رحمان عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رحمن عباس بھارت کے ایک اردو ناولنگار ہیں۔

ناول[ترمیم]

رحمن عباس کا پہلا ناول نخلستان کی تلاش 2004ء میں شائع ہوا جو بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہوئے فسادات ،بابری مسجد کی مسماری اورممبئی بم دھماکوں کے پس منظر اُس وقت کے نوجوانوں کے اندر جاری طوفان کو پیش کرتا ہے۔ اِس ناول پر 2005ء میں فحاشی کا مقدمہ درج ہوا تھا جو دس سال بعد 19 اگست 2016ء کو ختم ہوا۔ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی رحمن عباس کا دوسرا ناول ہے۔ نامور نقاد گوپی چند نارنگ نے اس ناول کو ایک ’ کثیر الجہات ناول‘ کہا ہے جبکہ وارث علوی نے ناول میں موجود ’ سینس آف ہیومر‘ کو سراہا ہے۔ 2011ء میں ’یونی ورسل سوسائٹی فار پیس اینڈ ریسرچ ‘ (اورنگ آباد) نے اِس ناول کو قومی اعزاز برائے ادب سے نوازا۔[1]

خدا کے سائے میں آنکھ مچولی رحمن عباس کا تیسرا ناول ہے جو 2011ء میں شائع ہوا۔ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی نے اس ناول کو فکشن کی بہترین کتاب کے انعام سے نوازا۔ ناول مزاحیہ انداز میں دقیانوسی سماج میں روشن خیال اور لبرل آدمی کی نفسیاتی الجھنوں کا سنجیدگی سے احاطہ کرتا ہے۔ اس ناول پر تفو یض انعام رحمن عباس نے 2015ء میں دِلی سے قریب دادری کے مقام پر محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل اور ملک میں ادیبوں اور سماجی مفکروں کے قتال پر ریاستی حکومتوں کے سرد رویے کے خلاف احتجاجاً واپس کیا۔

رحمن عباس کے یہ تینوں ناول ’تین ناول‘ کے عنوان سے 2013ء میں ایک ساتھ شائع ہوئے۔ ناولوں کے علاو ہ رحمن عباس نے مراٹھی مفکر سندیپ واسلیکر کی مشہور کتاب ’یکا دشے چا شودھ‘ کا اردو ترجمہ ایک سمت کی تلاش کے عنوان سے کیا ایک کو رائٹر کے ساتھ کیا ہے۔ رحمن عباس کے تنقیدی مضامین اکیسویں صدی میں اردو ناول اور دیگر مضامین کے عنوان سے 2014ء میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

روحزن رحمن عباس کا تازہ ترین ناول ہے جو فروری 2016ء میں شائع ہوا۔ یہ ناول بھارت اور پاکستان میں نہ صرف مقبول ہوا ہے بلکہ اس ناول کا شمار اردو ادب کے اہم ناولوں میں کیا جانے لگا ہے۔ ایک طرف گوپی چند نارنگ نے روحزن کو اردو ناول میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے تو دوسری طرف پاکستانی ادیب مستنصر حسین تارڑ نے اس ناول کو ایک بیباک تخلیقی بیانیہ قرار دیا ہے۔ روحزن کی اشاعت سے تا حال اس ناول پر ادب میں گفتگو جاری ہے۔ جرمن اسکالر الموٹ دیگنر اس ناول کو براہ راست اردو سے جرمنی میں ترجمہ کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ’روحزن‘ بہت جلدی انگریزی اور ہندی میں بھی شائع ہو رہا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]