رجب طیب ایردوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رجب طیب ایردوان
(ترکی میں: Recep Tayyip Erdoğan ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Recep Tayyip Erdoğan 2019 (cropped).jpg
 

مناصب
میئر استنبول   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
اپریل 1994  – 6 نومبر 1998 
رکن قومی اسمبلی ترکی   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
9 مارچ 2003  – 28 اگست 2014 
وزیر اعظم ترکی (328 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
14 مارچ 2003  – 28 اگست 2014 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد اللہ گل 
احمد داؤد اوغلو  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the President of Turkey.svg صدر ترکی (12 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
28 اگست 2014 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد اللہ گل 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 26 فروری 1954 (66 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاسم پاشا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت ملی سلامتی پارٹی (1970ء کی دہائی–1980)
رفاہ پارٹی (1983–1997)
فضیلت پارٹی (1997–1998)
جسٹس اینڈ ڈویلمپنٹ پارٹی (14 اگست 2001–)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ امینہ ایردوان (4 جولا‎ئی 1978–)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سمیہ ایردوان،  نجم الدین بلال ایردوان،  احمد براق ایردوان  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  ریاست کار،  سیاست دان،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان ترک  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترک  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
MDG National Order - Knight BAR.png قومی اعزاز مڈغاسکر (2017)
بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے خدمات اسلام  (2010)
Ord.Nishan-i-Pakistan.ribbon.gif نشان پاکستان  (2009)
Order of the Republic (Tunisia) - ribbon bar.gif نشان جمہوریہ
National Order - Knight (Niger) - ribbon bar.png قومی اعزاز نائجر
VEN Order of the Liberator - Knight BAR.png آرڈر آف دی لبرٹور
AZ Heydar Aliyev Order ribbon.png حیدر علییف اعزاز
Order of Mubarak the Great (Kuwait) - ribbon bar.gif مبارک الکبیر اعزاز  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Recep Tayyip Erdoğan signature.png
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رجب طیب ایردوان (ترکی: Recep Tayyip Erdoğan) (ترکی: [ɾeˈdʒep tɑjˈjip ˈæɾdo(ɰ)ɑn] ( سنیے)؛ پیدائش: 26 فروری 1954ء ) ایک ترک سیاست دان، استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکی کے سابق وزیر اعظم اور بارہویں منتخب صدر ہیں۔ رجب28 اگست2014ء سے صدارت کے منصب پر فائز اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (ترکی) (AKP) کے سربراہ ہیں جو ترک پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔

پیدائش[ترمیم]

26 فروری 1954ء میں استنبول میں ہوئی۔ان کے خاندان کا تعلق ترکی کے شمال مشرق میں واقع ریزا نامی شہر سے تھا۔

تعلیمی سفر[ترمیم]

ابتدائی تعلیم مدرسہ قاسم پاشا سے حاصل کی اور 1965ء میں وہاں سے فراغت حاصل کی۔اس کے بعد استنبول امام خطیب ہائی اسکول میں ماہرین سے تعلیم حاصل کی اور 1973ء میں میٹرک پاس کیا۔اسی طرح دیگر اضافی مضامین کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایوب ہائی اسکول سے ڈپلومہ کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد مرمرہ یونیورسٹی کے کامرس و اکنامکس کے شعبہ میں داخلہ لیا اور1981ء میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔

سیاسی جدوجہد[ترمیم]

رجب طیب اردوغان اپنی ابتدئی جوانی سے مضبوط اجتماعی اور سیاسی زندگی کی جدوجہد کی وجہ سے مشہور تھے۔ اور انہوں نے 1969ء سے لیکر 1982ء تک یعنی چودہ سال کے درمیانی حصہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ اجتماعی کام کے تجربہ کی روشنی میں سلیقہ عمل اور ڈسپلن سیکھا۔ چونکہ وہ ایک وسیع النظر اور روشن فکر جوان تھے اور پختہ یقین تھا کہ اپنے ملک و ملت کا بڑا فائدہ اس میں ہے کہ وہ سیاسی زندگی میں قدم رکھے، چنانچہ بڑے دھوم دھام اور متحرک صورت میں سیاسی زندگی میں داخل ہوئے۔

رجب طیب اردوغان 1983ء میں رفاہ پارٹی کی تاسیس کے ساتھ بڑی طاقت کے ہمراہ میدان میں اترے،اور 1984ء میں استنبول کے ضلع بایوغلو کی ایک تحصیل کے صدر بن گئے،پھر استنبول شہر صدر بن گئے،اور 1985ء میں رفاہ پارٹی کے مرکزی قرارداد کمیٹی کے رکن مقرر پائے۔ اسی عرصہ میں طیب اردوگان نے بڑے پیمانے پر کوششیں کیں ، خصوصاً جوانوں اور عورتوں کو سیاست کی طرف راغب کیا، اس دوران معاشرے میں سیاست کی ترویج اور قومی مفادات کے لیے اہم اقدامات اٹھائے اور یہی وجہ تھی کہ ان اقدامات کے نتیجے میں نئی تنظیم رفاہ پارٹی نے واضح برتری حاصل کی،اس پارٹی نے 1989ء میں ضلع بایو غلو کے لوکل الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کی،اور یہ ملکی سیاست میں قابل تقلید سمجھی جانے لگی۔27 مارچ 1994ء میں ہونے والے لوکل الیکشن میں رجب طیب اردوغان ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کے گورنر منتخب ہوئے۔ اس وقت استنبول کا شمار دنیا کے ان شہروں میں ہوتا تھا جہاں نہ امن قائم تھا اور نہ ہی ترقی تھی،،اس شہر میں جہاں پانی برقی کی قلت تھی ، وہیں کوڑا کرکٹ اور کچرے کا مسئلہ تھا ان جیسے بہت سارے بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے کا ایسا حل نکالا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے خوبصورت شہروں میں سے اسے ایک بنا دیا۔ اور1994ء سے 1998ء تک استنبول کے مئیر رہے۔

