رتن ناتھ سرشار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رتن ناتھ سرشار
Ratannath Sarshar.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1846  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 جنوری 1903 (56–57 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں فسانۂ آزاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پنڈت رتن ناتھ سرشار 1846ء میں لکھنؤ برطانوی ہندوستان میں میں ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابھی چار سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ لکھنؤ ہی میں تعلیم حاصل کی اور عربی، فارسی اور انگریزی سے واقفیت حاصل کی۔ ایک اسکول میں مدرسی کی خدمات پر مامور ہوئے اور (اودھ اخبار) اور (مرسلہ کشمیری) میں مضامین لکھنے لگے۔ اپنی خداداد قابلیت کی وجہ سے جلد ہی شہرت حاصل کرلی۔ اور 1878ء میں انہیں (اودھ اخبار) کا ایڈیٹر مقرر کر دیا گیا۔ فسانہ آزاد لکھنے کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔ کچھ عرصہ تک الہ آباد ہائی کورٹ میں مترجم کی حیثیت سے کام کیا۔ 1895ء میں حیدر آباد چلے آئے۔ مہاراجا کشن پرساد نے دو سو روپے وظیفہ مقرر کیا اسی دوران میں اخبار (دبدبہ آصفیہ) کی ادارت کرتے رہے۔ آخر عمر میں شغل شراب نوشی حد سے بڑھ گیا چنانچہ اس عادت نے صحت پر برا اثر ڈالا اور 1903ء میں وفات پاگئے۔ مشہور تصانیف میں سیرکوہسار، جام سرشار، کامنی، خدائی فوجدار، فسانہ آزاد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے الف لیلہ کا فصیح و بلیغ اردو زبان میں ترجمہ کیا جو بذاتِ خود ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]