رحمان راہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد الرحمن راہی (پیدائش 6 مئی 1925 ، سری نگر ) ایک کشمیری شاعر ، مترجم اور نقاد ہیں۔ انہیں سن 1961 میں ان کے شعری مجموعے نوروز صبا کے لئے ہندوستانی ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ، 2000 میں پدم شری ، [1] اور 2007 میں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ، گیان پیٹھ ایوارڈ (2004 کے لئے) سے نوازا گیا تھا۔ وہ پہلا کشمیری ادیب ہے جس کو اپنے شعری مجموعہ سیاہ رود جیران منز (سیاہ بوندا باندی) کے لئے ہندوستان کے اعلی ترین ایوارڈ گیان پیٹھ سے نوازا گیا۔

رحمان راہی نے 1948 میں حکومت کے محکمہ پبلک ورکس میں کلرک کی حیثیت سے کچھ مہینوں کے لئے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور وہ ترقی پسند مصنفین ایسوسی ایشن سے وابستہ رہے ، جس میں وہ جنرل سکریٹری بنے۔ انہوں نے ترقی پسند مصنفین کی ایسوسی ایشن کے ادبی جریدے کوانگ پوش کے کچھ شماروں کی بھی تدوین کی۔ بعد میں وہ اردو روزنامہ خدمت میں سب ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے فارسی میں ایم اے کیا (1952) اور انگریزی میں (1962) جموں و کشمیر یونیورسٹی سے جہاں انہوں نے فارسی پڑھائی۔ وہ 1953 سے 1955 تک دہلی میں اردو روزنامہ اجکل کے ادارتی بورڈ میں رہے۔ وہ اپنے طالب علمی کے دور میں ہی کمیونسٹ پارٹی آف کشمیر کے کلچرل ونگ سے بھی وابستہ رہے تھے۔ مترجم کی حیثیت سے انہوں نے بابا فرید کی صوفی شاعری کا کشمیریوں سے اصلی پنجابی سے بہترین ترجمہ کیا۔ کیمس اور سارتر ان کی نظموں پر کچھ واضح اثرات ہیں جب کہ دینہ ناتھ ندیم کا ان کی شاعری پر اثر خاص طور پر پہلے کے کاموں میں بھی نظر آتا ہے۔ [2]

پیدائش: چھ مارچ 1925ء

تعارف[ترمیم]

مشہور کشمیری شاعر اور نقاد۔انگریزی، اردو اور کشمیری زبانوں کے ماہر تاہم ان کا زیادہ تر تخلیقی کام کشمیری زبان میں ہی موجود ہے۔

سوانح[ترمیم]

سرینگر کے ایک متوسط کنبے میں پیدا ہوئے۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی ایک کلرک اور بعد میں نامہ نگار کی حیثیت سے شروع کرنے والے رحمٰن راہی اُنیس سو ترپن میں لیکچرار تعینات ہوئے اور ترقی کرتے کرتے وہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری کے سربراہ بن گئے۔ بیاسی سالہ راہی انیس سو پچاسی میں ریٹائر ہو گئے جس کے بعد بھی وہ شعر لکھتے اور مشاعروں میں شرکت کرتے رہے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

راہی نے متعدد کتابوں پر تنقیدی تبصرے لکھے ہیں۔ انہوں نے کشمیری زبان کے رسم الخط کی بہتری میں بھی کافی کام کیا۔ ان شعری مجموعوں پر مشتمل درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ وہ ایسے پہلے کشمیری استاد ہیں جنہیں کشمیر یونیورسٹی نے پروفیسر ایماریٹس کا درجہ دیا۔

اعزازات[ترمیم]

مارچ 2007 میں ہندوستان کا معروف گیان پیٹھ ایوارڈ ان کو دیا گیا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے کشمیری ہیں۔

نمونہ کلام[ترمیم]

ان کی شاعری پر روزانہ ہلاکتوں اور ’ظلم و ستم‘ کا کافی اثر رہا۔ انہوں نے چند شعر بیان کیے جو حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کُس اوس کیازِ سہُ مورُکھ؟ تہِ لاش کوت کر ہس ہتس کتھس چھہ کُنی کتھ خبر ! تہ خاموش ترجمہ :( کون تھا اور وہ کیوں قتل کیا گیا؟ پھر لاش کہاں گئی سو باتوں کی ایک ہی بات نامعلوم! اور پھر خاموشی)

بیرونی روابط[ترمیم]

شائع شدہ کام[ترمیم]

راہی کے اہم کاموں میں شامل ہیں: [3]

  • ثناء وانی ساز (نظمیں) (1952)
  • سکھوک سوڈا (نظمیں)
  • کلام راہی (نظمیں)
  • نوروز صبا (نظمیں) (1958)
  • کہوٹ (ادبی تنقید)
  • کاشیر شارا سومبرن
  • ایزیچ کاشیر شایری
  • کاشیر نغماتی شایری
  • بابا فرید (ترجمہ)
  • صباء مولعت
  • فارمو زارطوشتیا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Padma Awards" (PDF). Ministry of Home Affairs, Government of India. 2015. اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2015. 
  2. "Jnanpith is for the Kashmiri language: Rahi". The Hindu. 11 March 2007. 13 مارچ 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2020. 
  3. http://www.greaterkashmir.com/Home/Newsdetails.asp?newsid=4960&Arch=Arch&issueid=171[مردہ ربط]سانچہ:Deadlink

بیرونی روابط[ترمیم]