رحیم بخش سلطانی والا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رحیم بخش سلطانی والا گوجرانوالہ کا اپنے فن کا ماہر پہلوان جسے رحیم سندوریہ کہا جاتا تھا۔

  • رحیم بخش سلطانی والا گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے * قد تقریباََ 7 فٹ تھا اور وزن 300 پاؤنڈ کے لگ بھگ تھا۔ * اس زمانے میں اس کا سب سے بڑا حریف گاما پہلوان تھا۔ جس سے اس کا 4 مرتبہ مقابلہ ہوا۔ پہلی بار انکا مقابلہ 1902 میں جوناگڑھ کے مقام پر ہوا۔ رحیم کو گاما پہلوان کے اوپر واضح برتری حاصل تھی کیونکہ گاما پہلوان کا قد صرف پانچ فٹ اور سات انچ تھا۔ مقابلہ ایک گھنٹے تک چلا اور اس کے بعد مقابلے کو مساوی قرار دے دیا گیا۔
  • اسے مقابلے کے سلسلے کا اگلا مقابلہ 1906 میں ہوا دو گھنٹوں کی زور آزمائی کے بعد مقابلہ ایک بار پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔
  • کچھ مہینوں کے بعد دونوں پہلوان پھر سے لاہور کے مقام پر مد مقابل آئے۔ ایک بار پھر مقابلہ دوگھنٹوں تک چلا اور حسبِ روایت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔ ان کا چوتھا اور آخری مقابلہ 1910 میں الہٰ آباد کے مقام پر ہوا۔ ابتدائی طور پر رحیم نے "دھوبی پٹ" کا وار کیا لیکن جلد ہی اس کے سارے وار ناکارہ ہوتے چلے گئے۔
  • مختلف قسم کے داؤ پیچ آزمائے گئے۔ اڑھائی گھنٹوں کی کُشتی کے بعد رحیم کی پسلی ٹوٹنے کے بعد گاما پہلوان کو فاتح قرار دے دیا گیا۔ پسلی کی چوٹ کی وجہ سے رحیم کو 1918 میں گاما پہلوان کے بھئی امام بخش کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
  • متعدد گہرے گھاؤ لگنے کے باوجود رحیم پہلوان نے پہلوانی کے مقابلوں میں بہت سے پہلوانوں سے زیادہ لمبا عرصہ گزارا۔ اپنے آخری مقابلے میں جو وزیر آباد کے مقام پر 1936 میں ہوا، اس 72 سالہ پہلوان نے 28 سال کے کینیڈین نژاد پہلوان (ھڈسن)کو صرف تین منٹوں میں شکست دی۔گوجرانوالہ کا یہ دیو ہیکل پہلوان 1942ء میں اپنے آبائی قصبے میں وفات پا گیا۔
  • گوجرانوالہ میں آج بھی رحیم پہلوان کے نام سے وہ اکھاڑہ موجود ہے جہاں رحیم بخش کسرت کیا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو کسرت کرواتے تھے[1]

حوالہ جات[ترمیم]