رحمت الٰہی برق اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رحمت الٰہی برق اعظمی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1911
قومیت بھارتی

رحمت الٰہی برق اعظمی : (1911ء - 1983)، بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ اعظم گڑھ کے ان مشہور شاعروں اور ادیبوں کے جلو میں اُن کے زمانے ہی میں چند گمنام شعرا بھی یہاں کے آسمان شعر پر اپنی چمک دمک دکھا رہے تھے ان میں سے ایک باکمال شاعر رحمت الٰہی برق اعظمی تھے۔ برق تخلص فرماتے تھے۔

ادبی سفر اور تصانیف[ترمیم]

ابتدا میں حضرت شمشاد لکھنوی کے تلمیذ خاص منشی سالگ رام سالک کے دامن گرفتہ رہے اور اُن کے انتقال کے بعد نواب مرزا داغ دہلوی کے مشہور شاگرد حضرت نوح ناروی سے بھی مشورہ سخن کیا کرتے تھے۔ آپ کی تصنیف تنویر سخن فنون اور صنعتِ شاعری سے لبریز تصنیف مانی جاتی ہے۔

فنِ شاعری[ترمیم]

رحمت الٰہی برق اعظمی جنھیں جانشین داغ دہلوی حضرت نوح ناروی سے شرف تلمذ حاصل تھا دیارِ شبلی شہر اعظم گڈھ کے ایک صاحبِ طرز اور باکمال استادِ سخن تھے جو اپنی خوئے بے نیازی ،خاکساری اور زمانے کی نا قدر شناسی کی وجہ سے گوشہ گمنامی سے باہر نہیں آسکے جیسا کہ ان کے اس شعر سے ظاہر ہے۔

نا آشنائے حال ہے بیچارہ کیا لکھے ساکت قلم ہے میرے سوانح نگار کا

ان کی خوئے بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ

زحمت مشاعروں کی اٹھائے مری بلا وہ دے رہے ہیں داد غزل کہہ رہا ہوں میں
روحِ عروض جھوم رہی ہے بصد خوشی فن کر رہا ہے صاد غزل کہہ رہا ہوں میں

برق اعظمی کی شاعری ان کے فطری شعری و ادبی ذوق اور ذہنی و فکری آسودگی کا ذریعہ تھی جس کا وسیلۂ اظہار مقامی شعرو سخن کی محفلیں تھیں جن میں انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اپنی استادانہ مہارتِ زبان و بیان کے جوہر دکھائے ہیں اور ان کی شاعرانہ عظمت صرف فصیلِ شہر تک محدود رہی۔ زبان و بیان پر غیر معمولی تبحر اور قادرالکلامی کی وجہ سے ان کا اشہبِ قلم ہر میدان میں یکساں جولانیاں دکھاتا ہے لیکن ان کا جوہرِ امتیازی غزل اور قصیدے میں زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی غزلیں قدیم و جدید اسالیبِ سخن کا ایک خوشنما مرقع ہیں جن میں لطفِ زبان اور حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ بلند پروازیٔ خیال ،جدتِ ادا،تشبیہاتِ جدید، استعارات لطیف ،دروں بینی،وسعتِ نظر اور دقتِ فکر بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ انھوں نے طرزِ ادا میں بہت سی جدتیں کیں اور بیان کے نئے نئے اسلوب پیدا کیے اور ہر حال میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا۔ وہ ایک معمولی سی بات کو لیتے ہیں اور اپنی مخصوص طرزِ ادا سے اس ندرت پیدا کردیتے ہیں۔۔ ان کی غزلوں میں عشق و ذوق،شور و شوق ،نکتہ پردازی ،مضمون آفرینی،سلاست و شیرینی،واردات و واقعات،سوز و گداز اور درد و تاثیر کی فرا وانی ہے۔ اس نابغۂ روزگار استادِ سخن کے چند شعر ملاحظہ ہوں۔

