ربیعہ خاتون (مصنفہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ربیعہ خاتون
(بنگالی میں: রাবেয়া খাতুন ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1935  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بکرم پور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 جنوری 2021 (85–86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈھاکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Bangladesh.svg عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش (1971–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1935–14 اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (14 اگست 1947–دسمبر 1971)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بنگلہ اکادمی ادبی ایوارڈ
Ekushey Padak Ribbon.jpg اکوشی پادک
Independence Day Award Ribbon.jpg اعزاز یوم آزادی  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ربیعہ خاتون (ولادت: 27 دسمبر 1935ء - وفات: 3 جنوری 2021ء) [1] بنگلہ دیشی ناول نگار تھیں۔ [2] 2008ء تک انھوں نے 50 سے زیادہ ناول اور 400 سے زیادہ مختصر کہانیاں لکھیں۔ اس کی تخلیقات میں مضامین، ناول، تحقیق، مختصر کہانیاں، مذہبی تاریخ اور سفر نامے شامل ہیں۔ [3] ان کو بنگلہ اکیڈمی ادبی اعزاز 1973ء میں، ایکوشے پدک 1993ء میں اور یوم آزادی اعزاز 2017ء میں بنگلہ دیش کی حکومت سے عطا ہوا۔[4][5]

ربیعہ خاتون کا انتقال 3 جنوری 2021ء میں ڈھاکہ میں ان کی رہائش گاہ گلشن میں دورۂ قلب سے ہوئی۔ [1]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

ربیعہ خاتون کی پیدائش مولوی محمد ملوک چند اور حمیدہ خاتون کے ہاں دسمبر 27 1935ء کو بکرم پور بنگال پریذیڈنسی، برطانوی ہند (موجودہ منشی گنج ضلع، بنگلہ دیش) میں ہوئی۔[6][3] 23 جولائی 1952ء کو، انھوں نے فضل الحق (1930ء–1990ء) سے شادی کی۔ [7] وہ سنیما میگزین کے مدیر تھے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں بچوں کے لیے پہلی فلم صدر، کی ہدایت کاری کی تھی۔ [8]

ربیعہ خاتون ڈھاکہ کے شانتی نگر علاقے میں پلی بڑھیں۔ انہوں نے 1948ء میں ارمانیتولا اسکول سے داخلہ کا امتحان پاس کیا۔ [6]

ادارت[ترمیم]

ربیعہ خاتون نے خواتین میگزین میں کام کیا، جو جہاں آرہ امام شائع کیا کرتی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے ظہور ریحان کے ساتھ میگزین سنیما کے ادبی شعبے کی مدیرہ کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں وہ ماہانہ انگانہ کی مدیرہ بن گئیں۔ [3]

ربیعہ خاتون بنگلہ اکیڈمی کی کونسل ممبر تھیں۔ [6] وہ بنگلہ دیش قومی فلم اعزاز، بنگلہ دیش شیشو اکیڈمی، بنگلہ دیش ٹیلی ویژن کے نوٹن کوری کے جیوری بورڈ کی رکن تھیں۔

کاوشیں[ترمیم]

ربیعہ خاتون کی پہلی کہانی پرشنو ہفتہ وار جوگر دبئی میں شائع ہوئی۔ [3] ان کا ناول راجرباغ، بیگم میگزین میں شائع ہوا تھا۔ انہوں نے اپنا پہلا ناول مدھومتی 1963ء میں لکھا۔ [2] انہوں نے 1990ء میں بنگلہ دیش کی تحریک علاحدگی کے بارے میں اپنی کتاب ایکاٹور نوائے ماش لکھی تھی۔ [9] ان کے دو ناول، نیرسرایا اور لطف او اشوک ریبا ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔ [6]

ناول[ترمیم]

  • مادھومتی (1963ء)
  • پیر ایک شویت کپوٹی (دماغ ایک سفید کبوتر ہے، 1965ء)
  • اونونٹو اونویشا (لامتناہی تعاقب، 1967ء)
  • راجرباغ (1967ء)
  • صاحب بازار (1967ء)
  • فیراری سورجو (مفرور سن، 1975ء)
  • ونک جونر ایکجان (بہت سارے افراد میں سے ایک، 1976ء)
  • جیونر آر ایک نام دیبوس روزونی (1980ء)
  • بیانانو گولیر ایک گولی (1984ء)
  • باگانیر نام مالنکھارہ (اس باغ کا نام ملنکھارہ ہے)
  • ای بی بیہوکال (علیحدگی کا یہ وقت، 1995ء)
  • ای بھورا بدور مہ بھاڈور (1995ء)
  • پریا گلشنہ (محبوب گلشن، 1997ء) [2]

