رام جیٹھ ملانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام جیٹھ ملانی
تفصیل=

وزیر قانون و انصاف
مدت منصب
1 مئی 1996 – 1 جون 1996
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png کوٹلا وجے بھاسکر ریڈی
رام کانت کھلپ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
جون 1999 – جولائی 2000
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ایم۔ تھبی دُری
ارون جیٹلی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر شہری ترقی
مدت منصب
19 مارچ 1998 – 14 جون 1999
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
رکن پارلیمان، راجیہ سبھا
مدت منصب
8 جولائی 2016 – 8 ستمبر 2019
مدت منصب
5 جولائی 2010 – 4 جولائی 2016
مدت منصب
2006 – 2009
مدت منصب
1994 – 2006
مدت منصب
3 اپریل 1988 – 2 اپریل 1994
رکن پارلیمان، لوک سبھا
مدت منصب
1977 – 1984
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہری رامچندر گوکھلے
سنیل دت Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 14 ستمبر 1923  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شکارپور، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 ستمبر 2019 (96 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش 2، اکبر روڈ، نئی دہلی[1]
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کراچی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ وکیل، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رام جیٹھ ملانی (14 ستمبر 1923ء – 8 ستمبر 2019ء)[2] بھارت کے ایک وکیل اور سیاست دان تھے۔ وہ وزیر قانون و انصاف، حکومت ہند اور بار کونسل آف انڈیا کے صدر نشین بھی رہ چکے ہیں۔ رام جیٹھ ملانی عدالت عظمیٰ کے سب سے مہنگے وکیل سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے کئی مقدمات میں یک طرفہ وکالت کی اور متعدد اہم مقدمات ایسے بھی رہے جن کی بنا پر انہیں شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رام جیٹھ ملانی نے محض 17 برس کی عمر میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرکے[3] تقسیم ہند سے قبل موجودہ پاکستان کے ایک قصبہ میں وکالت شروع کر دی تھی جو ان کا آبائی وطن تھا۔ ان کی پہلی شادی درگا جیٹھ ملانی اور دوسری شادی رتنا جیٹھ ملانی سے ہوئی۔[4] تقسیم کے بعد وہ ہجرت کرکے ممبئی آگئے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ وفات سے دو برس قبل 10 ستمبر 2017ء کو انہوں نے وکالت کے پیشہ سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔

چھٹی اور ساتویں لوک سبھا میں وہ ممبئی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے رکن پارلیمان تھے۔ اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں وہ وزیر قانون و انصاف بھی رہ چکے ہیں، البتہ بھارت کے انتخابات، 2004ء میں انہوں نے لکھنؤ لوک سبھا حلقہ سے اٹل بہاری کے خلاف ہی کوشش کی۔ 2010ء میں وہ پھر بی جے پی میں آئے اور راجستھان سے انہیں راجیہ سبھا میں بھیجا گیا۔ اسی وجہ سے انہیں موقع پرست بھی کہا جاتا ہے۔[5]

رام جیٹھ ملانی بھارت کے وکلا کے حلقوں میں ایک معروف نام تھا۔ ان کا اصل میدان فوجداری تھا مگر انہوں نے کئی ہائی پروفائل خانگی مقدمات کی بھی پیروی کی۔ 1993ء سے 1998ء تک وہ ان وکلا میں سے تھے جنہوں نے نرسمہا راؤ سود خوری معاملہ اور ہرشد مہتا معاملہ میں ہرشد مہتا کی وکالت کی۔[6] 7 مئی 2010ء کو انہیں سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن، بھارت کا صدر منتخب کیا گیا۔[7][8]

ذاتی زندگی[ترمیم]

رام جیٹھ ملانی کی ولادت برطانوی ہند کی بمبئی پریزیڈنسی کے صوبہ سندھ میں واقع شکار پور (موجودہ پاکستان) میں ہوئی۔[9] 13 برس کی عمر میں اسکول میں انہیں آگے کے درجہ میں بھیج دیا گیا اور 17 برس میں انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس وقت وکیل بننے کی کم از کم عمر 21 برس تھی لیکن ایک خصوصی درخواست کے تحت انہیں 18 سال کی عمر میں وکالت کی اجازت مل گئی۔[4] اس زمانہ میں سندھ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی اسی لیے انہیں ایل ایل ایم بھی بمبئی یونیورسٹی سے کرنا پڑا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Members Webpage – Rajyasabha"۔ Rajyasabha, Parliament of India۔ مورخہ 29 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 فروری 2013۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  2. "Ram Jethmalani, eminent lawyer and former Union law minister, passes away"۔ The Times of India (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-09-08۔
  3. "Ram Jethmalani's most candid interview on Modi, BJP and his sole ambition in life at 94}"۔ youtube.com۔
  4. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ timesofindia.indiatimes.com نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. "Archived copy"۔ مورخہ 22 جولائی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2010۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  6. "Will he walk away?"۔ India Today۔ 14 جون 1993۔ مورخہ 31 اکتوبر 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2016۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  7. "Jethmalani new SCBA president"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ 8 مئی 2010۔ مورخہ 14 مئی 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اگست 2010۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  8. Legally India۔ "Breaking: Ram Jethmalani elected as SCBA president to repair damage done"۔ مورخہ 12 مئی 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2010۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  9. "Top most Indian Lawyer: Sindhi Genius Of Indian Law : Ram Jethmalani"۔ The Sindhu World۔ مورخہ 27 دسمبر 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2013۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)