عبد الرحیم سکندری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(رحیم سکندری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

مفتی عبد الرحیم سکندریاہل سنت کے بڑے علما میں شمار ہوتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

سندھ کے مشہور و معروف عالم دین مفتی عبد الرحیم سکندری بن الحاج فقیر محراب خان شر 27 رمضان المبارک بروز ہفتہ بوقت صبح پانچ بجے 1365ھ بمطابق یکم ستمبر 1944ء بمقام گوٹھ سیبانو خان شر، تعلقہ ٹھری میر واہ، ضلع خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

پرائمری تعلیم گوٹھ مولا بخش شر میں حاصل کرنے کے بعد مڈل تعلیم اپنے گاؤں کے نزدیک رسول پور ہائی اسکول میں حاصل کی۔

جامعہ راشدیہ میں داخلہ[ترمیم]

ناظرہ قرآن شریف سن 1955ء میں حافظ غلام قادر سے پڑھا اور اگست 1957 ء میں جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ میں ان کے دادا الحاج فقیر قادر داد شر نے انہیں داخل کروایا۔

دستاربندی[ترمیم]

27 رجب 1386ھ بمطابق 1966ء بروز جمعہ جامعہ راشدیہ سے فارغ التحصیل ہوکر دستار بند ہوئے۔ آپ کے استاد سندھ کے معروف عالم اور بزرگ انسان تھے۔ جنہوں نے اپنی علمی اور روحانی سند کی آپ کو اجازت دی۔ مفتی عبد الرحیم سکندری کی سند کا سلسلہ گڑھی یاسین کے بزرگوں سے ہوتا ہوا اور ہمایونی بزرگوں سمیت جاکر شیخ الہند عبدالحق محدث دہلوی سے ملتا ہے۔

اساتذہ کرام[ترمیم]

آپ کے استاد گرامی یہ ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد صاحبداد خان جمالی فقیر مفتی محمد صالح مہر شیخ الحدیث سید حسین امام اختر شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان قادری بریلوی شیخ النحو و الصرف علامہ کریم بخش میتلو علامہ مولانا عبد الصمد

بطور پیش امام تقرری[ترمیم]

1966 ء میں درگاہ شریف پیر جو گوٹھ کے حکم کے مطابق ان کے استاد مفتی محمد صالح مہر نے انہیں شاہ پور چاکر ضلع سانگھڑ کی غوثیہ مسجد میں پیش امام کے طور پر مقرر کیا۔

دینی درسگاہ کا قیام[ترمیم]

یکم محرم الحرام سن 1386 ھ بمطابق 1966ء میں صبغۃ الہدیٰ کے نام سے مفتی عبد الرحیم سکندری نے ایک دینی درس گاہ کی بنیاد ڈالی جو دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی مشہور دینی درس گاہوں میں شمار ہونے لگی۔ جہاں سے سندھ باسیوں نے قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، تصوف کو تعلیم حاصل کی۔ ان کی اس دینی درس گاہ سے ان گنت حافظ، عالم، صوفی، زاہد تیار ہوکر نکلے۔ آپ گذشتہ چالیس سال سے مدرسہ صبغۃ الہدیٰ غوثیہ مسجد شاہ پور چاکر میں درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تصنیف و تالیف، فتویٰ نویسی اور سکندری فیض کی بھرپور نمونے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر دینی خدمات پر خراج تحسین[ترمیم]

2009ء میں جامعہ الازہر قاہرہ کے عالم ڈاکٹر محمد خالد ثابت نے ایک کتاب‘‘ تاریخ الاحتفال بمولد النبی و مظاہرہ فی العالم’’ میں دنیا بھر کے پچاس ممالک کے مشہور عالموں کی دینی خدمات اور سیرت پاک پر کیے گئے کام پر روشنی ڈالی، پاکستان سے صرف ایک شخصیت مفتی عبد الرحیم سکندری کا نام اور ان کی زندگی کا مکمل احوال شامل کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مفتی عبد الرحیم سکندری کو سیرت پاک اور اسلامی تبلیغ کے لیے اپنی زندگی صرف کرنے والا ایک عظیم شخص قرار دیا۔ یہ کتاب قاہرہ سے دارالمقطم نے شائع کیا ہے۔