عکاسی[ترمیم]

ربیعہ خاتون کی کتاب سے ماخوذ فلموں میں کوکونو میگ کوکونو برشتی (2003)، میگھر پور میگ (2004) اور مدھوتی (2011) شامل ہیں۔ [10]

ذاتی زندگی[ترمیم]

ربیعہ خاتون ڈھاکہ کے رہائشی علاقے بنانی میں رہائش پزیر تھیں۔ [11] ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ فرید رضا ساگر (سن 1955ء) امپریس ٹیلی فلم لمیٹڈ اور چینل آئی کی موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ کیکا فردوسی (سن 1960ء) ٹیلی ویژن باورچی ہے۔ فرہاد رضا پروبال ایک آرکیٹکچر ہے۔ اور ایک بیٹی فرحانہ کاکولی ہے۔ [6][12][13]

اعزازات[ترمیم]

  • بنگلہ اکیڈمی ادبی ایوارڈ (1973)
  • ہمایوں قدیر میموریل ایوارڈ (1989)
  • ایکوشی پڈک (1993)
  • کمار مشتااری شاہیتہ پورشکر (1994)
  • لیکھاکا سنگھا ایوارڈ (1994)
  • ناصرالدین گولڈ میڈل (1995)
  • شیر ای بنگلہ گولڈ میڈل (1996)
  • جاسم الدین ایوارڈ (1996) [6]
  • شاپیل - ڈویل ایوارڈ (1996)
  • ورشیز شاہیتہ پیڈک (1998) [3]
  • اننیا لٹریچر ایوارڈ (1999) [14]
  • لیلی صمد ایوارڈ (1999)
  • ملینیم ایوارڈ (2000)
  • شیلٹیک ایوارڈ (2002)
  • یورو شیشو شاہیتہ ایوارڈ (2003)
  • مائیکل مدھوسن ایوارڈ (2005)
  • گیٹنجالی شمومونا پڈک (2015) [15]
  • یوم آزادی ایوارڈ (2017)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Novelist Rabeya Khatun no more". The Daily Star. 2021-01-03. اخذ شدہ بتاریخ 03 جنوری 2021. 
  2. ^ ا ب پ "80th birthday of Rabeya Khatun today". theindependentbd.com. 2015-12-27. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ "Rabeya Khatun and Syed Shamsul Haque turn 74 today". The Daily Star (بزبان انگریزی). 2008-12-27. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  4. "পুরস্কারপ্রাপ্তদের তালিকা" [Winners list] (بزبان بنگالی). Bangla Academy. 06 جون 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2019. 
  5. "স্বাধীনতা পুরস্কারপ্রাপ্ত ব্যক্তি/প্রতিষ্ঠানের তালিকা" [List of the names of personnel and institutions who won the Independence Day Award] (بزبان بنگالی). Government of Bangladesh. اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2019. 
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث "জন্মদিনে কথাসাহিত্যিক রাবেয়া খাতুনকে নিরন্তর শুভেচ্ছা". সমকাল (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  7. "ফজলুল হক স্মৃতি পুরস্কার পাচ্ছেন রাজ্জাক". প্রথম আলো (بزبان بنگالی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  8. "Fazlul Haque Memorial Award conferred". The Daily Star (بزبان انگریزی). 2014-10-27. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  9. "Rabeya Khatun's birthday today". theindependentbd.com. 2016-12-27. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  10. "আমি ষাটের দশকের মেয়ে". www.prothom-alo.com. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. [مردہ ربط]
  11. "Mitali recites for Rabeya Khatun". The Daily Observer. 2018-12-29. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  12. "Becoming a Household Name in بنگلہ دیش". The Daily Star (بزبان انگریزی). 2014-09-20. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  13. "এ সপ্তাহের সাক্ষাৎকার". BBC News বাংলা (بزبان بنگالی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  14. "আজ ৩ নভেম্বর" [Today is نومبر 3]. Jugantor (بزبان بنگالی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 
  15. "Geetanjali Lalitkala Academy to celebrate 11th founding anniv". www.observerbd.com. 2015-11-04. اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2019. 

بیرونی روابط[ترمیم]