


رامی محمد پاشا
وزیراعظم سلطنت عثمانیہ
مدت منصب
25 جنوری 1703 – 22 اگست 1703
حکمران مصطفیٰ ثانی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png دلتابان مصطفیٰ پاشا
کاوانوز احمد پاشا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مصر کا عثمانی گورنر
مدت منصب
1704 – 1706
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بلتاجی سلیمان پاشا
دلاک علی پاشا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1645[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1706 (60–61 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزیرہ روڈز  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire (1844–1922).svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب سنی اسلام
عملی زندگی
پیشہ سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ امیر البحر  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رامی محمد پاشا (1645-1706) ایک عثمانی مدبر اور شاعر تھا جس نے وزیراعظم(1703) کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد انہوں نے قبرص اور مصر کے گورنر (1704-1706) کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دی تھیں . وہ دیوان ادب کے ایک شاعر کے طور پر جانا جاتا تھا (لفظ رامی کا مطلب ہے "فرمانبردار" ،جوکہ ان کی نظموں میں ان کا تخلص ہے)

ابتدائی سال[ترمیم]

وہ 1645 میں قسطنطنیہ میں تیرازیجی حسن آغا کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، اس نے ایک بیوروکریٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1690 میں ، وہ ریئس الکتاب کے دفتر میں بطور کلرک مقرر ہوئے ۔ 1696 میں ، انھیں ریئس الکتاب (وزیر خارجہ کے برابر عہدہ ) کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور تین سال بعد اس نے معاہدہ کارلوٹز کے امن مذاکرات میں سلطنت عثمانیہ کی نمائندگی کی جس نے ہولی لیگ سے جنگ بند کرائی۔ [2] سلطنت عثمانیہ کو جنگ میں شکست ہوئی تھی، لیکن محمد رامی نے نقصانات کو کم کرنے کی پوری کوشش کی۔

بطور وزیر اعظم[ترمیم]

25 جنوری ، 1703 کو وزیراعظم کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ تاہم ، اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ شیخ الاسلام فیض اللہ جو کہ سلطان مصطفی دوم پر بہت زیادہ اثرورسوخ رکھتا تھا ، سلطنت کا اصل حکمران ہے۔ سلطان نے رامی محمود کو اپنے تمام فیصلوں میں فیض اللہ کی منظوری لینے کے سخت احکامات دیئے ، یہ ایک ایسا حکم تھا جس سے وزیراعظم کا درجہ کم ہوکر شیخ الاسلام کے ماتحت ہو کر رہ گیا۔ اس ناگوار صورتحال میں بھی ، رامی نے جنگ کے بعد کی معیشت اور بحریہ میں اصلاحات لانے کی کوشش کی ، لیکن ان اصلاحات کو نافذ کرنے کیلئے ان کی مدت بہت کم تھی۔

فیض اللہ کے لامحدود اختیار اور دارالحکومت قسطنطنیہ کے بجائے ادرنہ میں مقیم ہونے کے سلطان کے اصرار پر قسطنطنیہ میں فوجیوں اور شہریوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ 1703 کے موسم گرما میں ، انہوں نے سلطان کے خلاف بغاوت کردی۔ اس بغاوت کے اختتام پر ، جو ادرنہ واقعہ کے نام سے جانی جاتی ہے ، رامی محمد اور سلطان کو 22 اگست ، 1703 کو معزول کردیا گیا۔ [3]

وفات[ترمیم]

اس کے بعد رامی محمد کو قبرص اور پھر مصر کا گورنر مقرر کیا گیا تھا ، لیکن سن 1706 میں اسے روڈس جزیرے (اب یونان کا ایک حصہ) پر جلاوطن کردیا گیا ، جہاں ان کا انتقال ہوا۔ [2]

بطور ادیب[ترمیم]

وہ ایک شاعر تھے اور مشہور عثمانی شاعر نبی کے دوست تھے۔ انہوں نے اپنے سفارتی کیریئر کے بارے میں بھی لکھا۔ کارلوفچہ صلح نامہ نامی اپنی کتاب میں انہوں نے معاہدہ کارلوٹز کے دوران ہونے والی بات چیت کے بارے میں لکھا ہے۔ [2]

ورثہ(یادگار)[ترمیم]

جدید استنبول کا ایک نواحی علاقہ ، جو کبھی رامی محمد کا کھیت(فارم) ہوتا تھا ، اسے رامی محمد کا نام دیا گیا ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
دلتابان مصطفیٰ پاشا
عثمانی وزیراعظم
25 جنوری 1703 – 22 اگست 1703
مابعد 
کاوانوز احمد پاشا
ماقبل 
بلتاجی سلیمان پاشا
مصر کے عثمانی گورنر
1704–1706
مابعد 
دلاک علی پاشا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب این یو کے اے ٹی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=1207&url_prefix=http://nukat.edu.pl/aut/&id=n2018142368 — بنام: Rami Mehmed Pasha
  2. ^ ا ب پ Ayhan Buz: Osmanlı sadrazamları, Neden Kitap, İstanbul, 2009 آئی ایس بی این 978-975-254-278-5, pp 154-156
  3. Prof. Yaşar Yüce-Prof. Ali Sevim: Türkiye tarihi Cilt III, AKDTYKTTK Yayınları, İstanbul, 1991 p 247-250