قبلِ تحریر سرِ خامہ قلم ہوتا ہے تب کہیں عشق کا افسانہ رقم ہوتا ہے
ہے ماوارائے سخن برق گفتگو میری خموش رہ کے بھی اکثر ہے بات کی میں نے
بے نتیجہ ہیں کتابوں کی ورق گردانیاں ماجرائے عشق لفظوں میں بیاں ہوتا نہیں
آتشِ سیال کی صورت ہے رگ رگ میں لہو جل رہا ہوں سر سے پا تک اور دھواں ہوتا نہیں
کشتیٔ دل رکے جہاں ہے وہی ساحلِ سکوں منزل عمر ہے وہی نبض جہاں ٹھہر گئی
اف یہ کرشمہ سازیاں گردشِ روزگار کی فصلِ بہار آئی جب قوتِ بال و پِر گئی
محبت میں محسوس ہوتا ہے ایسا مرے دل کو جیسے کوئی مجھ کو چھینے
نئی افتاد پڑتی ہے ہمیشہ نیا دل روز لاؤں میں کہاں سے
دل لگانا بُرا ہے یہ مانا دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

با لآخر یہ قادرالکلام اور صاحبِ طرز شاعر 3،4 اکتوبر 1983 کی درمیانی شب میں 2 بج کر 10 منٹ پر اس احساسِ محرومی کے ساتھ کہ اُٹھ گئے گوہرِ مضموں کے پرکھنے والے کیجئے پیش کسے اب دُرِ دریائے سخن اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ مرکے ہم اے برق پائیں گے حیاتِ جاوداں ہے بقا کا پیش خیمہ اختتامِ زندگی

نمونہ کلام[ترمیم]

مر کے ہم اے برق پائیں گے حیاتِ جاوداں ہے بقا کا پیش خیمہ اختتام زندگی

مخصوص کلام[ترمیم]

؛ پنج گنچ

اللہ اللہ دلکشئی روئے انور اے خوشا جس نے دیکھا ہو گیا شیدا رسول اللہ کا
آسکا ہر گز نہ انسانوں کی آنکھوں کو نظر کثرت انوار سے سایہ رسول اللہ کا

؛مہملہ یعنی غیر منقوط

اہل دل محوِ سلام اہل ولا محوِ درود مائل و مداح دو عالم رسول اللہ کا
ظاہر و معصوم ا طہر مصدر مہر و کرم محرم اسرارِ مولا دم رسول اللہ کا

؛ فوق النقاط یعنی جس کے تمام نقطے اوپر ہیں

تم مسلماں ہو تو سُن لو قولِ احمد صاف صاف غافل از ذکر خدا دل ہو تو وہ کس کام کا
لمحہ لمحہ لحظہ رات دن شام و سحر ذکرِ حق ہر دم کرو مانو اصول اسلام کا

؛ تحت النقاط یعنی جس کے تمام نقطے نیچے ہیں

سچ جو پوچھو ہے وہ بے حد کامیاب و با مراد جب سرکارِ دوعالم سے جو دل معمور ہے
با ادب کو ہوگا حاصل آپ کا دیدار پاک بے ادب سے کہہ دے کوئی یہ کہ دلّی دور ہے

؛ روداد دل

دل مسلم ہوا گھر درد اور آلام کا اِس دم مدد سرکار دو عالم مدد سرکار دوعالم
دعا دو اس طرح آرام حاصل ہم کو ہو مولا عدو اسلام کا معدوم ہو، اسلام ہو محکم

نوٹ: اس نادر الوجود قطعہ کی چند خصوصیات ہیں وہ یہ کہ (1) غیر منقوط ہے (2) ہر مصرع میں گنتی کے 28-28 حروف ہیں (3) حروف کی نشست اس ترتیب سے رکھی گئی ہے کہ اگر ہر مصرع کا پندرہواں حرف ملا کر نیچے سے اوپر کو پڑھا جائے تو حضور سرور کائنات کانام مامی نکلتا ہے۔ جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہوگا-

حوالہ جات[ترمیم]