رانا بھگوان داس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رانا بھگوان داس
نگران منصف اعظم عدالت عظمی
عہدہ سنبھالا
4 فروری 2000 – 19 دسمبر 2008
پیشرو جسٹس جاوید اقبال
جانشین منصف اعظم افتخار محمد چودھری
جسٹس عدالت عالیہ سندھ
عہدہ سنبھالا
1994 – 3 فروری 2000
ذاتی تفصیلات
پیدائش 20 دسمبر 1942 (1942-12-20) ‏(73)
نصیر آباد, سندھ
قومیت Flag of پاکستان پاکستانی
مذہب ہندو

رانا بھگوان داس 20 دسمبر 1942ء کو نصیر آباد، ضلع قمبر شہداد کوٹ، سندھ میں ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ عدالت عظمی پاکستان کے نگران منصف اعلی رہ چکے ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

رانا نے قانون کے ساتھ اسلامیات میں ماسٹرز کیا۔

پیشۂ قانون اور عدلیہ[ترمیم]

رانا 1965ء میں بار میں شامل ہوئے۔ محض سال کی پریکٹس کے بعد 1967 میں عدلیہ کا حصہ بنے ، کئی سال سیشن جج کے طور پر فرائض انجام دیے۔ ءمیں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنےاور2000 ءمیں سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے ۔9 مارچ 2007 ءکو جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے بعد جسٹس رانا بھگوان داس کو پرویز مشرف نے قائم مقام چیف جسٹس تعینات کیا۔ اس دوران بھگوان داس پاکستان میں موجود نہیں تھے ۔ رانا بھگوان داس بھی ان دادگستروں میں شامل تھے جنہوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ اٹھانے سے انکار پر دیگر ججوں کی طرح انہیں بھی گھر میں نظر بند کردیاگیا ۔2007 میں برطرفی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا تھا کہ تمام برطرف جج آئین کی بحالی کے ساتھ ہی عہدوں پر واپس آ جائیں گے ۔ جسٹس رانا بھگوان داس 65 سال کی عمر میں عہدے سے وظیفہ حسن خدمت پر سبک دوش ہوگئے۔نومبر 2009 ءسے دسمبر 2012 ءتک جسٹس رانا بھگوان داس فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین بھی رہے ۔ نومبر 2014ءمیں جسٹس رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے کیلئےتمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اعتماد کا اظہار کیا تھا لیکن رانا بھگوان داس نے عہدہ سنبھالنے سے معذرت پیش کی ۔ جسٹس رانا بھگوان داس اعلی عدلیہ میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے جج تھے، وہ انتہائی اچھی شہرت کے حامل تھے اور اپنے پوری خدمت کے دوران ہمیشہ غیر متنازع ثابت ہوئے۔

انتقال[ترمیم]

رانا بھگوان داس کا انتقال 23 فروری 2015 ہؤا تھا۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]