مدرسہ صبغۃ الہدیٰ کا جامعہ ازہر مصر کے ساتھ الحاق[ترمیم]

2011 ء میں دینی خدمات کو دیکھتے ہوئے قدیم اسلامی یونیورسٹی جامعہ الازہر قاہرہ مصر نے مفتی عبد الرحیم سکندری کے قائم کردہ مدرسہ صبغۃ الہدیٰ کو ستائش کے طور پر اپنی شاخوں میں شامل کرکے یہاں کے پڑھنے والوں کو جامعہ ازھر کی سند دی اور ہمیشہ کے لیے اس مدرسہ کو اپنے ساتھ الحاق کر لیا۔ اس طرح مدرسہ صبغۃ الہدیٰ سندھ کا وہ پہلا دینی ادارہ یا درس گاہ بنا جس کی سند کو جامعہ ازھر نے بطور اقبال تسلیم کیا۔ 2012ء میں جامعہ الازہر کے استاد ڈاکٹر مصطفیٰ ابوزید الازھری المالکی نے ایک کتاب بنام الاوائل الازھریہ ترتیب دی، جس میں پوری دنیا کی مشہور اسناد اور سلسلوں کو بیان کیا ہے۔ سندھ میں سے انہوں نے مفتی عبد الرحیم سکندری کی سند والے سلسلے سے مسلم، بخاری اور حدیث کی دیگر مشہور کتابوں کی روایت کی ہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ ابوزید نے مفتی عبد الرحیم کے پورے استادی سلسلے کو تفصیل اس کتاب میں بیان کیا ہے۔ علامہ مفتی عبد الرحیم سکندری تصنیف کے میدان میں بھی اپنا آپ منواتے ہوئے سندھ باسیوں تک قرآن اور سنت کا صحیح پیغام اور تصوف کی سچی روح پہچانے میں مصروف ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

ان کی یہ کتب یادگار ہیں۔ تفسیر کوثر شاہ مردان شاہ (تصحیح اور تحقیق)، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیف سکندری، سد سکندری، سیف یزدانی، تحفۃ المومنین، صحبت سپیرین جی، الفتح المبین، دیوبند دھرم ائین اہلسنت جا عقیدا اور روضے دھنی کا مسلک۔ آپ اس وقت فتاویٰ سکندریہ، افضلیت صدیق اکبر اور صحیح بخاری کا سندھی زبان میں جامع شرح لکھ رہے ہیں۔

سلطان الواعظین کا لقب[ترمیم]

آپ وعظ کے حوالے سے سلطان الواعظین، مناظر اسلام کے ساتھ شیر مصطفیٰ کے القاب سے بھی پوری سندھ میں مشہور ہیں جو انہیں سندھ کے عظیم اور ورحانی مشائخ اور گادی نشینوں نے ان کے دلپذیر اور علمی وعظ کو دیکھتے ہوئے دیے۔ انہیں سلطان الواعظین کا لقب درگاہ خلیل ساماری کے گادی نشین پیر محمد عرف آغا ابراہیم جان سرہندی فاروقی نے سندھ کے مشہور و معتبر عالموں اور گادی نشینوں کی موجودگی میں دیا۔

لائبریری[ترمیم]

