رانی (اداکارہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رانی (اداکارہ)
Actress Rani and Director Hassan Tariq 1959.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 دسمبر 1946(1946-12-08)
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات مئی 27، 1993(1993-50-27) (عمر  46 سال)
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر حسن طارق
میاں جاوید قمر
سرفراز نواز
عملی زندگی
پیشہ اداکارہ
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تھا یقین کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی جیسے لازوال گیتوں کو اپنے رقص سے امر بنا دینے والی پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ رانی 8 دسمبر 1946ء کو ملک محمد شفیع اور اقبال بیگم کے گھر لاہور میں پیداہوئیں۔ رانی کا اصل نام ناصرہ تھا،ہدایتکار انور کمال پاشانے ناصرہ کورانی کے نام سے 1962ء میں اپنی فلم محبوب میں متعارف کرایا۔ کہتے ہیں ناکامی، کامیابی کی طرف پہلی سیڑھی ہوتی ہے اور یہ کہاوت اداکارہ رانی پر صادق آتی ہے۔ پاکستان کی دلکش اداکارہ رانی کو بھی پہلے پہل ناکامی کا منہ کئی بار دیکھنا پڑا یکے بعد دیگرے ان کی دس فلمیں بری طرح ناکام ہوئیں جس کی وجہ سے رانی پر بدقسمت اداکارہ کا ٹھپا لگ گیا۔ مگروحید مراد ان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوئے اور 1967ء میں ہدایتکار حسن طارق کی فلم دیور بھابی کی کامیابی کے بعد رانی کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اس فلم کا گیت اے رات بتا کیا ان سے کہے بہت مقبول ہوا۔ اس سے اگلے سال ہی ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم بہن بھائی ریلیز ہوئی جو سپرہٹ ثابت ہوئی، اس کے گیت جیسے ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی، نے تو مقبولیت کی تمام حدود کو عبور کر لیا۔ تاہم رانی کو بام عروم پر پہنچانے والی فلم 1970ءمیں ریلیز ہونے والی انجمن تھی جس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا۔ اس فلم کے تمام گیت انتہائی معروف ہوئے، جیسے اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے یا آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے ہو وغیرہ۔ اس کے بعد ان کی فلم تہذیب اور ان کی زندگی کی سب سے ہٹ فلم امراؤ جان ادا ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے گیتوں نے بھی تہلکہ مچایا، جیسے جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں، اس کے رانی کی یکے بعد دیگرے ان کی سپر ہٹ فلمیں آتی چلی گئیں، جن میں ایک گناہ اور سہی، بہارو پھول برساؤ، ناگ منی اور ثریا بھوپالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ رانی نے پنجابی فلموں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی، جن میں چن مکھناں سب سے نمایاں تھی، جس کا گیت چن میرے مکھناں آج تک مقبول ہے۔ فلموں میں بے انتہا کامیابی کے باوجود رانی ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی جس کا انہیں ہمیشہ افسوس رہا۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ انہیں کینسر جیسا جان لیوا مرض لاحق تھا،جس کے باعث وہ27مئی 1993 کو 46برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

حوالہ جات[ترمیم]