رانا رتن سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رانارتن سنگھ (انگریزی: Rana Ratan Singh) عمرکوٹ کے حکمران تھے۔اُن کا تعلق راجپوتوں کے سوڈھا قبیلے سے تھا۔ انہوں نےراج برطانیہ کی جانب سےغریب لوگوں پرلگائےگئےناجائز لگان کے خلاف ایک بےمثل جدوجہد کی جوراج برطانیہ کی نظرمیں بغاوت ٹہری.وہ تھر کے صحراؤں چھپ کر راج برطانیہ کے خلاف اپنی کارروائیاں کرتا رہا مگر آخر کار اس کو پکڑ کر قید کر لیا گیا۔ اگرچہ ملکہ وکٹوریہ نےعلاقے کےبااثر لوگوں کی سفارشات پراس کو معاف کرکےآزاد کر دیا مگر رانا رتن اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا کہ غریب لوگوں پر سے اس غیر منصفانہ ٹیکس کا خاتمہ کیاجائےورنہ وہ انگریزوں کےخلاف کارروائیاں کرنے سےباز نہیں رہے گا. انگریزوں نےبھی رانا رتن سنگھ کےتیور اور اس کےدور رس اثرات کوسمجھتےہوئے غریبوں کےعظیم باغی کے انجام کو سندھ کےتمام لوگوں کےلئےایک عبرت کی مثال بنانےکا تہیہ کر لیا. انہوں نے عمر کوٹ کے مشہور قلعے کے بیچوں بیچ رانارتن کو پھانسی لگانے کے لیے پھانسی گھاٹ کی تیاری شروع کردی تاکہ تمام لوگ اس کےانجام کو دیکھ کر چپ چاپ ٹیکس دینے کے لیے تیار ہو جائیں. جب پھانسی گھاٹ تیار ہوا تو تمام آس پاس کےگاؤں میں اس بات کا اعلان کیا گیا اور رانا کو ان کے سامنے آہستہ آہستہ پھانسی گھاٹ کی اونچی سیڑھیاں چڑھا کرپھانسی کے پھندے کے نیچے کھڑا کیا گیااور آخری خواہش دریافت کی گئی جس پررانا نےاپنے بندھےہاتھوں کو کھولے جانے کا کہا. ہاتھوں کے آزاد ہوتے ہی اس نے انتہائی بااعتمادی سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر ان کی نوکوں کو اوپر کی جانب کیا. مونچھوں کو بل یا تاؤ دینا برصغیر کے لوگوں کا ایک ایسا انداز ہے جس سے اظہار کیا جاتا ہے کہ انسان کس قدر دلیر اور بے خوف ہے۔ یہ ایک انتہائی درجہ کی خود اعتمادی اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ راجپوت رانا رتن سنگھ سوڈھا کو اس دلیرانہ انداز سے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالتے دیکھ کر آزادی کا جذبہ غیر مرئی فتح کے احساس کے ساتھ ابھر کر سندھ دھرتی کی ہواؤں اور عوام میں میں پھیل گیا۔ اس انداز بے مثل نے ان کی روحوں کو غلامی سے نجات دلا دی. اس واقعہ پر سندھ کا مشہور لوک گیت ” مور تو ٹلے رانا “ تخلیق ہوا جس میں اس بے مثل تھرپارکر کے دلیر اور بہادر مور کی موت پر ماتم کر کے دکھ غم کا مرثیہ نہیں کہا گیا بلکہ یہ خوشی کا گیت ہے اور عموماً بچے کی پیدائش کے موقع پر گایا جاتا ہے۔ اس میں آنگن میں کھیلتے ننھے بچے کو برسات میں بھیگتے مور کے رقص سے تشبیہ دی گئی ہے اس گیت کے اہم بول میں ”ہزاروں رانا رتن جیسے دلیر اور بہادر بچے سندھ دھرتی پر پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ”رانا تومن راج تھیندا,لکھ تھیندا “کا مطلب بھی یہی ہے کہ رانا تمہاری ہی حکومت ہوگی اور تمھارے جیسے ہزاروں ہوں گے.یہ گیت تھر کے صحرائی ماحول کی خوشیوں کا حسین اور لازوال حصہ بن گیا ہےاور رانا رتن سنگھ سوڈھا کی بہادری اور غریبوں کے حق میں جدوجہد و قربانی کی یاد دلاتا ہے.

حوالہ جات[ترمیم]