1997ء میں رجب طیب اردوغان نے سیرت شہر کے ایک جلسہ عام میں دوران خطاب ایک شعر ی مصرع پڑھا تھاجس کے الفاظ یہ تھے : گنبد ہماری جنگی ٹوپیاں ہیں ، مسجدیں ہماری فوجی چھاؤنیاں ہیں ، صالح مسلمان ہمارے سپاہی ہیں ،کوئی دنیاوی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ اس جلسہ عام کے عام کے بعد محض اس شعری مصرع کی وجہ سے 12 دسمبر 1997ء کو جیل جانا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں ترکی کے بڑے شہر استنبول کے گورنری سے معزول کر دیا گیا۔اور 2001ء میں عبد اللہ گل کے اتحاد میں جسٹس اینڈ ڈیولیپمنٹ پارٹی بنائی۔ لیکن شہر سیرت کے جلسہ عام کے مقدمے کی وجہ سے رجب طیب اردوغان نومبر 2002ء کے انتخابات میں امیدوار نہ بن سکے کیونکہ اس کی اہلیت کے بارے میں اسی مقدمے کی روشنی میں عدالتی حکم آیا تھا۔ اور پھر جب اس معاملے میں قانونی ترامیم ہوئیں تو انتخابی رکاوٹیں دور ہوئیں ۔ جس کے بعد 9 مارچ 2003ء کو جب رجب طیب اردوغان نے اسی سیرت شہر سے پارلیمانی امیدوار کے لیے انتخابات لڑا توپچاسی فیصد85% ووٹ حاصل کیے جس کی بدو لت وہ بائیسویں الیکشن میں سیرت شہر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے،اور 2003ء کے الیکشن میں وزیر اعظم بنائے گئے۔

2014ء میں ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات ہوئے ، اس سے پہلے پارلیمانی افراد کو یہ حق تھا کہ وہ ملک کے کے صدر کا انتخاب کریں ،اور اس پہلے ترکی کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اگست 2014ء کو ترکی کی قوم نے اپنے ووٹوں سے پہلی مرتبہ رجب طیب اردوغان کو جمہوریہ ترکی کا صدر منتخب کر لیا۔ اور 16اپریل 2017ء کو ترکی کے تاریخی ریفرنڈم انتخابات میں اکیاون اعشاریہ اکتالیس فیصد ٪51.41 ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کی ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی۔

اعزازات[ترمیم]

علاوہ ازیں جناب رجب طیب اردوغان کو جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اور جامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔ فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دار الحکومت تہران نے رجب ایردوان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔

اکتوبر 2009ء میں دورۂ پاکستان کے موقع پر رجب ایردوان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔ یہاں سے ترکی اور پاکستان کے تعلقات اور مضبوط ہوئے اور آج بھی ترکی اور پاکستان ایک جان دو قالب ہیں۔

اسرائیل کے خلاف رد عمل[ترمیم]

سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب ایردوان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب ایردوان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کیک جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب ایردوان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔

اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب ایردوان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔ اور وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترکی کے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

صدارتی نظام[ترمیم]

15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے۔ اس کے بعد رجب طیب اردوان نے ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ترکی میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کروایا جس کی کامیابی کے بعد ترکی میں اب صدارتی نظام رائج ہے۔ رجب طیب اردوان اسلام پسند ہیں بعض ذرائع کے مطابق حافظ قرآن بھی ہیں۔ وہ خلیفہ عبدالمجید ثانی کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور اردوان دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں (سوائے چین کے مظلوم اویغور مسلمانوں کے جن کی وہاں داڑہیاں مونڈ دی جاتی ہیں اور ان کی انگلیاں کاٹ کے مرتد ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، لیکن اردوان صاحب کے مطابق وہ وہاں بالکل خوش و خرم ہیں۔ لا حول ولا قوة الا با الله)۔ عام لوگ جو عالمی سیاست سے بالکل آشنا نہیں، ان کو لگتا ہے کہ طیب اردوان 6 اگست 2023ع میں معاہدہ لوزان (The treaty of Lousanne) کے ختم ہونے کے بعد خلافت عثمانیہ قائم کریں گے جس میں بہت سے اسلامی ممالک شرکت کریں گے اور مسلمان دوبارا خلافت عثمانیہ قائم کرکے اپنا عظیم مقام بحال کریں گے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ صرف ایک منگھڑت افواہ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ لوزان معاہدہ خلافت کی نشاة ثانیہ کے متعلق ہے ہی نہیں، فقط جمہوریہ ترکی کے متعلق ہے۔ دوسری بات یہ کہ آج کے دور میں کون سا مسلم ملک ہے جو بغیر مزاحمت کے اپنی حکومت توڑ کسی بیرونی طاقت کی اطاعت قبول کرلے؟ بلکہ امت تو قومی،نسلی اور لسانی سرحدوں کو قائم کر چکی ہے اور حکمران کبھی بھی اپنا اقتدار کھونا نہیں چاہیں گے۔ اپنے ملک کو ہی لے لیجیے، کیا آپ کو لگتا ہے ہمارے یہ نکمے مفاد پرست اور قومپرست لبرل سیاست دان اتنے غیرتمند ہیں کہ ان سے ایسی توقع رکھی جا سکے؟؟ ہرگز نہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/4808109 — بنام: Recep Tayyip Erdogan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000022729 — بنام: Recep Tayyip Erdogan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. https://brockhaus.de/ecs/julex/article/erdogan-recep-tayyip — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017