رام کمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام کمار
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1924[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شملہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 14 اپریل 2018 (93–94 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش شملہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ اسٹیفنز کالج، دہلی
دہلی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصور، بصری فنکار، فن کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن 
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رام کمار (1924ء–2018ء) ایک بھارتی فنکار، مصنف اور تجریدی مصور تھے۔۔[3]۔ وہ بمبئ پروگریسو آرٹسٹس گروپ اور ایم ایف حسین، طیب مہتا، سید حیدر رضا جیسے بڑے مصوروں کے ساتھ منسلک رہے۔[4] ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ اولین بھارتی مصروں میں سے ایک تھے جنھوں نے تجریدی آرٹ کے لیے فن تشخیص (figurativism) کا استعمال کیا۔[5] ان کے فن پاروں کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ قیمت تھی۔ ان کا کام دی ویگا بونڈ (The Vagabond) کرسٹیسز نے ناقابل یقین 1.1 ملین ڈالر میں خریدا، جو فنکار کا مہنگا ترین فن پارہ ہے۔ وہان چند بھارتی جدیدیت پسند استادوں میں سے تھے، جو مصوری اور لکھنے میں ماہر ہیں۔[6] ان کے کنبہ میں ایک بیٹا ہے جو آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ مصوری کی دنیا میں ان کی ایک الگ پہنچان تھی۔ وہ اپنی بہترین اور اعلیٰ مصوری کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔[7]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

رام کمار ورما ریاستی دار الحکومت ہماچل پردیش کے شہر شملہ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے مزید 8 بھائی اور بہنیں تھیں۔[8] ان کے والد برطانوی دور کے پٹیالہ، پنجاب میں سرکاری ملازم تھے جنہوں نے برطانوی حکومت میں سول اور انتظامی ڈویژن میں کام کیا۔[9][10]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

رام کمار نے تجریدی آرٹ لینڈ اسکیپ، آئل یا ایکریلی سے بنائیں۔[11] وہ بمبئ پروگریسو آرٹسٹس گروپ کے ساتھ منسلک رہے۔[12]

رام کمار نے کئی ملکی اور غیر ملکی نمائشوں میں شرکت کی، بشمول 1958ء کی وینس باینیل (دو سالہ وینس)[13] اور فیسٹیول آف انڈیا جو اس وقت روس اور جاپان میں 1987ء اور 1988ء میں دکھائے گئے۔[14] رام کمار کو پدم شری اعزاز 1972ء میں[15] اور پدم بھوشن، بھارت کا تیسرا سب سے بڑا شہری اعزاز2010ء میں دیا گیا۔[16]

ذاتی زندگی[ترمیم]

رام کمار ممتاز ہندی شاعر، نرمل ورما کے بڑے بھائی اور کولونل، راج کمار ورما کے چھوٹے بھائی تھے۔ انھوں نے دہلی میں رہائش اختیار کی تھی۔

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://rkd.nl/explore/artists/231438 — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017
  2. یو ایل اے این - آئی ڈی: https://www.getty.edu/vow/ULANFullDisplay?find=&role=&nation=&subjectid=500122752 — بنام: Ram Kumar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — خالق: گیٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ
  3. Indian and foreign review (وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت ہند) 24: 20. 1986. آئی ایس ایس این 0019-4379. 
  4. "Progressive artist's group"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مارچ 2012۔
  5. "Ram Kumar artistic intensity of an ascetic"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مارچ 2012۔
  6. "Portrait of an Artist"۔ Outlook۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012۔
  7. http://www.sadatoday.com/معروف-مصور-رام-کمار-نہیں-رہے/
  8. "Biography"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012۔
  9. "ArtistInterview"۔ Saffron Art۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012۔
  10. "Nirmal Verma Obituary"۔ Rediff۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2012۔
  11. Rupika Chawla۔ Surface and depth: Indian artists at work۔ Viking۔ صفحہ 105۔ آئی ایس بی این 978-0-670-86174-3۔
  12. "Progressive artist's group"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2012۔
  13. Nancy Jachec۔ Politics and painting at the Venice Biennale, 1948–64: Italy and the idea of Europe۔ Manchester University Press۔ صفحہ 175۔ آئی ایس بی این 978-0-7190-6896-6۔
  14. K. S. Vishwambara۔ Movement in Indian art, a tribute۔ Karnataka Chitrakala Parishath۔ صفحہ 91۔ او سی ایل سی 62857926۔
  15. "Search Awardees"۔ My India, My Pride۔ National Informatics Centre۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2009۔
  16. "Doctors and artists in Delhi's Padma gallery"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 26 جنوری 2010۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2010۔

بیرونی روابط[ترمیم]