رام چندر نیل کنٹھ باوڑیکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام چندر نیل کنٹھ باوڑیکر
Ramchandrapant Amatya.jpg 

Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ بادشاہ شیواجی کے وزیر مالیات،
مرہٹہ سلطنت کے حکومت پناہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1650  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1716 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مذہب ہندو

رام چندر نیل کنٹھ باوڑیکر (1650ء – 1716ء) یا رام چندر پنت امتیہ چھترپتی شیواجی کے اشٹ پردھان منڈل میں سے ایک اور وزیر مالیات کے منصب پر 1674ء سے 1680ء تک فائز رہے۔[1] بعد ازاں وہ چار بادشاہوں سمبھاجی، راجا رام اول، شیواجی دوم اور سمبھاجی دوم کے حکومت پناہ رہے۔ ان کی کتاب ادنیہ پتر دیوانی و فوجی نظم و نسق کے موضوع پر مشہور تصنیف سمجھی جاتی ہے۔ خود رام چندر بھی مرہٹہ سلطنت کے عظیم دیوانی منتظمین، سفارت کاروں اور فوجی حکمت عملی کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔

رام چندر پنت وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سلسلہ وار پانچ چھترپتیوں کے تحت مرہٹہ سلطنت کی خدمت کی ہے۔ جب بھی مرہٹہ سلطنت کو خطرہ لاحق ہوتا وہ اپنی فہم اور بصیرت سے اسے حل کرتے، اگر سلطنت کی حفاظت کے لیے طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آتی تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

رام چندر پنت ایک دیشستھ برہمن خاندان میں سنہ 1650ء کے آس پاس پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام نیل کنٹھ سون دیو تھا جو نیلو سون دیو کے نام سے معروف تھے۔ نیلو سون دیو پہلے مقام محصولات کے محصل (کلکرنی) تھے، بعد میں شیواجی کے دربار میں وزیر ہو گئے۔

ان کا آبائی وطن کلیان بھیونڈی کے قریب واقع کولوان گاؤں تھا۔ رام چندر پنت کے دادا سونو پنت اور چچا اباجی سون دیو شیواجی کے بہت قریب تھے۔ نیز بہتکر خاندان شیواجی مہاراج کے روحانی پیر سمرتھ رام داس کا انتہائی مقرب تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نوزائیدہ بچے کا نام "رام چندر" سمرتھ رام داس ہی نے رکھا تھا۔

بقیہ زندگی[ترمیم]

سمبھاجی کی درخواست پر رام چندر پنت نے ادنیہ پتر تحریر کی جو دیوانی و فوجی نظم و نسق کے قوانین میں شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے اور مرہٹہ سلطنت میں اسے معیاری قانون کا درجہ حاصل تھا۔ اس کتاب کا موازنہ چانکیہ کی ارتھ شاستر سے کیا جاتا ہے۔

سنہ 1716ء میں رام چندر پنت نے چھیاسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی زندگی کی یادگاریں پنہالا قلعہ میں محفوظ ہیں اور ان کے ورثا اب بھی گگن باؤڑا قلعے کے قریب رہتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Shivaji, the great Maratha, Volume 2, H. S. Sardesai, Genesis Publishing Pvt Ltd, 2002, ISBN 81-7755-286-4, ISBN 978-81-7755-286-7
  • ‘Marathi Riyasat’ (Marathi) by Govind Sakharam Sardesai
  • 'The New History of Marathas' by Govind Sakharam Sardesai