مفتی عبد الرحیم سکندری عربی کتب کے عاشق اور مطالعہ کے انتہائی شوقین ہیں، ان کے شوق اور محنت کا مظہر ان کی عظیم الشان لائبریری ہے جو سندھ کی بڑی اسلامی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے وسیع مطالعے کی ایک مثال ان کی لائبریری میں رکھی ہوئی تقریباً تیس ہزار عربی کی کتب ہیں اور اکثر کتابوں کے شروع میں ان کے عربی میں حاشیہ لگے ہوئے نظر آئیں گے جو اس بات کے گواہ ہیں کہ لائبریری میں رکھے ہوئے تمام کتاب ان کی نظر اور مطالعہ سے نہ صرف گزرے ہیں بلکہ آپ نے ان کتابوں کا وسعت کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ اگر ان کے لگائے ہوئے حاشیوں کو یکجا کیا جائے تو فقہ، حدیث، سیرت، لغت، تصوف کی ایک ضخیم بیاض تیار ہوسکتی ہے۔ ان کی لائبریری میں شائع شدہ اور قلمی کتاب نہایت خوبصورت قرینے سے سجے ہوئے ہیں۔ مفتی عبد الرحیم سکندری کی لائبریری میں ڈیڑھ سو قلمی نسخے محفوظ ہیں۔ شائع شدہ کتابوں اور رسالوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب ہے۔ کتابوں کی ترتیب اس طرح سے ہے۔ تفسیر، حدیث، رجال، تاریخ، فقہ، فتاویٰ، تصوف، تذکرہ جات، وعظ اور مناظرہ وغیرہ۔ خاص بات یہ کہ اس کتب خانے میں عربی، فارسی، سندھی اور اردو زبان میں قرآن مجید کے پچھہتر نسخے موجود ہیں۔ ذاتی لائبریری کے حوالے سے یہ تفاسیر کا یکجا بڑا ذخیرہ ہے۔ خود مفتی صاحب کے دہائی کتاب چھپے ہوئے ہیں اور ادارہ صدائے وطن کی جانب سے تحقیق اور ترجمے کے بھی بہترین کتاب شائع ہوئے ہیں۔ اس لائبریری میں موجود ڈیڑھ سو قلمی نسخوں میں سے سندھ کے عالموں کے لکھے ہوئے منتخب کتابوں کے حروف تہجی کے اعتبار سے نام یہ ہیں۔ آداب المریدین، اصلاح مقدمۃ الصلوٰۃ، القول الانوار، بیاض واحدی، بیاض ہاشمی، تبیان الصواب، ترتیب الصلوٰۃ، جمال مصطفیٰ، جنۃ النعیم، حکایات الصالحین، حیات الصالحین، رسائل فی آخر الظہر، سراج المصلیٰ، شرح ابیات سلطان الاولیا، شرح فتح الفضل، صحبت نامہ، صراط الطالبین، فاکہۃ البستان، فتح القوی، القول الانوار، کشف الرین، مختصر فتاویٰ احمدی، مدح نامہ سندھ، مفتاح الصلوٰۃ، مکتوبات شریف روضے دھنی، ملفوظات شریف روضے دھنی، ملفوظات شریف رشید الدین شاہ، وصیۃ الہاشمیہ، ینابیع الحیٰوۃ الابدیہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفتی عبد الرحیم سکندری کی ایک صاحبزادی حافظ قرآن ہے اور ان کے دو فرزند معتبر اور محنتی عالم دین ہیں جن میں سے ایک مفتی نور نبی نعیمی سکندری ہیں جو بہترین عالم اور مدرس ہیں اور دوسرے مفتی حق نبی سکندری ازہری ہیں جو جامعہ ازہر مصر سے فارغ التحصیل ہیں اور جامعہ ازہر مصر سے ہی علم حدیث میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔

وصال[ترمیم]

آپ دل کی تکلیف کے سبب لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی میں زیر علاج تھے، جہاں ۲۹ مارچ ۲۰۱۸ عیسوی مطابق ۱۱ رجب المرجب ۱۴۳۹ ہجری بروز جمعرات صبح ۸ بجے اس جہان فانی سے دار بقا کی  جانب شہادت کا کلمہ پڑھ کر راہی عدم ہوئے انا للہ و انا الیہ راجعون۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • تاریخ الاحتفال بمولد النبی و مظاہرہ فی العالم
    • الاوائل الازھریہ*